پاکستانتازہ ترین

گیلانی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں سزا پر مبارکباد دی گئی ہو،آئینی ماہرین

اسلام آباد ﴿بیورو چیف سے﴾آئینی و قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہلے سزا یافتہ وزیر اعظم ہیں جنہیں سزا پر مبارکباد دی گئی ہے جس دن کوئی آمر عدلیہ میں پیش ہوا عدلیہ کو سیلوٹ پیش کریں گے ،عدلیہ فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی ہار نہیں مانے گی ،لڑائی لڑے گی ،سزا کے بعد وزیر اعظم رکن اسمبلی نہیں رہے۔وزیر اعظم کو پانچ جنوری کے فیصلے کے بعد خود ہی مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔توہین عدالت کیس میں عدالت عظمی کے وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد عدالتی فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالتوں کو سوچنا چاہیے ،پاکستان ایسا واحد ملک ہے جہاں سزا یافتہ وزیر اعظم کو مبارکباد دی گئی ہے ،وزیر اعظم جنہیں ابھی تک اپنا روز مرہ کام کرنا ہے ان پر ابھی نا اہلی کو تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس میں توہین عدالت ہو۔وزیر اعظم کی نا اہلی کا طریقہ کار طویل ہے ۔آئین توڑنے والوں کو نہ تو آج تک عدلیہ میں پیش ہوتے دیکھا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی آئین توہین عدالت کا مقدمہ درج ہوا ہے جس دن کوئی آمر عدلیہ میں پیش ہوا میں عدلیہ کو ایک نہیںتین سلام پیش کروں گی اگر عدالت اس قاعدے و قانون سے چلے گی تو وزیر اعظم نہیں رہے گا۔سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی اپنی ہار نہیں مانے گی اور لڑائی لڑے گی ،عدالتی فیصلے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو لکھیں مگر یہ خیال ہے کہ حکومت ایسا نہیں مانے گی اور اس طرح حکومتی عمل کو جاری رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ لڑنا پڑا تو لڑے گی بلکہ مستقل طور پر لڑتی رہے گی مگر اپنی ہار نہیں مانے گی ۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی یہ بات درست نہیں کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ،وزیر اعظم کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار ،بابر غوری ،ممبر قومی اسمبلی عدلیہ میں پیش ہوئے ۔ایم کیو ایم کا یہ موقف ہے کہ عدلیہ فیصلوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔ایڈووکیٹ رشید اے رضوی نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا فیصلہ مختصر ہے ۔تفصیلی فیصلے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم گیلانی پانچ جنوری کو ہی ڈس کوالیفائی ہو گئے تھے انہیں چاہیے تھا کہ اسی دن ہی خود مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ۔سابق صدر سپریم کورٹ بار جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد حکومت کو اپیل کرنے کا حق ہے وہ فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں ،یوسف رضا گیلانی اس وقت وزیر اعظم نہیں رہے انہیں خود استعفی دینا چاہیے۔آئینی ماہر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ سزا ہونے کے بعد وزیر اعظم گیلانی کو وزارت عظمی سے خود ہی مستعفی ہو جاتے ،حکومت کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تحریری فیصلہ دیکھنا ہوگا ۔اے کے ڈوگر کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق سزا ملنے کے بعد گیلانی وزیر اعظم نہیں رہے۔ ایڈووکیٹ افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 کی خلاف ورزی پر وزیر اعظم توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعظم وزارت عظمی کے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارتی شہر ممبئی میں ٹرین میں آگ لگنے سے 9 افراد ہلاک، متعدد زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker