تازہ ترینکالم

غریبوں کے نام پر اربوں روپے کی سبسڈی کس کی جیب میں۔۔۔؟

ghulam murtazaبتایاجاتاہے کہ برصغیر پاک و ہند میں سال میں چار موسم ہوتے ہیں۔ بہار جو 15 فروری سے 15 مئی تک رہتی ہے۔ گرما جو 16 مئی سے 15 جولائی تک رہتا ہے۔ برسات جو 16 جولائی سے 15 ستمبر تک رہتی ہے۔ اور خزاں یا سرما جو 15 ستمبر 14 فروری تک رہتاہے۔ مگر مذکورہ بالا تاریخیں قطع اور حتمی نہیں ہیں۔ خاص حالات کے باعث یہ موسم آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ موسموں کی بنیاد زمین کی حرکت کے باعث ہے جو سورج کے گرد ایک بیضوی مدار پر حرکت کرتی ہے۔ جب زمین کا وہ حصہ جس میں ہم رہتے ہیں سورج کے قریب تر ہوتا ہے تو ہم گرمی محسوس کرتے ہیں اور جب دور چلا جاتا ہے تو ہم سردی محسوس کرتے ہیں۔ان کے درمیان ملاجلا موسم ہوتا ہے۔ دراصل موسم دوہی ہیں۔ گرمی اور سردی۔ انتہائی سردی سے درختوں کے پتے نیچے گر جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ خزاں آگئی جو دراصل انتہائی سردی ہے۔
لیکن پاکستان میں ہر موسم سیاست کیلئے بہتر قراردیا جاتا ہے ۔رمضان المبارک کی آمد کے سلسلہ اقدامات کیے گئے ۔شہریوں کا کہناہے کہ ہمارے یہاں ہمیشہ سے ہی یہ روایت رہی ہے کہ مذہبی تہواروں کی آمد سے پہلے خصوصاً رمضان المبارک کی آمد سے پہلے روز مرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کا ریٹ بڑھانے کے لئے ذخیرہ اندوزی کر کے اس کی مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے۔ جب وہ چیز دوبارہ مارکیٹ میں آتی ہے تو نئے ریٹ کے ساتھ مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر اس رمضان میں پنجاب حکومت نے’’ سستے رمضان بازاروں‘‘ کا انعقاد کیا ہے تاکہ لوگوں کواشیائے خورد و نوش کی چیزوں کی خریداری میں قیمتوں میں ریلیف مل سکے۔ اس کے لئے پنجاب حکومت نے پنجاب بھر کے سستے رمضان بازاروں کے لئے 5 ارب روپے کی سبسڈی رکھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری افسروں نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ نے لاہور کے مختلف علاقوں میں 20 سستے رمضان بازار لگائے ہیں جس کی سبسڈی ایک کروڑ دس لاکھ روپے رکھی ہے۔ جبکہ پچھلے سال رمضان بازاروں کی سبسڈی ایک کروڑ 60 لاکھ روپے تھی اس مرتبہ سستے رمضان بازاروں میں بہت سی فوڈکمپنیوں کو اپنے سٹالزخصوصی رعایت دینے کے باوجود یہاں پر مزید رعایت پر آمادہ کیا گیا۔ اس لئے یہاں پر کمپنیوں کی چیزیں شہریوں کو اتنے کم ریٹ میں مل رہی ہیں جو کہیں سے بھی دستیاب نہیں ہوں گی۔ سستے رمضان بازاروں میں 12 کمپنیوں نے اپنے سٹالز لگائے ہیں۔ اس وقت لاہور کے تمام سستے رمضان بازاروں کی اشیاء کی قیمتیں تمام اضلاع کے سستے رمضان بازاروں کی اشیاء کی قیمتوں سے کم ہیں۔ شہریوں کو ہول سیل ریٹ سے بھی کم قیمت پر اشیاء مہیا کر رہے ہیں۔ پیاز کی مارکیٹ کمیٹی سٹال پر 34 روپے فی کلو ہے جبکہ پرائیویٹ سٹال پر پیاز 36 روپے فی کلو ہے اس میں اس کا دو روپے منافع ہے جبکہ مارکیٹ کمیٹی کے سٹال والے کو پیاز پر دو روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ پیاز کی روزانہ چالیس سے پچاس بوریاں فروخت ہو رہی ہیں اور بعض دنوں میں تو 150 بوری پیاز کی فروخت ہوئی ہیں۔ مارکیٹ میں پیاز 40 روپے کلو ہے۔ پیاز افغانستان سے آ رہا ہے۔ اگر لوکل پیاز ہوتا تو ہم اس سے بھی کم قیمت پر لوگوں کو مہیا کرتے۔پرائیویٹ سٹالز والے اس لئے شور مچاتے ہیں کہ ہم نے ان کا منافع کا مارجن کم کیا ہے۔ مثلاً پہلے اگر وہ دس روپے منافع لیتے تھے اب ہم نے دو روپے کر دئیے ہیں ہم ان کو ٹرانسپورٹیشن بھی مہیا کرتے ہیں۔ پھر جگہ اور بجلی بھی مفت فراہم کر رہے ہیں یہ چیزیں بھی سبسڈی کے زمرے میں آتی ہیں۔‘‘
ڈی سی او نسیم صادق کہتے ہیں کہ ’’یہ انسانی فطرت ہے جب ضرورت سے زیادہ سستی چیز ملے تو عوام سوچتے ہیں یہ چیز دو نمبر ہے یعنی غیر معیاری ہے ا س لئے سستی ہے۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے ہم نے اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی پر بالکل سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ سستے رمضان بازاروں میں ملنے والے سستے چکن پر سبسڈی پولٹری فارم ایسوسی ایشن دے رہی ہے اگر کسی کا یہ کہنا ہے کہ مارکیٹ میں چکن سستا تھا جبکہ سستے رمضان بازار میں مہنگا تو ان سے یہی کہوں گا۔ چکن کی قیمت کا انحصار چکن کے وزن پر ہوتا ہے آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ 2 کلو وزنی مرغ کے گوشت کی قیمت کم رکھی جاتی ہے جبکہ سوا ڈیڑھ کلو وزن کے مرغ گوشت کا ریٹ اس کی نسبت زیادہ ہوتا ہے مارکیٹ کمیٹی کے سٹالز پر تمام اشیاء سبسڈائز رکھی ہوئی ہیں۔ حکومتی سٹالز پر تمام لڑکے ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ اشیاء کی پیکنگ کے لفافے اور ٹرانسپورٹیشن وغیرہ کے تمام اخراجات سبسڈی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایک ہفتے کے بعد حساب کر کے مارکیٹ کمیٹی سٹالز کو پیسے دے دئیے جاتے ہیں۔ آپ کو دال اور بیسن جس قیمت پر سستے رمضان بازار میں مل رہا ہے۔ اس قیمت پر کہیں سے بھی نہیں ملے گا۔ کیونکہ ان پر حکومت سبسڈی دے رہی ہے اس طرح سبزیوں پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے۔‘‘
رمضان المبارک کے ساتھ ہی موسم برسات بھی شروع ہو گیا ۔جس کیلئے حکومتی اقدامات بہت ہی بہتر تھے ۔یہ رپورٹ بھی کسی عام آدمی کی نہیں بلکہ حکومتی ارکان پرمشتمل کمیٹی کی تھی ۔اچانک یہ خبریں حکومتی دعوے بہالے گئیں۔کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشوں کے دوران چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور مختلف حادثات میں درجنوں افراد جاں بحق کئی زخمی ہوگئے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا، سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگئی اور فیڈر ٹرپ کر جانے سے کئی علاقوں میں بجلی گھنٹوں بند رہی۔ بارشوں کے باعث راوی میں سیلاب اور بھیجوکے میں بند ٹوٹنے سے کئی دیہات میں پانی داخل ہونے سے دھان مکئی اور چارے کی فصلیں ڈوب گئیں یہ بند دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنایا تھا ۔
مبصرین کہتے ہیں کہ تمدن کی عمارت جن ستونوں پر استوار اور قائم ہے ان میں تجارت وہ ہے جس میں تاجر کے لئے مناسب منافع اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر ہونے کے ساتھ ساتھ دیانت اور امانت کافروغ بھی ہو۔ وہ تجارت ہرگز نہیں جس کی اساس چور بازاری‘ ذخیرہ اندوزی اور ہوس زر پر ہو۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام نے خراب مال کی فروخت اور حد سے زیادہ منافع لینے سے روکا ہے۔ مال کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتیں بڑھانے کی حوصلہ شکنی اورمال کو کم تولنے اور کم ناپنے کی ممانعت کی ہے کیونکہ یہ باتیں مسلمانوں کے شایان شان نہیں ہیں۔حکومت پاکستان کو قانون کے مطابق غلط رپورٹ تیار کرنے والے سرکاری وغیرسرکاری افراراور مال کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتیں بڑھانے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:موسمی تھپیڑوں کے مارے کسانوں کو محکمہ خوراک نے بھی ذلیل و خوار کرنا شروع کردیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker