انور عباس انورتازہ ترینکالم

غلام مصطفی جتوئی سے معذرت کے ساتھ

anwar abas  سابق نگران وزیر اعظم نیشنل پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین غلام مصطفی جتوئی کے فرزند اکبرخان غلام مرتضی خان جتوئی نے بھی اپنے باپ کی سیاسی وراثت کو مسلم لیگ نواز میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔قبل ازیں بابائے جمہوریت نو ابزادہ نصراللہ خان کے بیٹے نوابزادہ منصور احمدخاں اپنے باپ اور پاکستانی عوام بلکہ اگر میں یوں کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہعالمی سطح پر تسلیم شدہ بابائے جمہوریت کی ساری عمر کی کمائی ’’ پاکستان جمہوری پارٹی‘‘ کو تحریک انصاف میں ضم کر چکے ہیں۔ میرے خیال میں نوابزادہ منصور احمد خاں کے اس فیصلے سے بابائے جمہوریت کی’’ڈاکراں‘‘ نکل گئی ہوں گی۔اور وہ یقیننا سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی اولاد کی سیاسی تربیت نہ کرکے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔
ائر مارشل ریٹائرڈ اصغر خاں کی بات اور مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے ناتواں کندھوں میں اتنی ہمت اور سکت باقی نہ تھی کہ وہ ایک سیاسی جماعت کا بھاری بوجھ اٹھا سکتے۔جیسے محترمہ بیگم نصرت بھٹو اپنے جواں سال بیٹوں میر مرتضی بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کی ہلاکتوں کے بعد پارٹی چلانے کی ہمت کھو بیٹھی تھیں بالکل اسی طرح ائر مارشل اصغر خاں بھی اپنے لائق فائق اور تعلیم یافتہ بیٹے عمر اصغر خاں کی اندوناک موت کے صدمے سے اس قدر کمزور اور لاغر ہو چکے ہیں۔کہ انکے لیے سیاسی جماعت کے امور چلانے انتہائی مشکل تھے۔لہذا انہوں نے اپنی تحریک استقلال کو پاکستان تحریک انصاف کی آغوش میں دیدیا۔
مگر غلام مصطفی جتوئی کے فرزند اکبر اپنے باپ کی وراثت سے اتنی جلدی اکتا جائیں گے ۔اسکا مجھے خیال تک نہیں تھا اور نہ ہی میں نے ایسا سوچا تھا۔ غلام مرتضی جتوئی نے اس امر کا فیصلہ گو لاہور میں میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں کیا۔البتہ انہوں نے اتنی گنجائش باقی رکھی ہے کہ وہ اس ٖفیصلے کا باقعدہ اعلان سندھ واپس جا کر کریں گے۔شائد غلام مرتضی جتوئی اس امر کا جائزہ لینے کے خواہاں ہوں کہ آیا میاں نواز شریف ان کے ساتھ کیے گے وعدوں پر عمل کرتے ہیں یا محض انہیں خالی ’’ وعدوں کے لولی پاپ‘‘ پر ہی ٹرخانے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔
اسی طرح میں حیران ہوں کہ ڈیرہ غازی خاں کے سردار فاروق احمد خاں لغاری کے سیاسی جانشینوں سردار جمال خاں لغاری اور سردار اویس خاں لغاری بھی آزاد حیثت میں ارکان اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ نواز کا حصہ بن گے ہیں۔اور فاروق لغاری کے ان دونوں سپوتوں نے بھی اپنے باپ کے لیے بعد از مرگ کوئی راحت اور سکون کا سامان نہیں کیا۔عالم برزخ میں بیٹھے سردار فاروق لغاری اپنے بیٹوں کے مسلم لیگ نواز میں شمولیت کے فیصلے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ’’ پاکستان ملت پارٹی‘‘ کو اپنی زندگی میں ہی ختم کر کے اچھا فیصلہ کیا تھا۔ورنہ آج میرے یہ ذہین اور فطین فرزندان اسے بھی میاں نواز شریف کے قدموں میں پھینک دیتے۔
اس سے پہلے بھی بہت سارے تیس مار خانوں نے بڑے شوق سے اپنی الگ الگ پارٹیاں قائم کی تھیں۔جن میں مولانا محمد حیات خاں کوثر نیازی نے بھٹو صاحب کی حیاتی میں ہی جب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے عوام کے دلوں پر حکمرانی کر رہے تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی الگ جماعت’’پاکستان پروگریسو پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔مگر اپنے مقاصد کے حصﷺل میں بری طرح ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد 1993میں واپس پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور ہوگے۔
سابق شیر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر نے پہلے تو غلام مصطفی جتوئی کے ساتھ ملکر نیشنل پیپلز پارٹی کا سنگ بنیاد رکھا ۔پھر غلام مصطفی جتوئی سے علیحدہ ہوکر اپنی الگ نیشنل پیپلز پارٹی قائم کرلی۔لیکن جاگیر کا انتظام چلانا اور بات ہوتی ہے اور سیاسی جماعت کو لیکر آگے بڑھنا اور بات ۔خیر مصطفی کھر نے بھی اپنی این پی پی کو حرف غلط کی طرح سیاسی جماعتوں کی فہرست سے مٹا دیا۔سابق وزیر اعلی پنجاب جناب حنیف رامے مرحوم نے بھی اپنی ’’مساوات پارٹی بنا کر پاکستان کے عوام کی سمت درست کرنے کی اپنے تئیں سعی کی لیکن ان پر بھی یہ راز جلد ہی کھل گیا تھا کہ پارٹیاں بنانا تو آسان ہے مگر انہیں چلانا نہایت ہی مشکل کام ہے۔لہذا انہوں نے بھی اپنی ’’مساوات پارٹی ‘‘کو ختم کرکے واپس پیپلز پارٹی میں ہی پناہ لینا مناسب سمجھا تھا۔
کس کس کا ذکر خیر یہاں کروں فہرست بہت طویل ہے ان حضرات کی جنہوں نے بھٹو دشمنی اور بینظیر دشمنی میں پہلے تو بڑے شوق سے اپنیاں سیاسی جماعتیں قائم کیں مگر عوام میں پذیرائی نہ ملنے پر خو ہی اپنے ہاتھوں اپنی سیاسی جماعتوں کے پودوں کو جڑ وں سے اکھاڑ پھینکا۔
نوابزادہ نصر اللہ خاں سے لیکر غلام مصطفی جتوئی تک بشمول سردار فاروق احمد خان لغاری سب اپنی نیک بخت اولاد کے کرشموں سے بیزاری کا اعلان کر رہے ہوں گے۔اگر انکے بس میں ہوتا تو یہ تمام حضرات عالم برزخ سے کال کرکے اپنے ان بیٹوں سے کہہ رہے ہوتے ’’کہ شاباش ہمارے لائق بیٹوں!ہمیں تم سے یہ توقعات ہر گز نہیں تھیں۔ہم نے تمہارے لیے کیا کچھ نہیں کیا،مگر تم نے ہمارے دشمنوں کے قدموں میں ہماری برسوں کی محنت ڈھیر کر دی۔کیا تم اسمبلی میں اپنی پارٹی کی نشست یا آزاد حثیت میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔؟ تم اقتدار کے مزے لوٹنے میں اس قدر بے چین ہوگے کہ ہماری ناک تک کٹوا نے پر تل گے۔اور میں تو یہ بھی توقع رکھتا ہوں کہ اگر ان صاحبزادوں نے اپنے والدین کو جواب دیا ہوگا تو وہ یہ ہوگا۔’’ابا حضور ! ٓپ میں عقل کی کمی تھی کہ لیکن ہم نالائق اور کم عقل نہیں ہیں۔کہ محض ایک نشست کے لیے پوری پارٹی کا بوجھ اٹھاتے پھریں
غلام مصطفی جتوئی اور ملک غلام مصطفی کھر،کوثر نیازی،حنیف رامے اور سردار فاروق لغاری نے اپنی اپنی الگ سیاسی جماعتیں بے نظیر بھٹو شہیدکو کمزور کرنے اور اپنی طاقت دکھانے کے لیے قائم کی تھیں۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ان جاگیرداروں وڈیروں نے اتنا بڑا رسک اپنے ’’ اسٹبلشمنٹ‘‘ اور ’’ اقتدار کے اصل مراکز‘‘ مقتدرہ قوتوں کے اشاروں پر لیا تھا۔گویا یہ سب ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی علیحدہ علیحدہ مسجد بنا کر ذوالفقار علی بھٹو شہید کے خاندان کو ختم کرنے نکلے تھے ۔ لیکن آج خود در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔کوئی ان سب بے نظیر زدگان سے پوچھے کہ بھائی صاحب ! بے نظیر بھٹو کی جماعت تو آج بھی میدان عمل میں موجود ہے ۔لیکن آپ ہی منظر سے اوجھل ہو چلے ہیں۔غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی تو پھر بھی کچھ عرصہ نکال گئی ہے ۔لیکن سردار فاروق لغاری کی ملت پارٹی تو عوامی موڈ کا ایک جھٹکا نہ برداشت کر سکی تھی۔اسکی وجہ یہ ہے کہ سیاستدان بننے اور عوام کے دلوں میں بسنے اور ان کے دلوں پر حکمرانی کرنے کے لیے مال ،دولت اور جان کی قربانی دینی پڑتی ہے بصورت دئگر وہیں انجام ہوتا ہے ۔جو نوابزادہ منصور احمد خان، اغلام مرتضی جتوئی اور سردار فاروق احمد خاں لغاری کی سیاسی جماعتوں کا ہوا ہے۔ note

یہ بھی پڑھیں  امریکہ کا میانمارپرپابندیاں عائد کرنے پرغور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker