تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

گلی گلی میں شور ہے

mrs. jamshaidوزیر اعظم میاں نواز شریف کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر سے کئی نئے سوال پیدا ہو گئے ہیں گلف سٹیل 1973میں دبئی میں قائم کی گئی جبکہ سعودی عرب میں فیکٹری 2005میں قائم کی گئی نواز شریف کا دعوی ہے کہ ان کے صنعتی اداروں نے پندرہ برس میں دس ارب کا ٹیکس دیا جب کہ انہوں نے انفرادی طور پہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے ٹیکس دیا نواز شریف فیملی نے اپنے 19صنعتی اداروں کے لیے 90کی دہائی میں اپنے عہدے کا ناجائز اثرو رسوخ استعمال کر کے قومی مالیاتی اداروں سے چھ ارب چودہ کروڑ روپے حاصل کیے اور یہ رقم وہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک لے گئے اس رقم سے آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک انتہائی قیمتی جائیدادیں خریدیں ۔نواز شریف کے مطابق انہوں نے دبئی میں قائم گلف سٹیل مل اپریل 1980میں 33.37ملیئن درہم یعنی نو ملیئن ڈالر میں فروخت کی اور نواز شریف کے بقول ان کے صاحبزادے حسین نوازنے دبئی والی فیکٹری کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے سعودی عرب میں ایک سٹیل مل قائم کی جو انہوں نے 2005میں 64ملیئن ریال یعنی سترہ ملیئن ڈالر (تقریباً ڈبل قیمت )میں فروخت کر کے اس رقم سے 2006میں پارک لین لندن میں چار فلیٹس لیے حالانکہ 2006میں پارک لین لندن میں چار فلیٹس کی قیمت سعودی عرب کی سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے کئی ہزار گنا زیادہ تھی لہذا بقیہ رقم کہاں سے آئی ؟اس انکم کے ذرائع کیا تھے؟حقیقت یہ ہے کہ حسین نواز نے 2005میں سعودی عرب میں چھوٹی سٹیل مل فروخت کر کے اسی سال 2005میں جدہ کے انڈسٹیریل ایریا ’’الخمرہ‘‘ میں قائم کی گئی جس کے مینیجنگ ڈائریکٹرحسین نواز شریف کے مطابق مذکورہ Hill Metals Estنہ صرف سعودی عرب بلکہ مشرق وسطی کی سب سے بڑی صنعتی ایمپائر ہے اس کے لیے فنڈز کب کہاں سے اور کیسے آئے ؟اور اس انکم کے ذرائع کیا تھے؟نواز شریف نے پارک لین کے فلیٹ نمبر a 12جو حسن نواز نے جو20جنوری2004کو خریدااس کا ذکر کرنا نواز شریف بھول گئے یہ بات تو دستاویزات سے ثابت ہوتی ہے کہ پارک لین کا پہلا فلیٹ یکم جون 1993اسی آف شور کمپنی نیلسن کے ذریعے خریدا گیا اور دیگر تین فلیٹ 1995 اور1996کو برٹش ورجن آئی لینڈ اسی آف شور کمپنی نیلسن کے ذریعے خریدے جس کا نام پانامہ لیکس کے ذریعے منظر عام پر آیاہے دوسری جانب یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق التوفیق انویسٹ منٹ فنڈز کے کیس میں 1999میں شریف فیملی نے مذکورہ فلیٹس کو گروی رکھ کر
32ملیئن ڈالر کی رقم ادا کی لہذا اس ٹھوس ثبوت کے بعد نواز شریف کی بات کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ پارک لین کے فلیٹس 2005میں
سعودی عرب کی سٹیل مل کی فروخت کے بعد 2006میں خریدے گئے دوسری جانب ان کے صاحبزادے حسن نواز برطانوی نشریاتی ادارے BBCکو انٹر ویو کے دوران اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ 1993سے پارک لین کے فلیٹس میں مقیم ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ کرائے پر رہ رہے ہیں اور سہ ماہی کرایہ آتا ہے اب یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اگر وہ کرائے پر رہتے تھے تو کرائے نامہ کا معاہدہ پیش کرنا ہوگا اور 1993سے لے کر 2006تک کرایہ کون ادا کرتا رہا ؟کس کو ادا کرتا رہا؟رقم پاکستان یا سعودی عرب سے برطانیہ کیسے پہنچتی رہی؟ اور آمدن کے ذرائع کیا تھے ؟نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز ان فلیٹس کی ملکیت کا اعتراف کر چکی ہیں جب کہ معروف برطانوی اخبار The Independent20اکتوبر1998اور The Guardianچوبیس نومبر 1999کو پارک لین فلیٹس شریف فیملی سے منسوب کر چکا ہے دوسری جانب نواز شریف 18ستمبر 1998کو انہی پارک لین کے فلیٹس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بذات خود اعتراف کر چکے ہیں کہ یہ فلیٹس جس میں وہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں ان کی ملکیتی ہیں جبکہ وزیر داخلہ چودھری نثاراور مسلم لیگی رہنما صدیق الفاروق اے آر وائی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں اینکر کاشف عباسی کے سوال کے جواب میں پارک لین کے فلیٹس کا شریف فیملی کے ملکیتی ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ 1996 میں ان ہی فلیٹس میں ہی جاتے رہے ہیں اور نواز شریف شہباز شریف سے ملتے رہے ہیں (پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی میں نواز شریف کی تقریر کے دوران چودھری نثار نے ڈیسک نہیں بجایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ میاں صاحب جھوٹ بول رہے ہیں )نواز شریف نے بتایا کہ وہ سعودی عرب مل لگانے اور پارک لین فلیٹس خریدنے کے حوالے سے ایک پیسہ بھی پاکستان سے لے کر نہیں گئے تو ان کو بتانا ہو گا کہ ان کے پاس یا ان کے بیٹوں کے پاس اتنی رقم کہاں سے آئی ؟نواز شریف اور حسن نواز کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ30مارچ2016ون ہائیڈ پارک لندن کی پراپرٹی کے لیے ساڑھے بیالیس ملیئن ڈالر یعنی چھ ارب بتیس کروڑ روپے سے زائد کی رقم کہاں سے آئی؟کیونکہ حسن نواز کے برطانیہ میں جمع کروائے گئے ریٹرنز کے مطابق تو 2013سے لے کر 2015تک ان کی کمپنی ’’ فلیگ شپ انویسٹمنٹ لیمٹڈ‘‘ کے اکاؤنٹس میں مجموعی رقم پانچ ہزار 811 پاؤنڈ تھی جب کہ کمپنی کا سالانہ خسارہ اوسطاً پانچ لاکھ پاؤنڈ اور تین سالوں کی مجموعی Liabilitiesکی مالیت پندرہ لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ بنتی ہے اگر نواز شریف یہ پیسے پاکستان سے لے کر نہیں گئے تو بتایا جائے کہ ان جائیدادوں کے لیے انہوں نے پیسہ کہاں سے کمایا؟کیونکہ جب یکم جون 1993کو پارک لین کا پہلا فلیٹ آف شور کمپنی نیلسن کے ذریعے خریدا گیا تو اس کے لیے پیسے پاکستان سے کیسے باہر گئے کیونکہ اس وقت تو حسن نواز زیر تعلیم تھے اور انکی عمر سترہ سال تھی جب نواز شریف وزیر خزانہ بنے انکی ایک فیکٹری تھی جن کی تعداد وزارت اعلی کے دور میں بڑھ کر 9فیکٹریوں تک پہنچ گئی اور پہلے وزارت عظمی کے دور ختم ہونے تک صنعتی یونٹوں کی تعداد تیس تک پہنچ چکی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس خاندان نے صرف پندرہ سالوں میں ٹیکس دیا ان کی آمدن اور اثاثوں کی مالیت تو کھربوں میں ہونی چاہییجب کہ دوسری جانب شریف خاندان نے 90کی دہائی میں جو چھ ارب چودہ کروڑ روپے ملکی بینکوں سے قرضے لیے جو انہوں نے دسمبر 2014میں اتفاق فاؤنڈری کی زمین کی فروخت سے ادا کیے یہ کھربوں روپے کی رقم کہاں سے آ گئی؟کیوں کہ ٹیکس گوشواروں میں تو کھربوں روپوں کی آمدن و اثاثوں کی تفصیلات نہیں نواز شریف کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اپریل 1980میں دوبئی میں فروخت کی گئی گلف سٹیل مل کی رقم وہ پاکستان کب اور کیسے لائے؟اور اس رقم کو سعودی عرب کب اور کس ذریعے سے لے کر گئے؟کیا اس رقم کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا؟شریف فیملی نے یہ رقم بیرون ملک کب اور کیسے منتقل کی ؟اس کی شریف فیملی کو تفصیلات بتانا ہونگی۔یہاں پر ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ایف بی آر لاہور آفس نے وزیر اعظم نواز شریف سے اپنے بیٹے سے ترسیلات زر وصول کرنے اور اسے آگے خاندان میں بطور تحفہ تقسیم کرنے کے حوالے سے وضاحت مانگ لی ہے تفصیلات کے مطابق ایف بی آر لاہور کے یونٹ ون زون تھری کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف کو پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے پانچ روز بعد آٹھ اپریل کو نوٹس بھیجا گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ نوٹس کا جواب دیا گیا یا نہیں 2011میں نواز شریف کے ایک بیٹے کی جانب سے 12کروڑ 93لاکھ روپے کی ترسیلات زر وصول کیں ان میں سے تین کروڑ سترہ لاکھ روپے اپنی بیٹی مریم نواز کو اور ایک کروڑ چورانوے لاکھ روپے اپنے دوسرے بیٹے کو بطور تحفہ دیے قانون کے مطابق تحفہ ایک مروجہ طریقے کے مطابق ہی دیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کراس چیک یا بینکنگ چینل کو استعمال کیا جاتا ہے ۔بارہ رکنی ٹیم کی جعل سازی ریکارڈ میں تبدیلی سے نواز شریف اور پھنس گئے ہیں وزیراعظم کے سمدھی جو منشی کے نام سے جانے جاتے ہیں نے بارہ رکنی ٹیم کے ذریعے دن رات ایک کر کے ایف بی آر کے ریکارڈ میں ردوبدل کے علاوہ کچھ جعلی لیٹر بھی تیار کیے گئے ہیں جن کو بنیاد بنا کر ایف بی آر کا ریکارڈ تبدیل کیا گیا اس دوران ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ایف بی آر سٹاف کے علاوہ عام افراد بالخصوص میڈیا نمائندوں کے داخلے پر پابندی رہی تاکہ اس معاملے کی خبر کسی طرح بھی لیک نہ ہو اسحاق ڈار کی ٹیم کو ریکارڈ میں ردوبدل کرنے اور پنکچر لگانے میں بارہ رکنی ٹیم کو ایک ہفتہ سے زائد عرصہ لگا تاہم ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وقتی طور پر نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ اس تبدیل شدہ ریکارڈ کے باعث وہ احتساب سے بچ گئے ہیں جبکہ وہ حقیقت میں پہلے سے بھی زیادہ دلدل میں دھنس گئے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی غیر جانبدار ادارہ یا اتھارٹی ان جعلی کاغذات اور اعداد و شمار کا موازنہ متعلقہ اداروں ،بینک ٹرانزیکشنزاور افراد کے ریکارڈ سے کیا جائے گا تو اصل حقیقت اور جعل سازی کھل کر سامنے آ جائے گی اس اقدام کے باعث نواز شریف اور ان کی فیملی کے لیے اب صرف پاکستان میں ہی نہیں برطانیہ،دوبئی،سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں مشکلات کا سبب بن جائے گا۔
آج قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران عمران خان نے اپنا فوکس معاشی اور اقتصادی صورت حال پہ رکھا اور یہ بات بھی سچ ہے کہ مسلسل کرپشن نے معاشرہ تباہ کر دیا ہے جب ملکی سربراہ اخلاق کی اس پستی پر پہنچ چکے ہیں تو پھر ہم اداروں اور عام افراد سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں عمران خان اس سلسلے میں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا عندیہ دے چکے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دے کر کہا کہ میرا احتساب بھی نواز شریف کے ساتھ ہی کیا جائے ۔میاں صاحب نے جو فارمولا اپنی طرف سے چیف جسٹس کو تیار کر کے دیا تھا اس سلسلے میں مجھے ایک کہانی یاد آ رہی ہے گامے کا تعلق ضلع گجرات کے ایک گاؤں سے تھا اس کے متعلق مشہور تھا کہ اس نے کبھی جوتا خرید کے نہیں پہنا جب بھی اسے جوتے کی ضرورت پڑتی وہ اریب قریب کے کسی گاؤں سے جوتا چوری کر آتا پھر یوں ہوا کہ وہ اپنے گاؤں میں ہی یہ کام کرنے لگا کبھی مسجد سے کبھی کسی کی بیٹھک سے کبھی پڑوسیوں کے جوتے چوری کرتا کبھی کھیتی باڑی سے تھک ہار کے سوئے کسانوں کے چوری کر لیتا آخر لوگوں نے تنگ آ کر گاؤں کے چودھری سے رجوع کیا چودھری نے گامے کو طلب کر لیا کہ گامے تم پر جوتے چوری کرنے کا الزام ہے گامے نے بڑی معصومیت سے اپنی صفائی میں کہا چودھری جی اگر یہ بات ہے تو پھر جوتے ہی کیوں پانی چوری،بیج چوری مویشی ڈنگر چوری پر بھی پنچایت لگائیں چودھری نے کہا کیوں نہیں ان جرائم پر بھی بات ہوگی لیکن یہ فی لحال جوتے چوری کی بات کر رہے ہیں گامے نے کہا اگر جوتے چوری کی ہی بات کرنی ہے تو پھر چند مہینے ہی کیوں 1947سے جب سے یہ گاؤں بسا ہے تب سے جوتے چوروں کی تحقیقات کی جائے اور جب وہ مکمل ہو جائیں تب پھر میرے خلاف پنچایت بلائی جائے چودھری نے یہ سن کے کہا کسی کھوتی کے پتر اگر 1947سے تحقیقات شروع کیں تو تمھاری سات نسلیں ختم ہو جائیں گی لیکن تحقیقات ختم نہیں ہو سکیں گی یہ کہہ کر چودھری نے اسے ایک گندی سی گالی دے کر سامنے آنے کو کہا جو کچھ اس چودھری نے گامے کو کہا تھا وہی کچھ تقریباً سپریم کورٹ نے میاں صاحب کو بھی جوڈیشنل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس پر کہہ دیا ہے بس ذرا الفاظ کا فرق ہے انداز اور مطلب وہی ہے جو چودھری کا تھا گامے کو جوتے چوری کا حساب دینا ہی ہوگا ورنہ گلی گلی میں یہ شور مچا ہی رہے گا حکمراں طبقے کو وقت کی یہ آہٹ پہچان لینی چاہیے!

یہ بھی پڑھیں  بیوہ و مطلقہ خواتین کی اجیرن زندگی!

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker