پاکستانتازہ ترین

سیاسی نجومیوں کےسارے دعوے غلط ثابت ہو رہےہیں،وزیراعظم

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ  ادھار پر لیا ہوا اے این ایف کا افسر مجھ سے چار سال کی ملاقاتوں کی فہرستیں مانگ رہا ہے۔ اس پر واضح کر دیا ہے کہ سویلین حکومت میں رہتے ہوئے سویلین آئین اور قانون پر چلنا ہو گا۔ وہ کام نہ کریں جو پہلے کبھی نہ ہو ئے ہوں۔ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کورٹ کچہریوں کا سامنا کر رہے ہیں اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ سیاسی نجومیوں کے سارے دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں ۔ پیپلزپارٹی کی منزل اقتدار نہیں بلکہ بھٹو کامشن ہے ۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمے کے لئے دنیا کا سب سے بڑا پروگرام ہے ۔ اس پروگرام میں شامل ہونے کے لئے کسی ایم پی اے ‘ ایم این اے کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔ صوبوں بھی اس پروگرام کی نقل کرنے کی کوشش کی لیکن چل نہیں سکے۔ اس پروگرام کے ذریعے 30 لاکھ بچوں کو مفت تعلیم دیں گے۔ اس خیالات کا اظہار انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نئی بیمہ صحت سکیم کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ ‘ وفاقی وزیر فرزانہ راجہ کے علاوہ وفاقی وزرائ اور اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ میرا یہ خواب تھا کہ غریب لوگوں کے لئے لائف اور ہیلتھ انشورنس ہونی چاہئے اور آج اس کا افتتاح کرنے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008 ئ میں جب وزیراعظم بنا تو اپنے منشور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اعلان کیا اور اس وقت یہ پروگرام بہت مشکل نظر آرہا تھا اور ہم نے اس پروگرام کو شفاف بنانے کے لئے وفاقی وزرائ کا بورڈ بنایا تاکہ کسی بھی مسئلے کو حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہر سیاسی پارٹی کی طرح سیاسی اندا ز میں ہر رکن اسمبلی کو 8 ہزار فارم دئیے جس پر ہمیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ یہ سیاسی پروگرام ہے لیکن ہم نے تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا انہوں نے کہا کہ تنقید کے بعد صدر نے پوچھا کہ آپ نے اپوزیشن اور فاروق لغاری کو بھی فارم دے دئیے ہیں تو میں نے کہا کہ فاروق لغاری جب اپنے ورکروں میں فارم تقسیم کریں تو  یہ کمپنی کی مشہوری ہو گی اس کے بعد صوبوں نے بھی اس پروگرام کی نقل کی لیکن وہ پروگرام چل نہیں سکے ۔ کیونکہ اس میں وہ جذبہ ‘ سوچ اور ویژن نہیں تھا جو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا تھا وزیر اعظم نے کہا کہ فارموں کی تقسیم کے بعد ہم نے گھر گھر جا کر غربت سروے کیا اور اب مجھے بھی نہیں پتہ کہ میرے حلقے میں اس سے کون لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سیاست سے بالاتر اور صرف غریبوں کے لئے ہے اور کسی کی سفارش کے بغیر چلتا ہے اس لئے اسے دنیا میں غربت کے خاتمے کا سب سے بڑا پروگرام سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے شکایات سیل بھی قائم کیا ہے اور شکایات کے بعد اس کی درستگی ہوتی جائے گی اور پروگرام کامیاب ہو گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پروگرام ہر دور میں بنتے ہیں لیکن تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے رک جاتے ہیں اور تسلسل ہی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت ہے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام کامیاب ہو گا تو پاکستان ایک ویلفیئر سٹیٹ بن کر ابھرے گا اور کسی کو یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ حکومت نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ مکمل نہیں کیا انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غریبوں کو مالی امداد کے ساتھ وسیلہ کاروبار ‘ وسیلہ صحت بھی ملے گا اور ان کی انشورنس بھی ہو گی اور اب ایک اور پروگرام کے تحت 30 لاکھ بچوں کو مفت تعلیم بھی دی جائے گی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ غریب بیماری میں علاج نہیں کرا سکتا اور اگر گھر کا سربراہ ختم ہو جائے تو گھر تباہ ہو جاتا ہے لیکن اب علاج بھی ہو گا اور سربراہ کی وفات پر بیمہ کی رقم بھی دی جائے گی۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ایک حکومت کا پروگرام دوسری حکومت ختم کر دیتی ہے اور پیسہ ضائع ہو جاتا ہے اس لئے پروگرام عوامی نمائندوں کو بنانے چاہئیں اور پھر خلوص نیت سے ان پر عمل ہونا چاہئے اگر اخلاص ہو گا تو دنیا آپ کی مدد کرے گی اسی وجہ سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا اور بہت سی کمپنیوں سے مدد مل رہی ہے انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران غریب لوگوں کے لئے رقم مانگی لیکن تنقید کی گئی کہ یہ لوگ کھا جائیں گے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مہاجرین 30 سال سے گھروں کو واپس نہیں گئے لیکن مالاکنڈ میں 2.5 ملین مہاجرین کو 90 دن میں گھروں کو واپس بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تنقید پر خوش ہوتے ہیں تنقید ضرور کی جائے ہم تنقید کو مثبت اندازمیں  لیتے ہیں ‘ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کی ٹیم کو جنہوں نے قرار داد پاکستان کی حمایت کی اور ملک بنایا انہیں 11 سال بعد 1958 ئ میں یک جنبش قلم کرپٹ قرار دے کر  نااہل قرار دیا گیا لیکن آج بھی لوگ قائداعظم کا نام عزت سے لے لیتے ہیں ایوب خان کا نہیں اس کے بعد 1956 کا آئین بھی 1958 ئ میں ختم ہو گیا اور انڈر 19 ٹیم کے ساتھ پاکستان چلتا رہا اور بھارت ترقی کرتا رہا جبکہ ہم پیچھے رہ گئے اس کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو آئے جنہوں نے غریبوں کو  عزت نفس دی۔ شناخت دی اور ووٹ کا حق دیا اور ملک میں انقلاب لے کر آئے اور آج بھٹو شہید کو نہ دیکھنے والے بھی زندہ ہے بھٹو کے نعرے لگا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھٹو کا قصور یہ تھا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک کو 1973 ئ کا آئین دیا اگر یہ آئین نہ ہوتا تو ملک قائم
نہ رہتا ۔ انہوں نے  ملک کو ایٹمی قوت دی لیکن انہیں شہید کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھٹو کو سزا دینے والے جج نے بھی کہا کہ اس نے دبائو میں بھتو کو سزا دی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اس کیس کو ری اوپن ہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو آئیں تو ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی اور کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا لیکن حکومت توڑ دی گئی اور پھر میاں نواز شریف  اور بے نظیر کی حکومتیں توڑی گئیں اور کسی کو بھی پروگراموں پر عمل درآمد اور عوام کی ترجمانی کا حق نہیں ملا انہوں نے کہا کہ بھٹو اور محترمہ کو دنیا  سے تو اٹھا دیا گیا لیکن ان کے تصورات کو ذہنوں سے نہیں نکالا جا سکا ان کا ویژن اور سوچیں ملک میں ہمیشہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات میں بے نظیر کے مشن کے مطابق کامیاب ہوئے اور ہمارے آنے کے بعد نجومی تاریخیں دیتے رہے لیکن ہم نے 4 سال پورے کر لئے اور تاریخ میں پہلی بار صدر آصف علی زرداری نے اسمبلی سے 5 بار خطاب کیا ۔ ضمنی انتخابات اور سینٹ کے انتخابات کے خلاف سازشیں کی گئیں لیکن انتخابات ہوئے اور سونامی لانے والوں کا حشر قوم نے دیکھ لیا اب پھر دن گنے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا مشن اقتدار نہیں یہ ایک تحریک کا نام ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کیلئے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی کے دفتر میں خصوصی اجلاس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker