تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

گندے انڈے

یہ ایک عام فہم بات ہے کہ تاریخ خود کو دوہراتی ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی تاریخ کو بھول جاتا ہے اور اس سے کوئی سبق نہیں لیتا اس لیئے تھوڑے عرصہ بعد اسے پھر سے انہی حالات کا سامنا ہوتا ہے جن سے رو دھو کر جان چھڑائی تھی۔پاکستان کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو آپکو بار بار پرانے مسائل نیا لبادہ اوڑھے نظر آئیں گے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر شخص خود کو پارسا اور دانا سمجھتا ہے۔دوسروں کے لباسپر تنقید کرنے والے اپنے پوشاک کے پیوند دیکھنا گوارہ نہیں کرتے۔دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والا اس بات پر توجہ نہیں دیتا کہ ہاتھ اسکے بھی کیچڑ آلود ہیں۔ہر شخص اپنا نقطہ نظر دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش میں رہتا ہے۔قطع نظر اس کے کہ اسکا نقطہ نظر دوسروں کے لیے غلط اور تکلیف دہ ہو۔
پاکستانی میڈیا ایک بار پھر سیاستدانوں کی لفظی غلاظت کا شکار ہوا ہے۔سیاستدان بھی جب اک دوسرے کے رازافشاں کرنے اور ایک دوسرے کو گالی گلوچ سے تھک جاتے ہیں تو میڈیا پر لفظ زنی شروع کر دیتے ہیں۔میڈیا پر تنقید میں سیاستدنوں کی کم ظرفی کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیاسے جڑے چند لوگوں کا بھی عمل دخل ہے۔کیونکہ اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔لیکن چند گندے انڈوں کی وجہ سے سارے میڈیا کو بدنام کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میڈیا سے جڑے چند ہزارکی تنخاہ پر شاکر وہ غریب اور مخلص ورکرز جو تپتی دھوپ ،لاٹھی چارج،گولیوں اور دھماکوں کی گونج میں بھی پوری ایمانداری کے ساتھ عوام تک حقائق پنہچانے کیلیے مگن ہوتے ہیں ان کو بھی اس ذلت و رسوائی کی ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔حالانکہ اس ذلت و رسوائی کے حقدار صرف اور صرف وہ لوگ ہیں جو چند مرلوں کے پلاٹ اور تھوڑی سی رقم کے بدلے میں اپنا ضمیر اور قلم بیچ دیتے ہیں۔جس دن ملک میں پٹرول کی قیمت یا لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہے تو یہ لوگ صدر اور وزیراعظم کی تعریف میں کالم لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔عدالت حکومتی عہدیدار،سیاستدان یا کسی امیر آدمی کے خلاف کوئی فیصلہ سنا دے یا عدالت میں پیشی کا نوٹس بھیج دے تو الیکٹرانک میڈیا پر چندکے چند ضمیر فروش پروگرام فکسنگ تک کر لیتے ہیں۔جب ایسی صورت حال ہو تو میڈیا پر انگلیاں تو اٹھیں گی۔لیکن میڈیا کے یہ چند گندے انڈے اصل میں سیاست کی شطرنج پر ناچنے والے وہ جرنیل ہیں جو اپنی چالوں سے آہیستہ آہیستہ پیادوں سے بھی کم حثیت ہو رہے ہیں۔
میڈیا سے جڑے مخلص باکردار اور باضمیر لوگوں کو میڈیا پر تنقید سے پریشان ہونے کی بجائے ان گندے انڈوں کو باہر پھینکنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مشرف دور میں میڈیا پرالزامات کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر بعد میں آنے والی حکومت اور اور حکومتی عہدیداروں نے وقفہ وقفہ سے اس گنگا میں ہاتھ دھوئے۔اور اب حزب اختلاف نے بھی اسے کار ثواب سمجھا اور چوہدری نثار صاحب نے تمام حدیں عبور کر دی۔انکی بات ٹھیک بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پچھلے کچھ عرصہ سے چندایک چینلز کے مالکان اور پنجاب حکومت کے ہاتھ ایسی دستاویزات لگی ہیں جن میں پچھلے سال اشتہارات کی مد میں تقسیم کیے گئے کڑوڑوں روپے کی تفصیل ہے۔ویسے بھی ضمیر فروش اور بکاؤ مال تو ہر دور میں موجود رہا ہے۔اور میڈیا کو یہ گلہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس کرپشن سے پردہ کیوں اٹھایا گیا۔لیکن کتنا بہتر ہوتا کہ چوہدری صاحب میڈیا اورتمام چینلز کی بجائے کرپشن سے ہاتھ رنگنے والے صحافیوں اور چینلز کا ذکر کرتے تا کہ پورا میڈیا بدنام نہ ہوتا لیکن چونکہ وہ خود اس تجارت کا حصہ رہے ہیں ،انکی اپنی پارٹی بہت سے ضمیر فروشوں کو نوازتی رہی ہے اور یہ نوازش ان دنوں بھی جاری ہے۔ اس لئے شاید انہوں نے دانستہ ایسا نہ کیا ۔اس سے میڈیا کو داغ لگانے والے میڈیا کے چند نقاب پوش بے نقاب نہ ہوے اور الٹا ٹی وی پر اپنی پاکدامنی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں حالانکہ انکو خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ فی الحال انکے راز افشاں نہیں ہوے۔ لیکن ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ زیادہ دیرتک اپنی چکنی باتوں سے دھوکہ نہیں دے سکتے ویسے بھی دھوکہ انتہائی وفادار ہوتا ہے جو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا اور کسی نہ کسی موڑ پر آپکا منہ چڑھا تا ہے ۔
ایمانداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ چوہدری صاحب اپنی پارٹی اور قیادت کی تعریفوں پر مامور کالم نگاروں کے نام بھی منظرعام پر لائیں ۔لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اتنی ایمانداری سیاست کی حدود میں داخل نہیں ہوسکتی۔بحرحال انکو کم از کم میڈیا کے باقی لوگوں سے معذر ت ضرورکرنی چاہیے جو میڈیا کے بسترپر پڑنے والی سلوٹوں کے ذمہ دار نہیں ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  ورلڈ کپ 2015ء گرین شرٹس کی تیاریوں کا پول وارم اپ میچز میں ہی کھل گیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. i just saw your coulmn was shared by my friend and just after reading that was anxious to visit your profile.. its been realy good.. keep it up.. you are good :)

  2. really very nice brother the truth wrtn by the true person hope you will not look back keep it up .Allah loves truth and He is always with those who speak truth.Allah Has given you the power of pen so use it

  3.  I don’t know much about the writer of article, a friend of mine suggested this one, but truely and surely one on the finest satire on media 

  4. Social media is challenging the traditional political patterns and it is introducing the new political paradigms. Our political parties have to own and adopt these new practices because social networks will definitely make some differences in future elections, …….and those who will ignore it, may lose.

  5. شیر محمد اعوان صاحب بہت اعلیٰ جناب۔ آپ نے چند الفاظ میں پوری حقیقت بیان کی ہے جو کہ 100 فیصد ٹھیک ہے۔  مبارکباد قبول کیجئے۔
    وسیم نذر
    چیف ایڈیٹر پاک نیوز لائیو ڈاٹ کام

  6.  wali bat ha  js k pass dolt ha sb kuch ussi  ka ha  gareeb kl b lutta tha aur aj b lut raha ha  ksi ko b gareeb laogo ka ehsas ni ha  hm log imran khan ko chang samajty hy jo k blkul galat ha q K CHERY BADALNY SY CHANG NI ATA BLKY APNI SOCH CHANG KRNI HO GE APNA HAQ KHUD HASIL KRNA HO GA  AP K KALIM MAIN WO HAQEQT HA JO K HM LOGOU KO TASLEEM KENI HO GE  
    Ap ny blkul theek kaha ha  hamary mulk main js ki lathi  us ki bhens

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker