احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

غیر ضروری ۔۔ای میلز اور ایس ایم ایس!!

آج کل اشتہارات کو ای میلز کے ذریعے پھیلانے والی اشتہاری کمپنیاں باقائدہ طور پر وجود میں آ چکی ہیں۔ جو کہ انتہائی کم نرخوں پر یہ آسان سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ ۔۔ای میلز چیک کرنے کے لیئے جیسے ہی میل باکس کھولا جاتا ہے تو اس میں کوئی سو دو سو سے زیادہ ایسی ای میلز ہوتی ہیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہوتا ۔مختلف قسم کی غیر معیاری پراڈکٹ کو رنگ برنگے لیبل لگا کر دیدہ زیب بنانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ۔ بھولی بھالی عوام کو لوٹنے کے ہزار ہا کلیے آزمائے جاتے ہیں۔ ایسی ایسی کمپنیوں کے نام ظاہر کیئے جاتے ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کا وجود ہو گا بھی تو اُس کی ساکھ کے بارے میں ہم لوگ بالکل کورے ہوتے ہیں۔ بہت سے صارف اس طرح کی کمپنیوں کے ہاتھوں لٹ بھی چکے ہیں کیوں کہ جو چیز اُنہیں دکھا کر پیسے بٹورے جاتے ہیں وہ اصل میں ہوتی نہیں جس کا پتا بعد میں چلتا ہے۔۔۔۔ اس طرح کی فضول اور غیر ضروری ای میلز دیکھ کر ضروری میلز بھی پڑھنے سے رہ جاتی ہیں۔ بہت سے چاہنے والے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیئے ای میل کے ذریعے حوصلہ افزا ئی کرتے ہیں جس کے بدلے میں اُن کی محبت کا جواب دینا بھی تو فرض بنتا ہے۔ ورنہ وہ تو یہی سمجھ بیٹھیں گے کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی تو ہوئے ہیں کالم لکھتے ہوئے اور جناب کے تو تیور ہی بدل گئے ہیں۔ آنکھیں ایسے سر پر رکھ لی ہیں جیسے سرخاب کے پر لگ گئے ہوں۔ ہماری خصوصی طور پر کی گئی چاہت بھری ای میل کا جواب دینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ چلو نہیں کرتے تو نہ سہی ہمیں بھی اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ۔اس طرح ایک ایک کر کے ہم اپنے چاہنے والوں سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ۔۔۔صرف ای میلز کا ہی رونا نہیں یہاں تو ایس ایم ایس بھی کچھ اسی نوعیت کے ہوتے ہیں کہ دن بھر آمد آمد رہتی ہے۔ کبھی کسی ٹیوشن سینٹر کی طرف سے محدود مدت تک کا رعائتی پیکج تو کبھی کسی ٹینکی صاف کرنے والے کا اعلان۔ کسی نے نئی نئی دہی بھلے کی دوکان کھولی ہو تو وہ بھی اس سستے اشتہاری پیکج کا فائدہ اُٹھانا غنیمت سمجھتا ہے۔ اور پھر یہ ایک ہی بار نہیں بلکہ بار بار اشتہاری میسج آتے رہتے ہیں جن کو دیکھ کر ایک عجیب سی کوفت ہوتی ہے۔ ای میل اڈریس اور موبائل نمبر نہ جانے یہ لوگ کہاں سے لے لیتے ہیں اس بات کا PTA کو نوٹس ضرور لینا چاہیے تا کہ اس غیر ضروری آفت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ ایل میلز کی طرح بہت سے اہم لوگوں کے ایس ایم ایس بھی پڑھے بغیر ڈیلیٹ ہو جاتے ہیں۔ ۔۔ بٹ صاحب میرے بڑے اچھے دوست ہیں اُن کو بھی مجھ سے یہی گلہ ہے کہ میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ بیٹھا ہوں اور اُن کی کسی ای میل کا یا ایس ایم ایس کا جواب دینا اپنی توہین سمجھتا ہوں۔ ابھی کل ہی وہ میرے ہاں تشریف لائے اور آتے ہی مجھ پر برس پڑے اور خوب لگے مجھے سُنانے۔ کہنے لگے کہ پچھلے تین دن سے تجھے ای میل کر رہا ہوں میسج اس لیئے نہیں کر سکا کیونکہ موبائل سروس بند تھی اسی لیئے مجھے اپنی مصروفیات چھوڑ کر تمہارے پاس خود چل کر آنا پڑا۔ بتا تو میری ای میل کا جواب کیوں نہیں دے رہا تھا!۔۔۔ بتا!۔۔۔ جواب دے!۔۔۔ اب چپ کیوں ہے؟۔۔۔ ابے بول!۔۔۔۔ میں اُن کے منہ کو دیکھ رہا تھا اور وہ نان سٹاپ بولے جا رہے تھے ۔ اُن کی آواز سن کر محلے والے بھی جمع ہو گئے۔ ایک میرا ہمسایہ تو پولیس کو فون کرنے ہی والا تھا کہ میں نے جلدی سے اُس کے ہاتھ سے اُس کا موبائل پکڑا اور چیخ کر کہا کہ یہ اپنے بٹ صاحب ہیں ۔۔۔ مجھ سے لڑ نہیں رہے بلکہ اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ۔۔ آپ لوگ جائیں۔۔۔ ایسی ویسی کوئی بات نہیں ۔ یہ میرے دوست ہیں میرے بھائی ہیں۔ان کا مجھ پر غصہ بالکل بجا ہے۔۔۔میں نے بٹ صاحب کا ہاتھ پکڑا اور اُنہیں اندر لے گیا ٹھنڈے پانی کے پونے تین گلاس پلائے پھر اُن سے اپنی غلطی کی معافی طلب کی اور ساتھ ہی اپنا ای میل اکاوئنٹ کھول کر اُن کو ان باکس پر پوری 257 ای میلز دکھائیں اور اُن سے عرض کی کہ آپ مجھے بتائیں کہ میں اتنے قلیل وقت میں یہ ساری کی ساری ای میلز کیسے پڑھ سکتا ہوں اور ان میں سے کس کس کو جواب دے سکتا ہوں۔ بٹ صاحب میرا ان باکس دیکھ کر بالکل بھی حیران نہیں ہوئے بلکہ دانت نکال کر کہنے لگے ان میں سے جو میری ای میل ہے اُس کا تو جواب دے دیتے۔

یہ بھی پڑھیں  امریکی ڈرون حملہ، تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker