امتیاز علی شاکرکالم

غریب عوام پر مسلط امیرحکمران

اپنے آپ کودنیا جہان سے زیادہ ذہین یعنی عقل کل سمجھنا،خود کو غیر معمولی خیال کرناذہنی صحت کے لئے اچھا نہیں ہوتا ۔یہ بات درست ہے کہ ہم بہت سی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیںلیکن یہ بات بھی اٹل حقیقت ہے کہ ہماری شخصیت میں بہت سی خامیاں بھی موجود ہوتی ہیں ۔بلا شبہ آپ میں ایسی کئی خوبیاں ہو سکتی ہیں جو عام نہیں ہوتی ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سب کچھ سمجھتے ہیں ۔قارئین پچھلے 64.65سال سے پاکستان میںچند محصوص خاندانوں کی حکومت ہے ۔ان میں کوئی خاندان بھی غریب نہیں سب کے سب سرمایہ دار ۔جاگیر داراور وڈیرے ہیں ۔ آج تک جوبھی حکمران آیا چاہے وہ آمر ہو یا جمہوری ہو۔اس نے اپنے آپ کوہی عقل کل تصور کیا ہے ۔موجودہ حکمرانو ں کی سوچ بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے ۔یہ خود کو بڑا تیس مار خان سمجھتے ہیں ۔اور دل ہی دل میںاپنے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ میں ڈاکٹر بھی ہوں اورنجومی بھی،میں عالم بھی ہوں اور عامل بھی ،میں جو کہتا ہوں وہی سچ ہے ،باقی سب جھوٹ ہے ،جومیں کرتا ہوں وہی ٹھیک ہے ،باقی سب غلط ہے ،میں جو جانتا ہوں وہی علم ہے،باقی کوئی علم نہیں ۔مجھے جو اچھا لگتا ہے وہی اچھا ہے ،باقی سب برا ہے ۔جو میں کرسکتا ہوں وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔اگرپاکستان کے حکمران ایسی چھوٹی سوچ کے مالک نہ ہوتے توآج حالات کچھ اور پاکستانی قوم بھی چین اور ایران کی طرح ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتی ۔آج ملک کے حالات پریشان کن ہیں لیکن وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے حالات بہت اچھے ہیں ۔جب کہ عالمی مالیاتی ادارے کے بقول حکومت پاکستان سال 2012ئ کابجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گی ۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی معشیت ڈوبنے کاخطرہ ہے ۔آئی ایم ایف کاکہنا ہے کے اس سال بجٹ خسارہ ایک ہزار ارب روپے تک ہوسکتا ہے ۔کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے حکمران دن بدن امیر سے امیر ہوتے جارہے ہیں اور پاکستان غریب سے غریب تر ہوتا جارہا۔ آج اس حقیقت سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے کہ پاکستان کی معاشی واقتصادی حالت دن بدن خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔لیکن وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں،جتنے پیش کیے جاتے ہیں ۔جس طرح ہر تصویر کے دورخ ہوتے ہیں ۔اگر اسی تناظر میں وزیراعظم کے بیان کو دیکھا جائے تو ان کا کہنا کہ حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں جتنے پیش کیے جاتے ہیں ۔دو سوفیصد سچ ہیں ۔کیونکہ حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ اب حالات کی خرابی کااندازہ لگانا ناممکن ہوچکا ہے تو پھرخرابی حالات کو پوری طرح پیش کیسے کا جا سکتا ہے ۔اگر صرف پیٹرولیم مصنوعات کو دیکھا جائے تو حکومت عوام سے فی لیٹر 26سے27روپے کما رہی ہے ۔پھر بھی حکومت غریب ہے ۔لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ کب تک آئی ایم ایف قرض لیتے رہیں گے ۔ہم اپنی آنے والی نسلوں تو پہلے ہی بپچ چکے ہیں ۔اگر ہم ہرسال قرض لیتے رہے تو اس لعنت سے ہماری جان کبھی نہیں چھوٹے گی ۔افسوس کہ اس بات کا کسی سیاست دان کوفکر نہیں سب کو اقتدار میں آنے کی جلدی ہے ۔حکمران جماعت بھی دوسری پارٹیوں کی طرح ملک وقوم کے حق میں بہتر فیصلے کرکے عوام کے دلوں جگہ بنانے کی بجائے اپوزیشن جماعتوں کی طرح الزام تراشی کے ذریعے ہی آئندہ الیکشن کی تیاری میں لگی ہوئی ہے ۔ملک بھر میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ۔کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات اگلے سال حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر ہونگے جب کہ کچھ کا خیال ہے الیکشن اسی سال مئی میں ہونگے ۔لیکن میرے خیال میں آئندہ عام انتخابات اگلے سال پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد بھی مشکل لگتے ہیں ۔وہ اس لئے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو نہ تو میاں نوازشریف ختم کرنا چاہتے ہیں نہ عمران خان کی تحریک انصاف کو الیکشن کی جلدی ہے ۔وہ ابھی پارٹی کی تنظم سازی کررہے جس کے لئے ان کو زیادہ سے زیادہ وقت چاہے ۔اور نہ ہی پیپلزپارٹی کوحکومت چھوڑنے کی جلدی ہے اور نہ اب فوج اقتدار پر شب خون مارے گی ۔کچھ بھی ہوپیپلز پارٹی کواس بات کریڈٹ تو دینا پڑے گا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اب تک وہ پہلی جمہوری حکومت جو اپنے مدت پوری کرئے گی ۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ حکومت اپنے پانچ سال ضرور پورے کرئے گی ۔میرا خیال غلط ہو یا سہی حکومت مدت پوری کرئے یا نہ کرئے عام عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ ملک میںروزگار نا ہونے کی وجہ سے عام آدمی صبح کام پر جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔اور ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ میاں نوازشریف کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہونے کو ہے عوام عام انتخابات کی تیاری کریں ۔خیر عام انتخابات جب بھی ہوں عوام کا بھلا اسی میں ہے کہ اس با ر اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر اور ضرور کرے ، حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اندرسے سب سیاست دان ایک ہیں جب کہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھالتے ہیں اور اپنے آپ کو سب ہی ہیروبنا کر پیش کرتے ہیں ۔کیا اچھا ہو اگر قوم اس باربے وقوف نہ بنے اور اپنے تقدیر کافیصلہ ذات برادری ۔پارٹی ریلیشن کو بالاطاق رکھ کراپنے قیمتی ووٹ کو صرف اور صرف ملک وقوم کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے ۔وہ اس لئے کہ جو قومیں اپنی حالت نہ بدلنا چاہیں اللہ بھی ان کی حالت نہیں بدلتا ۔افسوس کہ اللہ کے نام پر بننے والے پاکستا

یہ بھی پڑھیں  تبدیلی

ن میں رہنے والے اللہ کے بندوں کا ایمان اس قدر کمزور ہو چکا ہے کے خود ا چھے عمل کرنے کی بجائے دوسروں کو برا کہہ کر خود کو اچھا ثابت کرنے کی نا کام کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ پاکستا ن کے سیاست دان پچھلے 65سال سے ایک دوسرے کو الزام دینے کے سوا آج تک کچھ نہیں کر سکے اور آج کل 2013کے الیکشن کی تیاری کے لیے پچھلے چندمہینوںسے جلسے جلسے کھیلا جا رہا ہے ۔جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ میں ڈنیگی مچھر کی افزائش میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے سال 2012ئ میں نسبت سال 2011ئ ڈنیگی کی وبائ زیادہ پھیلے گی۔حکمرانوں کا کہناہے کہ حکومت ڈنیگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے ۔صورت حال کو دیکھ کرلگتا بھی یہی ہے کہ حکومت ڈنیگی کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔اور اس انتظار میں ہے کہ کب ڈنیگی مچھر انسانوں کو کاٹے اور کب وہ مریض بن کر ہسپتالوں میں پہنچیں تاکہ حکمران ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے مفت علاج کا علان کریں ۔تاکہ عوام ان کو اپنا مسیحا تصور کریں اور اگر پھر بھی لوگ ڈنیگی مچھر کے کاٹنے سے مر جائیں تو اس کا علاج بھی ہے حکمرانوں کے پاس ۔اور وہ سب جانتے ہیں وہی پرانا والا مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ ،پانچ لاکھ روپے یاشائد اس بار یہ رقم زیادہ بھی ہو جائے ۔سب طرح کی تیاری کررکھی ہے مگر ڈنیگی مچھر کی افزائش کو کم رکھنے کی کوئی کوشش کوئی تیاری نظر نہیں آتی ۔کتنے افسوس کی بات ہے زندگی کی تو ہمارے ہاں کوئی قیمت نہیں لیکن موت کی قیمت ہے ۔اس طرح یہ ایک طرح سے خوشخبری ہے ان افراد کے لے جو مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر خودکشی کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ایسے لوگ ٹھوڑا انتظار کریں اور ڈنیگی مچھر آئے تو خود کو اس کے حوالے کردیں اس طرح ان کی خود کشی بھی ہو جائے گی اور گھر والوں کو کچھ رقم بھی مل جائے گی ۔دوسری طرف دیکھیں تو ابھی ہم پچھلے سال آنے والے سیلاب سے پیدا شدہ مشکلات سے نہیں نکل سکے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم سیلاب آنے کا انتظار ہی کریںگے ۔آنے والے ممکنہ سیلاب سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ۔کوئی ڈیم نہیں بنائے جارہے جن میں سیلابی پانی کو محفوظ کر کے نہ صرف جانی اور مالی نقصان سے بچاجاسکتا ہے بلکہ اسی پانی سے بجلی کی پیداوار بڑائی جا سکتی ہے ا ۔ماہرین کا کہنا ہے اس سال پہاڑوں پر زیادہ برفباری ہونے کی وجہ سے سیلاب بھی زیادہ شدید ہوسکتے ہیں ۔لیکن نہ صرف حکمرانوں بلکہ ساری قوم کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ہم کوئی ایسا انتظام کرنے کی کوشش کریں جس سے نہ صرف آنے والے سیلاب کو آبادیوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے بلکہ سیلاب کے پانی کو محفوظ کر کے اس سے فوائد حاصل کیے جائیں ۔قارئین یہ سخت فیصلے ہیں بحیثیت قوم خود کرنے پڑیں گے کیونکہ حکمرانوں کے پاس ایسے فضول کاموں کے لیے فرصت نہیں لگتی ۔ عوام سیلاب میں ڈوب مریں۔عوام کوڈینگی مچھر مار دے۔جان بچانے والی ادویات ہی قاتل بن جائیں ۔عوام غیرقانونی طور پر چلنے والی ادویات ساز فیکٹری کی عمارت گرنے سے مرجائیں۔ عوام ٹارگٹ کلینگ میں مارے جائیں ۔پاکستان کے عوام کو امریکی جاسوس دن دیہاڑے قتل کردیں۔امریکی ڈرون حملوں میںبے گناہ معصوم شہری شہید ہو جائیںچاہے نیٹو ہیلی کاپٹرپاکستانی چوکیوں پرحملہ کرکے پاکستان کے درجنوں فوجیوں کو شہید کردیں۔پاکستانی عوام مہنگائی اور بے روز گاری کے ہاتھوں تنگ آکر خوکشی کرلیں۔ حکمرانوں کوان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتاوہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان کی کل آبادی کتنی ہے ۔کوئی17کروڑکہتا ہے کوئی 18کروڑکہتاہے۔کوئی19توکوئی20کروڑکہتا ہے ۔جوحکمران رائے شمارے نہیں کروا سکتے وہ عوام کے دکھ درد کیا سمجھیں گے۔سچ تو یہ کہ ہمارے حکمرانوں کوعوامی مسائل کی نہ تو سمجھ ہے اور نہ وہ عوام کے لئے کچھ کرنے کی تمنا رکھتے ہیں ۔﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  یوم مزدوروں پرسیاسی بیانات اور انقلابی تحریکیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker