آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

غیر ملکی ایجنٹ اور پاکستان

خدائیداد اسلامی مملکت پاکستان میں موجودہ حالات اس قدر سنگین اور دلگیر بن چکے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آئے روز کیسے واردات ہو رہے ہیں ؟ اتنی تبائی کیسے پھیل رہی ہے ؟ حالات دن بدن بہتر ہونے کے بجائے خطر ناک ہو تے جا رہے ہیں ۔ یکے بعد دیگر حکومت صرف الیکشن سے پہلے نعرے بازی تک ہی کیوں محدود ہیں ؟ اقتدار سنبھالنے والے مزے کی نیند سو رہے ہیں اور ملک تندور کی برح جل رہا ہے ۔ کسی کو کوئی عبرت نہ کسی کو زرا سا بھی احساس ۔ پاکستان میں بہت سے دانشور وسیاست دانوں سمیت سیکورٹی ادارے بھی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان میں حالات خراب کرنے کے پیچھے کافی بیرونی ہاتھ ہیں ۔جن کے شوائد بھی کافی بار مل چکے ہیں ۔ چاہے وہ بلوچ یا پشتون معاشرے کی شکل میں ہو یا مہاجر و پنجابی کی شکل میں ۔ لیکن ملک میں کافی نا خوشگوار کاروائیوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔
اگر ایسی بات ہے تو پاکستان کو اُن کے خلاف اعلان جنگ کرنا چاہیے۔بیرونی ممالک کا اگر کوئی ثبوت ہاتھ آگیا تو سرخ آنکھ کے ساتھ سرخ ہاتھ بھی اُ نھیں دکھائی دینا چاہیے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں بہت غیر ملکی خفیہ اداروں کے اہلکار بار بار گرفتار ہوئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے بعد یہ واضع ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلاکر ملک کو کمزور کر کے اپنی مفادات کا راستہ ہموار کرنے کی سازش ہیں۔ ایک نہیں دو نہیں درجنوں کی تعداد میں غیر ملکی افراد پاکستان میں گرفتار ہوئے ہیں ۔ کاش کہ کسی ایک کو عبرت ناک سزا ملتی یعنی ٰ براہراست سر بازار چوراہے پر کوڑے مار مار کے اس کی جان لی جاتی تو کسی مائی کے لال میں ہمت پیدا نہ ہوتی کہ وہ پاکستان میں آ کر جاسوسی و حالات خراب کرنے کے بارے میں زرا بھی سوچتا ہے ۔ یہ ہماری کمزوری ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے مجرموں کو عزت و حوصلہ افزائی دے کر رہائی دی ہے ۔جس سے دوسروں کا راستہ ہموار و حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ اگر ریمنڈ دیوس جو کہ براہ راست قاتل تھا جس پر 18 کروڑ لوگ گواہی دینے پر تیار تھے اسی دن اُس کو پھانسی کی سزا سر عام ملتی تو جوئیل کاکس پیدا نہیں ہوتا نہ ہی کوئی اور موساد ، را، سی آئی اے ، بلیک واٹر و دیگر خفیہ اداروں کا اہلکار پاکستان میں رہتا ۔ سر عام قاتل کو باعزت بری کیا جاتا ہے اور سرکاری خزانے سے کھلایا پلایا اور پہنچایا جاتا ہے تو اس مہمان نوازی کو تو ہر ایک کا دل کرے گا۔ اس وقت پاکستان میں موساد ، را، سی آئی اے ، بلیک واٹر و دیگر غیر ملکی ایجنٹ پاکستان میں موجود ہیں کوئی این جی اوز کے نام پر تو کوئی فلاحی تنظیم کے نام اور کوئی سفارت کے نام پر پاکستان میں گوم رہے ہیں یہ بلوچستان میں بلوچ کی شکل میں ، سندھ میں مہاجر کی شکل میں ، پنجاب میں پنجابی شکل میں اور کے پی کے میں طالبان کی شکل میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں یہ میں نہیں بلکہ پاکستان میں بڑ ے بڑے دانشوراور سیکورٹی افسران تسلیم کرتے ہیں۔ جس طرح گزشتہ روز جوئیل کاکس ایف بی آئی امریکی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ گرفتار ہوا ہے۔
جوئیل کاکس جو گزشتہ روز پاکستان میں کراچی ایئر پورٹ سے اسلام آباد جا رہا تھا کہ چیکنگ کے دوران گرفتا ر ہوگیا اس کے پاس 15 نائن ایم ایم پستول کی گولیاں اور میگزین بر آمد ہوئے ہیں۔ جب اسے گرفتا ر کیا گیا تھا تو پولیس کو بہت دباؤ بھی موصول ہوا تھا ۔ پاکستان میں اعلیٰ حکام نے پولیس کو فوری کے اقدامات کے لئے ہدایت موصول ہوا ۔ یہ امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کا ایجنٹ ہے ۔ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان میں پولیس کو تین ماہ کی ٹریننگ کے لئے پاکستان آ یا ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کی کی طرح اس کی بھی رہائی جلدی ہوگی۔یہاں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا پاکستان کے پاس پولیس ٹرینرز نہیں ؟ یہ ایف بی آئی کا ایجنٹ پستول و گولیاں کیوں اٹھا کر گوم رہے ہیں ؟ امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کراچی میں بلکہ پاکستان میں کیا کر رہا ہے ؟ کیا ریمنڈ دیوس کی طرح یہ بھی کوئی امریکی مفاداتی مشن پر تھا؟ بد امنی سے دوچار ملک میں غیر ملکی ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں ؟
ریمنڈ ڈیوس بھی تو امریکا کا ہی ایجنٹ تھا جو خفیہ مشن پر پاکستان میں جاسوسی و کرداد اد کر رہا تھا ریمنڈ ڈیوس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دو پاکستانیوں کو قتل کر دیا تھا اور گرفتار ہونے کے بعد واویلہ مچ گیا اورلیکن ویت کے زریعے ریمنڈ ڈیوس کی بہت ہی جلد رہائی ہو گئی ۔ ایک مقتول کی بیوی نے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خود کشی کی تھی اور یہی بھی کہا تھا کہ ہمیں خون کا بدلہ خون چاہیے تھا ۔ اس بات کو دیکھا جاتا تو ویت ایک زبردسی قانون نظر آتا ہے ۔ خیر ریمنڈ ڈیوس کو امریکا نے چھڑا ہی لیا اور اسے افغانستان دوسرے مشن پر روانہ کر دیا ۔
ایک مرتبہ قصور میں بھی خفیہ اداروں نے کاروائی کر کے قصور سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’ را ‘ کے تین مبینہ ایجنٹ گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھارتی پاسپورٹس ، کرنسی، حساس تنصیبات فوجی جھاؤنیوں کے نقشے ، سرحد پر تعینات یونٹس کی تفصیلات اور اسلحہ چار اسٹین گن، پستولیں دیگر بر آمد کر لیا تھا ۔ گرفتار ہونے والے قصور کے رہائشی بن چکے تھے ان کی شناخت عمیر، کاشف اور شہزاد کے ناموں سے ہوئی تھی۔ بعد ازاں حساس اداروں نے اپنی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا بعد ازاں سے خبر بھی بے خبر ہو گئی۔
سندھ کے دل کراچی کے علاقے لیاری سے پولیس نے ایک کاروائی کے دوران مبینہ بھارتی جاسوس کو گرفتار کیا تھا ۔اس گرفتار ملزم کا تعلق بھارتی یو پی سے جبکہ سے بھارتی پاسپورٹ، کرنسی ، کراچی کے حساس علاقوں کے نقشے اور معلومات بر آ مد ہوا تھا ملزم کے قبضے سے پاکستانی جعلی شناختی کارڈ بھی ملا تھا جس پر شاہ عالم درج تھا ۔ یہ 1993ء میں پاکستان آیا تھا۔
15جنوری 2013ء کو لاہور سے اسرائیل کے ایجنٹ ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا تعلق زرائع سرائیکی بیلٹ سے بتا تے ہیں ۔ اس اسرائیلی ایجنٹ کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ملزم گوانتاناموبے میں ڈھائی سال تک قید رہا ہے جہاں اس کی برین واشنگ کی جاتی رہی۔ بعد ازاں اسے وہاں سے افغانستان بھیجا گیا تھا جہاں اسے دہشت گردی کی خصوصی تربیت دی گئی تھی اور اس کے بعد اسے پاکستان بھیجا گیا تھا۔جس کی عمر چالیس برس تھی اور انفارمیشن و ٹیکنالوجی میں ایم ایس سی کیا ہوا تھا۔ لاہور میں ایک کاروائی کے دوران ملزم کو لاہور کے پوش علاقے دیفنس سے گرفتار کیا گیا تھا تو اس نے شدیدمزاحمت کی تھی اور گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے خطرناک اسلحہ ،حساس مقامات کے نقشے لیپ ٹاپ کمپیوٹر بھی بر آمد ہو ا تھا ۔ وہ یروشلم میں موجود اپنے رابطہ کاروں کے ساتھ بزریعہ ای میل رابطہ کر کے اپنی کاروائیوں کے متعلق آگاہی دیتا تھا ۔اس کے تمام ای میل و تمام رابطے یروشلم سے تھے ۔ دوران تفتیش اس نے بتایا تھا کہ گوانتا نا موبے سے واپس لا کر افغانستان سر حدی اسپین بولدک کے قریب واقع گاؤں میں ’’ رازق پنچھیری‘‘ میں قائم ایک خصوصی ٹریننگ سینٹر میں دی گئی تھی یہ افغان انٹیلی جنس کے مقامی سربراہ کا گاؤں تھا جو پاکستان سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ یہ قائم شدہ سینٹر صرف اور صرف پاکستان میں ہی تخربی کاروائیوں اور پاکستان کی تبائی کے لئے قائم کیا گیا تھا ۔جس کی براہ راست سربرائی انڈین قونصلیٹ کرتا تھااور اس سینٹر میں ’ موساد ‘ کے اہلکار پاکستانی بھٹکے ہوئے لوگوں کو لاکر پاکستان دشمنی اور تخربی کاروائیوں کا تربیت دیتے تھے ۔یہ پشین بلوچستان کا شہر آمدورفت کے لئے استعمال کیا کرتے تھے ۔ اس کیمپ میں 250 سے زائد پاکستانی زیر تربیت تھے۔ 9جولائی کو چناب کے کنارے فوجی کیمپ پر فائرنگ ، 12 جولائی کو اچھیرہ لاہور میں خیبر پختون جیل پولس کے اہلکاروں کے قتل کے سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ اور یہ اب تک کم از کم 200 سیکورٹی اہلکاروں کو اپنے مہارت کی وجہ سے قتل کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کو بھاری رقم ’ موساد ‘ فراہم کرتی تھی ۔ اور اس نے مزید بتا یا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس اور را بھارتی انٹیلی جنس مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کئی منصوبوں پر کام کر رہیں۔ بحرحال دوستوں ! پاکستان میں حالات خراب کرنے کے پیچھے امریکا ، اسرائیل اور بھارت سمیت افغانستان کا بھی کافی ہا تھ ہے یہ حکومت و افواج کی قابلیت ہوگی کہ ان سے پاکستان کو کیسے چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ ایک دانشور کا رائے ہے کہ ان ممالک کے ساتھ وقتاََ فوقتاََ میلی آنکھ دکھا کر ان پر کافی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ساتھ ساتھ گرفتار ملزموں کو عبرت ناک سزا کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ ملک میں امن و امان خراب کرنے والے ہاتھ کمزور پڑھ جائیں تو ملک کے لئے بہتر ہوگا ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button