شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / گالی اورنالی

گالی اورنالی

پاکستان کاالمیہ” بدعنوان” سیاستدان نہیں بلکہ” نادان” ووٹرز ہیں جو کئی دہائیوں سے اپنی محرومیوں پر کڑھنے کے باوجود سدھرنے کیلئے تیار نہیں،ان کے ” ووٹ” منتخب نمائندوں کیلئے” نوٹ” بن جاتے ہیں۔”سیاسی جہالت ”نے ہماری ریاست کو راہ راست پر نہیں آنے دیا۔ہمارے ووٹرکو اپنے ووٹ کی قدروقیمت ،تقدیس اورطاقت کااندازہ تک نہیں۔ نادان ووٹرز کے ہوتے ہوئے بدعنوان اوربے لگام نمائندوں کاراستہ نہیں روکاجاسکتا۔اگرامیدواروں کو”منتخب ”کرنیوالے” محتسب ”بن گئے تویقینابدعنوانی اوربدانتظامی کاباب بھی بندہوجائے گا کیونکہ بدعنوانی اوربدانتظامی میں گہری دوستی ہے۔انتخابات کے پانچ برس بعد ووٹرز کوان کے ”آنسوؤں” جبکہ نمائندوں کوان کے اندرون وبیرون ملک” اثاثوں ” کی بنیادپرباآسانی پہچاناجاسکتا ہے۔جمہوری نظام حکومت میں”منتخب” ہونیوالے” ارکان” ریاستی وسائل سے ہوشربامراعات سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ ان کا”انتخاب ”کرنیوالے ”نادان” ووٹرزکواپنے بنیادی حقوق سے بھی محرو م رہنا پڑتاہے۔میرے نزدیک انسانیت کے ساتھ جمہوریت سے بڑاکوئی فراڈ نہیں ہے ۔ہمارے ملک میں رائج طرزانتخاب کے نتیجہ میں ووٹرزکو محرومی ،ناکامی، گمنامی جبکہ نمائندوں کوعزت ،دولت،اختیارات کی طاقت ،شناخت اورشہرت ملتی ہے ۔مادروطن کی تعمیروترقی کاراستہ ”برادری” نہیں ”بردباری”سے ہوکرگزرتا ہے،ہماری ضد اورہمارے تکبر نے ہمیں تدبر سے محروم کردیا۔سوشل میڈیا کی بدولت بہت کچھ بدل گیا مگر ہمارے زیادہ تر ووٹرزکے مائنڈسیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔اپنے وطن اورہم وطنوں کیلئے کوئی بڑاکام کرنے کیلئے ہمیں انفرادی واجتماعی سطح پرکچھ بڑاسوچناہوگا۔اگر”نالی ”کیلئے ووٹ دیں گے توہماری زندگی ایک” گالی” اور”کالی”رات بن کررہ جائے،پاکستان کی ”اٹھان”کیلئے ہمیں درست اوردوررس ا قدامات ”اٹھانا”ہوں گے،الیکشن میں محض اپنے” پسندیدہ” نہیں بلکہ سمجھداراوراوصاف حمیدہ کے حامل ”سنجیدہ ”نمائندوں کاانتخاب کرناہوگاجونڈر،مدبر، باکردار ،باضمیر اورایمانداربھی ہوں۔ہم وطنوسوچو”برادری ”ازم نے انفرادی واجتماعی ”بربادی” ہمارامقدربنادی ہے،اس بارہمیں سیاسی کلچر کوکچلناہوگا۔اس کوہرگزووٹ نہ دیں جو آپ کے حق میں اچھا ہوبلکہ اس کودیں جواسلام ،عوام ،نظام اورپاکستان کے حق میں دوسروں سے زیادہ اچھااورسچا ہو۔ہمارے اندرصوبائیت اور منافرت کازہرسرائیت کرنے سے ہماری پاکستانیت کاجنازہ اٹھ گیاہے،اپنے اندر”شخصیت پرستی” کودفن کرکے” وطن پرستی” کوجنم دیں۔
مغربی جمہوریت نے ہم سے ہماری اسلامیت اور مشرقیت چھین لی ہے۔جمہوریت اسلامیت کی ضد اورپاکستانیت کیلئے زہر ہے،ہمیں اس نظام کی ضرورت ہے جواسلام سے مطابقت رکھتاہو۔اگرخلافت نہیں توصدارتی طرزحکومت آزمایاجاسکتا ہے۔ جمہوریت اوراس کی نحوست نے ہم پرجمودطاری کردیاہے،ہماری شخصیت پرستی یعنی بت پرستی کے نتیجہ میں ہم آزاد ملک میں غلامی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ہمارے نزدیک دوچارسیاسی ”خاندان”مادروطن ”پاکستان”سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں ۔”خلافت” کے دورمیں اسلام اورمسلمانوں کی اس قدر ”مخالفت ”نہیں تھی ،جمہوریت نے مسلمانوں کونحوست،شکست وریخت اورجبر مسلسل کے سواکچھ نہیں دیا۔ہم نے ”ایمانی نظام ”یعنی نظام الٰہی کوچھوڑکر”انسانی نظام” یعنی نظام غلامی اپنالیا ،اس دنیا نے آج تک کسی غلام کواحتجاج کرنے کاحق نہیں دیا۔آؤپنااستحصال کرنیوالے عناصرکا ماتم اوران کی ”مذمت” کرنے کی بجائے ”مرمت ”کریں،ووٹ کی پرچی سے ان کے پرخچے اڑادیں ۔ملزم یامجرم کوووٹ دیناحماقت نہیں جہالت اورذلالت ہے ۔25جولائی کے انتخابات کیلئے امیدواروں نے اپنے نام نہاد حلفیہ بیان میں جواثاثے ڈکلیئر کئے ان میں سے نناوے فیصد جھوٹ ہیں مگر اس کے باوجودوہ منتخب جبکہ ووٹران کے حق میں شہادت دے کران کے گناہوں میں شریک ہوجائیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نیب سمیت دوسرے ریاستی اداروں کی مددسے امیدواروں کے ڈکلیئرڈ اثاثوں کی چھان بین کی جائی اورکلیئرنس کے بعد ا نہیں انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں،انتخابات میں عجلت ناقابل فہم ہے۔ ہمارے ملک میں امیدواراورووٹراپنی اپنی سطح پر”ڈیل ”کرتے ہیں،ہرکوئی اپنے اپنے مفادات کی حفاظت اوراپنی اپنی قیمت وصول کرتا ہے۔ہمارے ہاں ماضی میں شفاف انتخابات ہوئے نہ آئندہ ہوں گے بلکہ انتخابی مہم کے دوران پری پول رگنگ کاشور مچادیاجاتا ہے۔کچھ حضرات کاکہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ کی قیمت وصول کی جاتی ہے میں کہتا ہوں ووٹرفروخت ہوتے ہیں،اگرپارٹی کسی کھمبے کوکھڑاکردے توووٹراس کی جیت پربھی مہرثبت کرد ینگے۔پاکستان میں سیاسی پارٹیاں جمہوری نہیں آمرانہ اندازسے چلتی ہیں۔ اگر جمہوریت کومنفعت بخش تجارت کہاجائے توبیجانہیں ہوگاکیونکہ اس نظام میں خاص وعام اپنااپنامفاددیکھتے ہیں،ریاست کے قومی مفادات کوبہت پیچھے چھوڑدیاجاتا ہے۔زیادہ ترشعبدہ باز امیدوارالیکشن میں کامیابی کیلئے اپنے ووٹرز کی” سادگی” اور”بیچارگی” کابھرپورفائدہ اٹھاتے ہیں۔جس دن ہمارے ووٹرزکو”شعور”آگیا اس روز عوامی خدمت کا”شور” دم توڑدے گااورآئی سی یومیں وینٹی لیٹرپر پڑی ہماری نیم مردہ معیشت کوہوش آجائے گا۔
چورکوسزانہ ملے تووہ ڈاکوبن جاتا ہے،ہمارے زیادہ ترسیاستدان محض ”بدعنوان” نہیں بلکہ ”بدزبان” ,بدقماش اوربدمعاش بھی ہیں کیونکہ ا ن کے نزدیک انتخاب ان کا احتساب ہے۔ان میں سے جس کسی کانیب میں احتساب شروع ہوجائے وہ نوازشریف کی طرح سیاسی انتقام کاشورمچانے لگتا ہے ،نوازشریف کے اپنے دوراقتدارمیں اس کااحتساب ہوامگراس کے باوجوداس نے اسے انتقام قراردیا۔اس بار احتساب شروع ہوامگر ابھی منطقی انجام تک نہیں پہنچاتھا کہ انتخاب کانقارہ بجادیاگیا،ہماری انتخابی سیاست میں جہاں ”نوٹوں” کاانبارہو”ووٹوں” کارخ بھی اس طرف مڑجاتا ہے ۔ہمارے سیاستدانوں کی” بدعنوانی”اور”من مانی” درحقیقت ووٹرز کی” نادانی” کاشاخسانہ ہے۔اگرہمارے ووٹرزاپنے” برین”کااستعمال کریں تو ایک” بریانی” کی پلیٹ یاایک قیمے والے نان کیلئے ”بدعنوانی” میں ملوث امیدواروں کو ووٹ ہرگز نہ د یں۔کاش ہمارے ہاں زیادہ تر ووٹرز نادان نہ ہوتے تویقیناًبدعنوان سیاستدان باربار منتخب نہ ہوتے،خاموش اکثریت میں شمار ہونیوالے باشعور لوگ بھی محض اپنے اپنے گھرمیں بیٹھ کرانتخابی نظام کو ناکارہ اورناکام قراردیتے ہیں مگرووٹ کی مددسے اصلاح احوال کیلئے اپناکردارادانہیں کرتے۔ووٹ کاسٹ نہ کرنا دانائی نہیں ،آپ کے نزدیک جوامیدوارزیادہ اہل اورقابل ہواسے ووٹ ضرور دیں ورنہ بدعنوان نمائندوں اورنادان ووٹرزکے گٹھ جوڑ سے ہمارے بچوں اورملک کامستقبل بربادہوتارہے گا ۔جہاں ووٹرکی عزت نہیں وہاں ووٹ کی عزت کیاخاک ہوگی ۔ووٹ کوعزت دوکابیانیہ ووٹرزکے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔
پاکستان میں کچھ سیاہ چہروں والے سفیدجھوٹ کاگھناؤناکاروبار جبکہ چند گوری” چمڑی ”والے” دمڑی” کے بل پر اپنے سیاہ کرتوت چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔جس نے سیاست کے میدان میں قدم جمانے کیلئے”زرد”صحافت اورچھانگا مانگا سیاست کی بنیادڈالی تھی آج اس کے چہرے پر”گرد”نمایاں ہے۔پاکستان میں سیاسی برائیاں ایجادکرنیوالے آج دوسروں کو اخلاقیات کادرس دے رہے ہیں ۔جونوے کی دہائی والی سیاست میں ذاتیات ،تہمت،نفرت،تعصب،تشدد اورگالی کولائے آج ان کاکہنا ہے کہ عمران خان گالیاں دیتا ہے۔میں نے ذاتی طورپرن لیگ کے متعدد رہنماؤں کواپنے قائدین سمیت دوسروں کی غلیظ گالیاں دیتے سنا ہے۔دوسروں کی طرح عمران خان میں بھی کئی خامیاں ہوں گی مگر میں نے اسے کسی جلسہ عام میں یانجی مجلس میں گالی دیتے ہوئے نہیں سنا ۔عمران خان کااندازگفتگومنافقانہ نہیں جارحانہ ہے ۔عمران خان نے کئی بار”اوئے نوازشریف”کہا مگرکسی کواوئے کہنا گالی نہیں ۔مسلم لیگ (ن) کے کیمپ سے بینظیر بھٹو کومنتخب وزیراعظم اوراپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود جوکچھ کہاگیاوہ ہماری تاریخ کاسیاہ باب ہے۔جس وقت نوازشریف کی گودمیں بیٹھ کرشیخ رشید اپنے مخصوص گستاخانہ اندازمیں بینظیر بھٹو کی توہین کیا کرتا تھاتوتب وہ چہیتا تھا مگرآج جب وہی شیخ رشید اپنے سابقہ سیاسی آقانوازشریف کولتاڑے تو بڑا زہرلگتا ہے۔نوازشریف زندگی بھر” وصولی” اور”بے اصولی ”کی سیاست کرتا رہا اورآج مکافات عمل کاسامنا کرناپڑاتواسے روایات، سیاسی اقداراوراخلاقیات کی یادآگئی ۔
سنا ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لہٰذاء یہ کامیابی کی سیڑھی پرقدم نہیں رکھ سکتا۔جوزندگی بھرجھوٹ گھڑنے اورلوٹ کھسوٹ کرنے میں ملوث رہاوہ بے نقاب ہوگیا۔جوقوم سے نہ رکا،اس کاراستہ قدرت نے روک دیا۔ ہمارے ہاں جمہوریت سرکاری ”محلات ”میں قید ہے جبکہ ”محلے” کے عام لوگ آج بھی اس کے ثمرات سے محروم ہیں۔ کچھ افراد کے نزدیک کسی مخصوص بات کوبار بار دہرانااورمسلسل جھوٹ بولنا دوسروں کوگمراہ کرنے اوراپنا ہم خیال بنانے کیلئے بڑاموثر طریقہ واردات ہے اوروہ کسی حدتک کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ہمارے عوام کوبدعنوانی وبدانتظامی کا بڑے سے بڑا بحران ہضم ہوجاتا ہے جبکہ وہ مختلف شخصیات کے قول وفعل کے تضادات تک بھول جاتے ہیں۔ جہاں احتساب کے کٹہرے میں کھڑے بدعنوان عناصر کے حق میں بھی زندہ بادکے نعرے لگائے جاتے ہوں وہاں ان ”حامیوں”کو گناہ بے لذت کامفہوم کون سمجھائے ۔چور کادفاع کرناگناہ بے لذت نہیں تواورکیا ہے،چوروں کی صحبت میں بیٹھنے والے بھی یقیناچور ہیں ،ہم افراد سے تعلق بچانے اورنبھانے کیلئے اپنے معبود سے تعلق اور دین کادرس فراموش کربیٹھتے ہیں۔ہم میں سے زیادہ ترکوچور کی حقیقت اوراس کی ہرایک واردات کاعلم ہوتا ہے مگر پھربھی ہم اس کی پشت پر جبکہ قانون کے مد مقابل کھڑے ہوجاتے ہیں۔جوانسان تواتر سے جھوٹ بولتا ہے اس کی باتوں کے تضادات منظرعام پرآناشروع ہوجاتے ہیں،عام آدمی کی سچائی تک رسائی عارضی طورپرمتاثر ضرورہوتی ہے مگر یہ جستجواورجدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی۔تاریخ شاہد ہے سچائی ہردورمیں جھوٹ پرغالب آئی۔ہمارے سیاستدان اپنے سیاسی مفادات کیلئے جھوٹ کابھرپوراستعمال کرتے ہیں۔حالیہ سینیٹ الیکشن میں ہونیوالی” وصولی” نے” اصولی” سیاست اورجمہوریت کاجنازہ نکال دیاتھا۔سیاست میں کامیابیوں اورسرکاری عہدوں تک رسائی کیلئے بوٹ چمکانے والے آج ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں توعجیب لگتا ہے ۔ووٹ کی عزت کے داعی ووٹرکی جوعزت کرتے ہیں وہ سب کے علم میں ہے۔ ووٹراورووٹ کوصرف ایک صورت میں عزت مل سکتی ہے اگرالیکشن ہرسال یادوبرس بعدہوں ،اس طرح کرپشن بھی کنٹرول میں رہے گی۔
سینیٹ سمیت قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خواتین اوراقلیتوں کیلئے مخصوص سیٹ سسٹم فوری ختم کیاجائے ،یہ سیاسی رشوت اوربیمارقومی معیشت پربھاری بوجھ کے سواکچھ نہیں ہے ۔برطانیہ اوربھارت سمیت دنیا کی کسی ریاست میں ایسانہیں ہوتا،وہاں خواتین اوراقلیت برادریوں کے افرادکو شہری براہ راست منتخب کرتے ہیں۔تحریک انصاف ،مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی والے یوں توپرویز مشرف کو برائیوں کامحورقراردیتے ہیں مگر آمرانہ دورکے متعدد متنازعہ قوانین ختم کرنے کیلئے تیار نہیں۔پرویزمشرف نے ارکان اسمبلی کیلئے تعلیمی معیادمقررکی اور قانون بنایاکہ کوئی شخص تیسری باروزیراعظم نہیں بن سکتا نوازشریف نے اپناراستہ ہموارکرنے کیلئے پیپلزپارٹی اوراے این کو اٹھارویں ترمیم پرمتفق کیا اورتعلیمی معیاد بھی ختم کردی گئی مگر جہاں نوازشریف نے اقتدار کیلئے پرویز ی آمریت کی باقیات کواپنے سینے سے لگالیا وہاں اس سیاہ دور کے متعدد اقدامات کورول بیک نہیں کیا ۔مخصوص سیٹوں پر نامزدہونیوالی خواتین کوبلیک میل اور ان کا”استحصال”کیا جاتا ہے۔ان کی نامزدگی پارٹی سربراہان کی صوابدیدپرہوتی ہے اوربعض خواتین اس کیلئے بھاری” قیمت”چکاتی ہیں۔بعدازاں ان خواتین ارکان کی مددسے اسمبلیوں میں ناجائز بل پاس کروائے جاتے ہیں ،مردحضرات کی عدم دلچسپی کے سبب ان خواتین ارکان کی مدد سے کورم بھی پوراکیاجاتا ہے۔ان خواتین ارکان کاکوئی حلقہ انتخاب نہیں ہوتاپھر بھی انہیں ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں جوان کی پارٹیوں کے مردارکان کے حلقہ انتخاب میں استعمال میں آتے ہیں۔کورم پوراکرنے کیلئے ان خواتین ارکان کو زبردستی بلایاجاتا اورپھران پرپہرہ بٹھادیاجاتا ہے اوراگرکبھی کوئی خاتون جانے لگتی تواسے زبردستی روک دیاجاتاتھا۔خواتین ارکان کی چارچاربار حاضری لگائی جاتی تھیں۔ برطانیہ میں مسلمانوں کاشمار اقلیت میں ہوتا ہے اس کے باوجود محمدسرور چوہدری، لارڈ نذیراورسعیدہ وارثی جنرل سیٹ پر منتخب ہوتے رہے،بھارت میں بھی مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود براہ راست منتخب ہوتے ہیں ۔پرویزی آمریت سے قبل پاکستان میں بھی جے سالک سمیت مسیحی سیاستدان براہ جنرل سیٹ پرمنتخب ہوتے تھے۔ پاکستان میں خواتین نے جس طرح زندگی کے دوسرے شعبہ جات میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا آپ منوایاہے اس طرح انہیں انتخابی سیاست میں بھی جنرل سیٹ پر میدان میں اترنے اورقسمت آزمانے کاحق دیاجائے ۔
ایک طرف مسلم لیگ (ن)کی قیادت کاکہنا ہے ہم نے پاکستان کوامن وآشتی اورتعمیروترقی کاگہوارہ بنادیا،اب روای چین ہی چین لکھتا ہے۔ہماری حکومت کوورثہ میں ملے اندھیرے چھٹ گئے ہیں،ہم نے انرجی بحران ختم کردیا ،ماضی کی حکومت نے جو خزانہ خالی کردیا تھاوہ ہم نے لبالب بھردیاہے ،اب بیرو نی سرمایہ داردوڑے چلے آرہے ہیں۔عوام ہماری اعلیٰ کارکردگی پرہمیں دوبارہ مینڈیٹ دینگے۔ شہبازشریف نے خودبخوداپنے نام کے ساتھ” سپیڈ ” کالقب لگالیا ،چینی حکام نے شہبازشریف کو ایساکوئی لقب نہیں دیا جبکہ دوسری طرف نوازشریف اوراس کے حامیوں کو عمران خان پرشدیدغصہ ہے کہ اس نے انہیں کام نہیں کرنے دیا ،پی ٹی آئی کادھرنا پاکستان کی تعمیروترقی میں رکاوٹ بن گیا ،چینی صدر کادورہ پاکستان منسوخ ہوگیا غرضیکہ وہ اپنی ہرناکامی اوربدنامی کاملبہ عمران خان پر ڈال رہے ہیں۔اگر پی ٹی آئی کی دھرناسیاست کے سبب شریف برادران کام کرنے میں ناکام رہے توپھر” شہبازسپیڈ ”ایک بڑاسوالیہ نشان ہے،مسلم لیگ (ن)والے کس کارکردگی پرووٹ مانگ رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کا پی ٹی آئی اورعمران خان بارے بیانیہ تضادات کامجموعہ ہے

یہ بھی پڑھیں  سال2013 کے حالات. . . 2014میں ویسے ہی رہنے کی تشویش!