شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / پبلک ٹرانسپورٹ میں گیس سلنڈر یا بم ؟؟

پبلک ٹرانسپورٹ میں گیس سلنڈر یا بم ؟؟

چند روز قبل اوکاڑہ سے لاہور جاتے ہوئے دیکھا کہ اوکاڑہ کا ایک ضلعی آفسیر ٹویوٹا ہائی ایس وینز میں گیس سلنڈرز چیک کر رہا تھاموصوف اس طرح اپنی ذمہ داریوں میں مگن نظر آئے جیسے وہ عوام کی جان کے تحفظ کے لئے مرے جا رہے ہیں ایسے ہڈ حرام آفیسر ہر ضلع میں تعینات ہیں ہر مین شاہراہ،انٹر سٹی اور لنک روڈ ز پر ایسی ویگنیں مکھیوں کی طرح بھنبنا رہی ہوتی ہیں جن میں انتہائی غیر معیاری،ناقص اور مقررہ تعداد سے زائد گیس سلنڈر مسافروں کی سیٹوں نیچے لگے ہوتے ہیں،اب تک صرف گیس سلنڈرز پھٹنے کے سینکڑوں واقعات رونما جن میں ہزاروں افراد راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں جن کی شناخت ہی نہ رہی کہ مرنے والا یہ کون ہے؟اس کا تعلق کس گھرانے سے ہے؟وہ کیسا خوش شکل تھا؟کتنا قابل تھا؟کس کس کی کفالت اس کے ذمہ تھی؟بس سب کچھ اجڑ جاتا ہے مگر پبلک ٹرانسپورٹ کی فٹنس،گیس سلنڈرز کا معیار اور مقررہ تعداد سے زائد سلنڈر اتروانے یا چیک کرنے والے افسران جنہیں بد نما اور گھٹیا کرداروں سے تشبیع بھی دی جائے تو کم ہے، در حقیقت اس واقعہ سے ایک روز قبل موٹر وے پر اسلام آباد ٹول پلازہ میں سرگودھا سے راولپنڈی جانے والی ٹویوٹا وین تیز رفتاری یا ڈرائیور کو اونگھ آجانے کی وجہ سے تول پلازہ کے بوتھ سے جا ٹکرائی بس وین کا ٹکرانا ہی تھا کہ آگ کے شعلے بلند ہو گئے جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ جلا کر خاکستر کر دیا تھااس المناک حادثہ میں 12قیمتی جانیں جل کو کوئلہ بن گئی تھیں،6دن بعد اتوار کے روز لاہور راولپنڈی جی ٹی روڈ پر سوہاوہ میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے قیام کا افتتاح ہوا،سوہاوہ کی فضا یونورسٹی کے قیام کی وجہ سے انتہائی خوشگوار تھی کہ عالم چوک گوجرانوالا سے ایک وین رات 8.50پر راولپنڈی جانے کے لئے16سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی،سوہاوہ سے کچھ پہلے ہی ترکی ٹول پلازہ کے قریب وین تیز رفتاری کے باعث آگے جانے والے کنٹینر سے پیچھے سے جا ٹکرائی،گیس سلنڈر رکھنے والی گاڑیوں کا کسی سے ٹکرانا ہی موت کا پیغام ہوتا ہے جیسے ٹکر ہوئی گیس سلنڈر پھٹ جاتے ہیں،موڑ وے پر ہی چکری کے قریب ستمبر2017کو الصبع اسی طرح کی ایک وین سیمنٹ سے لدے ٹرک سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجہ میں 4بچوں سمیت 14افراد شعلوں کی نذر ہو گئے،اگر ایسے حادثات کی تفصیلات بیان کی جائیں توجگہ نہیں ملے گی ویسے بھی سینکڑوں ایسے سانحات کو کیسے لکھا جائے،پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت شرمناک حالت سے بھی بہت آگے کے مقام پر ہے،لوگ رل جاتے ہیں،اڈوں پر،سڑکوں پر دھکے کھاتے اس قوم کے مقدر میں ہر معاملے میں دھکے ہی تو ہیں،ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں، بد تمیز عملہ،اوور لوڈنگ،من مرضی کے کرائے اور سٹاپ پرسٹاپ، ہر سٹاپ پر بھتہ خوری،ٹوٹی اور خستہ حال سڑکیں،بے ہنگم ٹریفک،رشوت خور ٹریفک پولیس،(اب تو لاہور سمیت دیگر شہروں میں تعینات ٹریفک وارڈنز کی اکثریت بھی دھڑلے سے رشوت لے رہی ہے اور الراقم یہ بات ہوا میں نہیں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہے)،فٹنس چیک کرنے والوں کو منتھلی پہنچ جاتی ہے،ان پڑھ اور ٹریفک قوانین سے نابلد،ناواقف ڈرائیور، ہر جگہ،ہر مقام پر عام ہیں،رشوت سے پاک ہماری موٹر وے پولیس کو بھی پہلے کی نسبت بڑی حد تک شاہراؤں پر اونگھ آ چکی ہے،اوپر تین واقعات کا ذکر کیا گیا تینوں جگہ مقامات پر ہی موٹر وے پولیس تعینات تھی،عام ٹریفک پولیس کا تو کام ہی متعین کردہ مقامات پر ناکے لگا کر مال پانی اکٹھا کرنا ہے اور جو نہ دے اس کا چالان،حیرت تو اس بات کی بھی ہے کہ ایک اوور لوڈ بس یا کوئی اور پبلک ٹرانسپورٹ جس میں موٹروے پولیس کا کوئی اہلکار طمطراق سے بیٹھا ہو اسے کچھ نہیں کہا جاتا،کسی پولیس آفیسر کی کال،نام یا کارڈز پر بھی جان چھوڑ دئی جاتی ہے،پاکستان بھر کی تمام سڑکوں پر گیس سلنڈروں سے لدی یہ پبلک ٹرانسپورٹ خودکش بمباروں سے ب ھی خطرناک ہے مگر آج تک انتہائی قیامت خیز حادثات کے باوجود سے سابقہ اور موجودہ حکومت بالکل اندھی ہیں ہیں،ذرہ تصور کریں ہنستے مسکراتے مسافرجب گھر بتا رہے ہوں گے کہ ہم کدھر پہنچ چکے ہیں،دوستوں سے ٹیلیفونک گپ شپ کر رہے ہوں گے،منزل پر جانے کے لئے لمحہ بہ لمحہ کبھی موبائل پر کبھی ہینڈ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوں گے تو اچانک ہیبت ناک آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائیں تب ان کی بے بسی کا کیا عالم ہو گا؟وہ چیختے چلاتے لمحہ بہ لمحہ راکھ میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں آگ کی صورت میں موت انہیں اس طرح نگلتی ہے کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہیں رہتی،ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 8سال سے سالانہ 9سے10ہزار ٹریفک حادثات رونما ہوتے ہیں اور یہ وہ حادثات ہیں جو کسی طرح رپورٹ ہو جاتے ہیں باقی تعداد تو ان اعدادو شمار سے بھی کہیں زیادہ ہے،پاکستان میں جس طرح لوٹ مار اور کرپشن کا کلچر جوانی پر ہے اسی طرح ٹریفک حادثات بھی عروج پر ہیں،شاید ہی کوئی دن ہو جس روز ملک بھر میں کوئی نہ کوئی اہم حادثہ رونما نہ ہوتا ہو اتنی اموات کے باوجود حکومت کا،اس حوالے سے قائم کردہ اداروں کا کردار اور بے حسی،عدم توجہ،ان کی روک تھام کے لئے اقدامات سے صرف نظر انسانی سوچ کے ہی متصادم ہے،اچھی اچھی گاڑیوں اور وہ بھی مفت،پٹرول مفت،میٹیننس مفت،ڈرائیور مفت،بھلا انہیں کیا علم کہ عام آدمی سڑکوں پر کیسے کیسے جھلس رہے ہیں کیسے کیسے بے بسی میں کوئلہ بن رہے ہیں،حکمرانوں کچھ خدا کا خوف کریں پہلے ہی مہنگائی اور فاقہ کشی جیسے تمہارے قوم کے لئے تحفے کم ہیں جو تمہار ا ایسے المناک واقعات کی جانب بھی نہیں جاتا،یائی ایس وینزکا شمار دنیا بھر میں خطرناک ترین بپلک ٹرانسپورٹ میں ہوتا ہے بدقسمتی سے یہی فرسودہ اور جان لیوا بپلک ٹرانسپورٹ پاکستان میں سب سے زیادہ ہے،پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کسی بہتر پالیسی کی اشد ضروت ہے،پہلے سے تعمیر شدہ شاہرائیں جو کھنڈرات کا عکس ہیں کو بہتر بنایا جانا اولین تقاضا ہے اور گیس سلنڈرز رکھنے والی ٹرانسپورٹ کرایہ پٹرول کی شرح سے وصول کرتی ہے لہٰذا تمام گاڑیوں بالخصوص ہائی ایس وینز سے گیس سلنڈرز فوری اتروائے جانے کا قانون پاس کیا جائے انہیں چیک کرنے والوں پر بات چھوڑی گئی تو شعلوں کی نذر ہونے کا سلسلہ کبھی نہیں تھم سکے گا،یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے اس کے ذمہ داران،ڈرائیور،مالکان،متعلقہ روڈ پر ڈیوٹی پر اس کے مامور پولیس اہلکار،جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی ایسی واردات ہو اصرف ڈرائیور کی بجائے ان تمام ذمہ داران کو کٹہرے میں لا کر سخت سے سخت سزا دی جائے تبھی اس دہشت گردی کا تدارک ممکن ہے،

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ،سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی جائے گی

error: Content is Protected!!