علاقائی

نیٹوسپلائی کی بحالی،امریکہ کیساتھ تعلقات کی شرائط کافیصلہ پارلیمنٹ کریگی،گیلانی

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نے پارلیمنٹ کے فیصلوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ نیٹو سپلائی کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا تاہم حتمی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں، جوہری کانفرنس میں ان اثاثوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوہری تحفظ کانفرنس میں شرکت کے لئے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول روانہ ہونے سے قبل ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ ان کے وفد میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، امریکہ میں پاکستانی سفیر شیری رحمان اور سابق وزیر مملکت صمصام بخاری کے علاوہ وزارت خارجہ کے حکام شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جوہری سلامتی بارے سربراہوں کا دوسرا اجلاس گزشتہ برس واشنگٹن میں جوہری اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کا تسلسل ہے جس میں جوہری سلامتی کو مزید موثر بنانے پر سربراہان کی سطح پر بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ان کی مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہونگی۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سیول میں ہونے والی جوہری کانفرنس جوہری اثاثوں کو مزید محفوظ بنانے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس کانفرنس میں ان اثاثوں کو مزید محفوظ بنانے پر بھی بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری اثاثوں کے لئے پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود اور محفوظ ہے۔ اس حوالے سے کسی ملک کو شک میں نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کیلئے پہلے بھی بات ہوئی ہے۔پاکستان سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا حصول چاہتا ہے اور یہ ہماری ضرورت ہے اور ہم اس کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ خطے بالخصوص بھارت کے ساتھ جوہری توازن، علاقائی استحکام کیلئے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے حسب اختلاف کے حوالے سے یہ کہا کہ وہ یہ کہہ کر ہماری حمایت کر رہے ہیں کہ حکومت نے قانون سازی اور دیگر امور میں پارلیمنٹ اور حزب اختلاف کو کبھی بلڈوز نہیں کیا۔ نیٹو سپلائی بحالی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے پارلیمنٹ کے فیصلوں کو کبھی نظرانداز نہیں کیا ہے۔ ہماری جماعت نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دیں اور ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ جہاں تک نیٹو سپلائی کی بحالی کا تعلق ہے تو اس کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کرینگے تاہم حتمی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نئی شرائط کا تعین کرنے کی سفارشات بھی پارلیمانی کمیٹی نے تیار کی ہیں جس میں تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل تھی اور ان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے، نیٹو سپلائی کی بندش اور شمسی ایئربیس خالی کرانے کا فیصلہ حکومت نے خود کیا تھا اپوزیشن یا کسی کے کہنے پر نہیں کیا۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو کبھی بلڈوز کیا ہے اور نہ ہی کرنے دینگے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ سیول میں جوہری کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات ہو گی جس میں افغانستان کی صورتحال کے علاوہ دو طرفہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  رائیونڈ:تبلیغی مرکز کے قریب گندگی کے ڈھیروں سے تعفن اٹھنے لگا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker