اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

غضب ہو گا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا!

atharمقبوضہ کشمیر اسمبلی کے پانچ مراحل کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں 25نومبر کو الیکشن ہوں گے جبکہ اس کے اگلے ہی روز وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کھٹمنڈو میں سارک کانفرنس کے موقع پر موجود ہوں گے۔شیڈول کے مطابق سارک جائنٹ سیکرٹری سطح کا اجلاس22نومبراور سیکرٹریز خارجہ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس 23-24نومبر کو ہوں گے۔25کو سارک کے آٹھ ممالک کی منسٹرز کونسل اکٹھے ہوں گے اور 26نومبر کو سارک کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔27نومبر کو افغانستان،بنگلہ دیش،بھوٹان،انڈیا،مالدیپ،نیپال ،پاکستان اور سری لنکا کے رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ اعلان جاری کیا جائے گا۔نیپال کے وزیر خارجہ مہندرا بہادر پانڈے کے مطابق سارک کے رکن ممالک سارک کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کرا سکتے ہیں ۔نیپالی وزیر خارجہ نے’’انڈین ایکسپریس‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ سارک کانفرنس کے ٖغیر رسمی سیشن کے دوران ہم پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کرا سکتے ہیں،دونوں لیڈر ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں اور پرامن طور پر اپنے تنازعات حل کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے آنے والی اطلاعات میں سارک کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات نہ ہونے کی بات کی گئی تھی۔25نومبر کی رات سے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے پہلے مرحلے کے الیکشن کی صورتحال سامنے آجائے گی اور اس کے الگے دو دن وزیر اعظم نواز شریف اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ سارک کانفرنس میں موجود ہوں گے۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ امریکہ میں پاکستان اور امریکہ تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم رہا ہے اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں اچھے تعلقات کا عندیہ ملتا ہے۔اس کے ساتھ افغان صدر اشرف غنی کا پاکستان کا دورہ بامقصد ،بامعنی اور دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کا پیش خیمہ ہے اور ساتھ ہی امریکہ نے افغانستان سے نیٹو فورسز کے اس سال کے آخر تک انخلا کے بعد بھی دو سال تک اپنے فوجی دستے افغانستان رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ سرگرمیاں اس بات کی نوید دیتی ہیں کہ اب خطے میں جنگ و جدل اور محاذ آرائی کے بجائے تنازعات کے خاتمے اور امن و ترقی کے ایک نئے دور کی امید کی جا سکتی ہے۔ماضی قریب اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مزاکرات شروع ہونے اور مختلف امور پر اتفاق، امریکی حکومت کی ” حوصلہ افزائی” سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔مسئلہ کشمیرکو باہمی مزاکرات سے حل کرنے کے عہد پر دونوں ہمسایہ ممالک 43سال گزرنے کے باوجود ناکام چلے آ رہے ہیں اور بھارت اس مسئلے کو اپنی طاقت کے بل بوتے حل کرنے کی پالیسی پر قائم نظر آتا ہے۔بھارت کی بی جے پی حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے خلاف سخت روئیہ اپنایا ہوا ہے اور کشمیر کی سیز فائر لائین پر جارحانہ فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ امریکی صدر اوبامہ کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف کو خود فون کرنے سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں امریکہ پاکستان کو نظر انداز نہیں کرے گا۔وزیر اعظم نواز شریف نے دانشمندانہ طور پر امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارتی حکام سے بات کریں اور اس حوالے سے امریکہ اپنا موثر کردار ادا کرے۔
دو دن قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ضلع کشتوار میں ‘بی جے پی’ کی انتخابی ریلی سے خطاب میں کہا کہ کشمیر کو پاکستان کی نہیں ترقیاتی کام کی ضرورت ہے۔ نہوں نے سیلاب سے متاثرہ کشمیریوں کو دلاسہ دیا کہ وہ یہاں ان کے آنسو پونچھنے آئے ہیں۔نریندر مودی نے کہا کہ کشمیر میں عرصے سے دو خاندان ہی حکومت کرتے آئے ہیں وہ اس کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے ،کشمیری نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے بہتر مواقع کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کو سیاست جوڑنے کی ضرورت نہیں،کشمیری صرف کشمیری ہے۔رتی وزیر اعظم مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں44سیٹیں لینے کا دعوی کر رہے ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی الیکشن سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسندوں کے خلاف گرفتاریوں ،قید اور تشدد کی مہم شروع کر رکھی ہے اور بڑی تعداد میں عام کشمیری نوجوانوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام بہتر سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم کو بھیانک سیلاب سے متاثرہ کشمیریوں کا کتنا خیال ہے،ایک طرف بھارتی حکومت اور انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرین کی خود کوئی مدد نہیں کی اور دوسری طرف متاثرین کے لئے آنے والا امدادی سامان بھی روک کر ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔نریندر مودی کشمیریوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش میں ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے اس الیکشن کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی کام کرائے جائیں گے لیکن کشمیری جانتے ہیں کہ بھارتی حکمران کشمیر سے متعلق وعدے اور دعوے تو فورا کر لیتے ہیں لیکن اپنے وعدے اور اعلان سے” قلا بازی” کھاتے انہیں دیر نہیں لگتی۔کشمیریوں کو تو آج بھی بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کی لال چوک سرینگر میں کیا گیا وہ اعلان اور وعدہ یاد ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کا وعدہ کیا تھالیکن پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارتی نیتا کس مکاری سے اپنی ہی کہی بات سے مکر جاتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم کی یہ بات بھی کشمیریوں کے لئے بے معنی ہے کہ”کشمیر کو پاکستان کی نہیں ترقیاتی کام کی ضرورت ہے”، کشمیریوں کا یہ مطالبہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے حل کیا جائے،تاہم اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ رائے شماری کرانا ممکن نہیں تو پھر یہ بار بھارت پر ہی عائید ہو تا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کی تجاویز کے ساتھ سامنے آئے۔بھارت کچھ بھی کر لے،وہ کشمیریوں کے جذبہ اور عزم آزادی کو تسخیر نہیں کر سکتا۔ بھارت اگر خطے میں امن اور ترقی چاہتا ہے تو اسے لازمی طور پر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہی ہو گا،بھارت اپنی فوجی طاقت کے بھر پور استعمال اور پاکستان کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو نظر انداز نہیں کر سکتا،جلد یا بدیر بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہی ہو گا۔کشمیری اپنی غلامی کے ”سٹیٹس” میں اضافے کے متمنی نہیں بلکہ وہ ریاست کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اسی مقصد کے لئے بھارت کے خلاف ہر طرح کی جدوجہد کرتے ہوئے بے مثال قربانیاں بھی دے رہے ہیں۔کیا مودی سرکاری واقعی کشمیریوں کے رستے زخموں پر مرہم رکھنے کی حقیقی خواہش رکھتی ہے یا یہ سب بی جے پی کی طرف سے کشمیریوں کو ورغلانے،انہیں دھوکہ دینے کا محض ایک حربہ ہے؟آخر مودی سرکار ایسا کیا کر سکتی ہے کہ کشمیری بالخصوص گزشتہ26سال سے بھارت کے ہاتھوں ہونے والی قتل و غارت گری، تمام مقبوضہ کشمیر کوظالمانہ فوجی حراست میں رکھے جانے اور ہر قسم کے جابرانہ،بدترین توہین اورانتقامی سلوک کو بھول جائیں گے؟ بھارت کے ہاتھوں جو ظلم کشمیریوں نے سہے ہیں اور سہہ رہے ہیں کہ اس سے ان کے جسم ہی نہیں ان کی روحیں بھی گھائل ہیں۔بھارتی حکومت تومقبوضہ کشمیر میں تعینات بھاری تعداد میں متعین اپنی فوج میں نا تو کمی کا کوئی ارادہ رکھتی ہے اور نا ہی مقبوضہ کشمیر میں فورسز کو قتل و غارت گری کا کھلا لائیسنس عطا کرنے پر مبنی نافذ ’’افسا‘‘ و دیگر قوانین کے خاتمے میں کوئی دلچسپی ظاہر کرتی ہے،تو پھر کشمیری کس طرح بھارتی حکومت والی اس پارٹی پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو اپنی ہندوانہ انتہا پسندی اور مسلم دشمنی کے اقدامات پر اعلانیہ فخر کرتی ہے۔بھارت کی بی جے پی حکومت واضح طور پر کشمیریوں کو مکمل طور پر بے اثر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور کشمیر سے متعلق بی جے پی کی حکومت اس طرح کی خطرناک حکمت عملی اپناتے ہوئے مہلک نتائج کو دعوت دے رہی ہے۔بی جے پی کی حکومت کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ کانگریس کی چانکیائی سازشیں جب کشمیریوں کو ورغلا نہیں سکیں، جب آٹھ لاکھ سے زائد فوج کے بھرپور ظالمانہ استعمال کے باوجود بھارت کشمیریوں کی مرضی کو تسخیر نہیں کر سکا تو اب بی جے پی حکومت اپنی ہٹ دھرمی کو کیسے مقبوضہ کشمیر میں رائج کر سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:مسلم لیگ ن جموں چھ کے زیر اہتمام استحکام پاکستان ریلی ،سینکڑوں افراد کی شرکت

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker