تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

غریبوں ڈرنا مت! ہوا پی کے جینا

javid iqbalارضِ وطن کی اکثریت غربت،افلاس،بھوک،بے روزگاری،بے کاری،اور مہنگائی کے بھاری بھرکم بوجھ تلے چیخ اور کرّاہ رہی ہے لیکن حکمران ہیں کہ شاہی محلات میں بیٹھ کر دادِ عیش دے رہے ہیں اور وہیں سے بلند و بانگ دعوے بھی کررہے ہیں کہ غرب کی شرح اتنے فیصد کم ہو گئی ہے وغیرہ وغیرہ!اس معاملے میں غیرحقیقت پسندانہ فرضی اور مبالغہ آمیز اعداد و شمار پیش کرکے خیالی جنت کے نقشے پھیلائے جا تے ہیں اور مفلوک الحال عوام کومعاملات کی صداقت سے بے خبررکھنے یاانہیں گمراہ کرنے کے لئے شاطرانہ چال بازیاں کی جا تی ہیں۔جبکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ غربت کی شرح ہمارے ملک میں کس قدر زیادہ ہے۔بے روزگاری اور بے کاری کاکیا حال ہے۔ہم نے ابھی تازہ تازہ کل ہی اپنی آزادی کا66واں جشن منایاہے یعنی کہ ہمارا ملک چھیاسٹھ سال کاہو گیامگران تمام سالوں میں ہم نے ترقی نہیں کی،ہمارے یہاں غربت،افلاس،بے روزگاری اور بے کاری میں کمی نہیں آئی۔ان معاملات پرکبھی بھی ہمارے حکمرانوں نے سوچاکہ آخرایساکیوں ہے؟ہمیں اب ان تمام معاملوں میں (جو کہ بنیادی ضرورتیں ہیں)اب سرجوڑنے کی ضرورت ہے ، بجائے پرانے معاملات حل ہونے کے عوام نت نئے مشکلات سے دو چارہوتے جا رہے ہیں۔
کس قدر ستم ظریفی ہے کہ نام نہاد اور خود ساختہ عوامی نمائندے خود توبنگلوں اورکوٹھیوں میں اے سی لگاکر بیٹھے ہیں ،فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بریک فاسٹ،لنچ،اور ڈنرسے لطف اندوزہوتے ہیں،قیمتی لباس پہنتے ہیں،سواری کے لئے تازہ بہ تازہ ماڈل کی کاریں زیر کارلاتے ہیں،ہوائی جہازوں کے اے کلاس میں سفرکرتے ہیں،مطلب یہ کہ جدیدزندگی کی تمام ترسہولتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں لیکن غریبوں،مسکینوں ،مجبوروں اور ستم رسیدہ عوام کی اکثریت کو روکھی سوکھی روٹی بھی میسرنہیں،نیلے آسمان کے نیچے جہاں اکثرکوجھونپڑی بھی میسرنہیں،وہ کھانے کے لئے ترس رہے ہیں اور علاج و معالجہ ،بناء دوائی،بناء پڑھائی،اور مفلوک الحالی کی زندگی گزارنے کی وعظ خوانی کر رہے ہیں۔انسانیت کے ساتھ اس سے بڑامذاق کیاہوسکتاہے۔ان پارلیمانی شہزادوں کے اونچے اونچے خواب جو حقیقت کا روپ دھارچکے ہیں درحقیقت ملکۂ روم قلو پطرہ سے ملتے جلتے ہیں ۔جب روم میں لوگ نان شبینہ کے لئے ترستے ہوئے احتجاجی مظاہرے کررہے تھے توملکہ نے اس کی وجہ پوچھی۔مصاجین نے بتایاکہ وہ روٹی نہ ملنے کے باعث پروٹسٹ کررہے ہیں توملکہ نے برمحل جواباً کہا کہ کیاانہیں دودھ وغیرہ بھی نہیں ملتا۔اسی طرح ہمارے پارلیمانی شہزادے بھی غریب اور مفلس عوام کو ناقابلِ برداشت زندگی بسر کرنے کے لئے اور حالات پرقناعت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ان جمہوری شہزادوں کا طرزِ عمل کسی طرح پرانے سلطانوں اور بادشاہوں سے ہرگزمختلف نہیں ہے۔اوربے چاری بے بس عوام یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں:
ہم کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
عوام کی یہ حالتِ زارکیوں ہے؟کس لئے ہو رہی ہے؟اس کا ذمہ دارکون ہے؟کیاجمہوری نظام جس کے کرتا دھرتاؤں کی سرشت میں کذب بیانی،خود غرضی،استحصال اورلوٹ کھسوٹ کازہریلارس گھلاہواہے۔اورجمہوریت کے طفیل ہی اصل میں اقتدار پرگماشتہ سرمایہ داروں،وڈیروں،جاگیرداروں اورلینڈ لارڈوں کا قبضہ ہے جنہوں نے شاہی لباس ترک کرکے جمہوری لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور وہ علامہ اقبال ؒ کے الفاظ میں جو انہوں نے ’’ ارمغانِ حجاز ‘‘ میں ’’ ابلیس اور اس کی مجلس شوریٰ ‘‘ میں ابلیس سے کہلوائے تھے،اس پر ہی عمل در آمدکرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
میں نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
حالات و واقعات کواگرآپ غورسے دیکھیں اوراس کاتجزیہ کریں توہمارے ملک کے عوام کی حالت اُس حالت سے ہرگزبہتر نہیں ہے جو زار شاہی روس میں تھی۔انقلاب فرانس سے پیشتر تھی یاچیانگ کای شیک کے دورمیں چین کی تھی۔اوروہی حالات آج عوام کی ہے کہ جنہیں نہ جاگتے ہوئے چین ہے اورنہ ہی سوتے ہوئے؟
مہنگائی،بے روزگاری،مفلسی،دہشت گردی،لوڈ شیڈنگ اوراس جیسے کتنی ہی عفریت ہیں جن میں کسی قسم کی پیوند کاری کرنے سے یہ درست نہیں ہونگے بلکہ اس میں کوئی انقلابی جھٹکا ہی اسے بہتربناسکتاہے۔نظام کی درستی کرکے،عوامی جمہوری انقلاب کرکے اور جمہوریت منظم کرکے ہی کوئی تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے،اس کے بغیرشایدان عفریتوں سے چھٹکاراممکن نہیں۔
ہم آج پھراپنی آزادی کی سالگرہ مناچکے اورہرسال کی طرح امسال بھی روایتی پیغامات جاری کئے گئے ہیں اور’’ یومِ آزادی ‘‘ کی تقریبات میں وہی باتیں دہرائی گئیں ہیں جوہم پینسٹھ سالوں سے کرتے چلے آرہے ہیں اس میں کچھ نیانہیں تھا،ہمیں احتساب کی عادت آج تک نہیں پڑی حالانکہ احتساب کے لئے کوئی دن مخصوص نہیں ہوتاوہ توروزانہ کرنے کاکام ہے ۔’’ جس میں نہ ہواحتساب ، موت ہے وہ زندگی ‘‘ویسے بھی حکمرانوں میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہایعنی کے پہلے اور اب میں ،سب کے سب بے حسی اور بے ضمیری کے قومی دھارے میں شامل ہیں توترقی کیسے ہوگی؟ملک کی آدھی آبادی یقیناًاب بھی ازحدغربت کاشکارہیں،خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبورہیں،وہ دن کب آئے گاجب اس ملک کے غریبوں کی تقدیر بدلنے والے آئیں گے؟ترقی کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جوپاکستان کے عوام کے دل کی دھڑکنوں سے واقف ہوں اورپھر ان پرشک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اورمسلسل کمزورہوتی ہوئی معیشت کے درمیان بھی ارباب نے اپنے آپ کو خوش کرنے کاموقع ڈھونڈلیاہے۔غریبوں کاپیٹ بھرنے کی ضمانت آج بھی نہیں ہے۔’’ یہ توخداہی ہے جوسب کو بھوکا اٹھاتاضرورہے مگربھوکاسُلاتانہیں ہے۔‘‘
سرمایہ دارانہ،وڈیرانہ،جاگیردارانہ نظام میں پارلیمانی ابہامات وغلط بیانیاں پھیلاکرپارلیمانی شہزادے راج کررہے ہیں، خواہ ان کاتعلق کسی بھی جماعت سے ہو ۔دبے اور کچلے ہوئے طبقے اورعوام کوپارلیمانی ابہامات میں پھنساکر وہ دادِ عیش لے رہے ہیں۔ اس لئے عوام کواپنی حالت بہتربنانے کے لئے اور اس سے باہرنکلنے کے لئے عوامی اور جمہوری جد و جہد کے ذریعہ عوامی جمہوری انقلاب کی ضرورت پڑسکتی ہے ،وگرنہ تاویل مسائل سے پالیمانی شہزادے مفلوک الحال اورغریب عوام کااسی طرح مذاق اڑاتے رہیں گے جس طرح غریبوں کی شرح فیصد کم کی جاتی رہی ہے۔اورانہیں بعید ازعقل اظہارات پربھی کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ان تمام حقائق سے واضح ہوتاہے کہ شہزادوں کے سامنے یہ غریب عوام کامذاق اسی طرح اڑایاجاتارہے گااورانہیں قناعت کی تلقین کی جاتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اعتراضات کل دائر کئے جاسکیں گے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker