پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نے جیو ٹی وی کے پروگراموں کے حوالے سے پیمرا کے الزامات کو میڈیا کمیشن رپورٹ سے حذف کرنے کے لئے 15 روز میں جواب طلب کرلیا

geo tvاسلام آباد (بیورو رپورٹ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نجی ٹی وی پر چلنے والے پروگراموں کے حوالے سے پیمرا افسران کے الزامات کو میڈیا کمیشن رپورٹ سے حذف کرنے کے لئے سیکرٹری اطلاعات اور وفاقی حکومت سے15 روز میں جواب طلب کرلیا ہے جبکہ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پیمرا افسران کا اپنے بیانات سے انکار بدقسمتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ عدالت کا مقرر کردہ کمیشن جھوٹا ہے اس لئے عدالت وزارت اطلاعات سے اس حوالے سے وضاحت طلب کرے گی ۔انہوں نے یہ ریمارکس پیر کے رز دیئے ہیں ۔جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔میڈیا کمیشن کیس کی سماعت جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی ۔اس دوران درخواست گزاروں کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے ۔حامد میر عدالت پیش نہیں ہوئے جبکہ اسد کھرل ذاتی طور پر پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا کہ دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں جس میں ایک حامد میر اور جبکہ دوسری درخواست ہم نے آزاد میڈیا گروپ کے طور پر دائر کی تھیں ۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ درخواستوں کا موضوع یکساں ہے۔ میڈیا کمیشن نے رپورٹ دی تھی جس میں پیمرا افسران جنگ اورجیو پر الزام لگایا تھا کہ وہ بیرونی پیسے سے مہم چلا رہے ہیں ۔آپ کی اصل استدعا کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی استدعا کو دیکھ لیں ۔ممکن ہے کہ اس حوالے سے دیگر فریقین جوابات داخل کریں۔آزاد گروپ کے وکیل نے کہا کہ اصل درخواستیں اب سامنے نہیں ہیں۔ذوالفقار خالد ملوکا نے کہا کہ وہ پیمرا کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں ۔میڈیا کمیشن نے دوجگہوں پر الزامات لگائے ہیں تاہم پیمرا نے ان سے انکار کیا ہے۔ جسٹس جیلانی نے کہا کہ پیمرا کے انکار کے بعد آپ درخواست کی سماعت چاہتے ہیں یا نہیں ابصار عالم نے کہا کہ جو میڈیا کمیشن میں پیمرا افسران کے بیانات دیئے تھے ان کو ختم کیا جائے جاوید جبار نے بھی ایک خط لکھا ہے کہ ان سے بھی وضاحت مانگی جانی چاہیے ۔آخر تو وہ ایک ذمہ دار عہدے پر بیٹھے ہوتے ہیں اس طرح کے الزامات لگانے پر لوگ طیش میں آ سکتے ہیں اور حامد میر سمیت لوگوں پر حملہ کر سکتے ہیں ۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں ٹرائل نہیں کر سکتی ۔آپ ہرجانے کا دعوی کر سکتے ہیں ۔آئین و قانون نے عدالتیں بنا رکھی ہیں، پرائیویٹ شکایت بھی ہو سکتی ہے ۔اخلاقی حوالے سے آپ کا کنسرن اصولی ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے ۔وہ انکار بھی کررہے ہیں ۔ایک عنصر ندامت کا بھی ہوتا ہے اگر ایک شخص ایسا کردے آپ اس کو معافی مانگنے کا اشارہ سمجھ سکتے ہیں ۔آپ کا معاشرے میں مقام متاثر نہیں ہوتاباقی آپ جو کہیں۔ابصار عالم نے کہا کہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے ان کی ندامت سے ہم ایک حد تک مطمئن ہیں تاہم ان کے کئے گئے الفاظوں کو مس کوڈ کیا جارہا ہے۔ جسٹس جیلانی نے کہا کہ ہم ان کا بیان ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔آپ کی طرف سے کر دیئے ہیں کہ آپ نے ان کو معافی قبول کرلی ہے ۔اس دوران ہم کمیشن رپورٹ بارے آرڈر بھی جاری کر سکتے ہیں جس کو ابصار عالم نے تو قبول کیا مگر جیو ٹی وی کے وکیل نے کہا کہ پیمرا سے براہ راست متاثر ہیں ۔ایک پروگرام امن کی آشا اور دوسرا ذرا سوچئے کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے گئے ہیں وہ قابل افسوس ہیں ۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ جب پیمرا نے اس حوالے سے کوئی شہادت ہی جمع نہیں کرائی آپ پر کیا اثرات ہوتے ہیں ۔وکیل نے کہا کہ ہم نے تو معافی قبول کی ہے ۔میری استدعا یہ ہے کہ پیمرا افسران کے بیان سے ان کی حیثیت مجروح ہوئی ہے۔اس کا ازالہ ہوناضروری ہے۔ہم کسی اور فورم سے رجوع کر سکیں۔جسٹس جیلانی نے کہا کہ اگر آپ تازہ سماعت کی درخواست دیتے ہیں تو کیا وہ حق میں بہتر ہوں گی ۔وکیل نے کہا کہ ہم متاثر فریق ہیں ہم انہیں اس طرح سے معاف نہیں کر سکتے۔اگر انہوں نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ حقوق محفوظ رکھتے ہیں ۔میڈاس کے وکیل یاسین آزاد ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے۔طارق حسن نے کہا کہ میڈیا کمیشن رپورٹ پر عمل ہونا چاہیے اور حکومت کی جانب سے صرف اپنے پسندیدہ گروپ کو اشتہارات کی ترسیل بند ہونی چاہیے۔ایف بی آر کے وکیل رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 19 آرگنائزیشن نے آڈٹ کرانے سے انکار کیا تھا ۔ایف بی آر اس میں شامل نہیں ہے ہمارا باقاعدہ آڈٹ کیا جارہا ہے۔آڈیٹر جنرل آفس کی جانب سے بتایا گیا کہ ایف بی آر میں معاملے کی بات کررہے ہیں وہ کیس اور ہے۔ایف بی آر آڈٹ نہیں کراتا۔عدالت نے آڈیٹر جنرل آفس کو ہدایت کی ہے کہ آپ ایف بی آر کے جواب پر جواب داخل کریں۔ ذوالفقار خالدملوکا نے بتایا کہ پیمرا افسران نے تحریری جوابات داخل کئے ہیں ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ میڈاس کے حوالے سے رپورٹ آگئی ہے ۔آپ کی بات غلط ہے ۔آپ کے خلاف کمیشن نے رپورٹ نہیں دی ہے بلکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ تھی جس کے خلاف آپ نے اپیل دائر نہیں کررکھی تو آپ کی درخواست ہم کیسے سن سکتے ہیں۔جیو ٹی وی کے وکیل طارق نے کہا کہ پیمرا کو ہدایت کی جائے کہ جو چینلز ہمارے خلاف اس معاملے کو اچھال رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔عدالت نے حکمنامہ تحریر کراتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی کے آرڈر میں پیمرا کے افسران کو نوٹس جاری کئے تھے اور ان سے وضاحت طلب کی تھی ۔جس پر انہوں نے اپنے جوابات میں نہ صرف ان الزامات سے انکار کیا بلکہ ندامت کا بھی مظاہرہ کیا ۔پیمرا افسران الزامات کے جواب کوئی شہادت اور میٹریل بھی عدالت میں پیش نہیں کر سکے
ہیں۔ میڈاس ،حامد میر اور ابصار عالم نے اپنی درخواستوں میں کہا ہے کہ پیمرا افسران اپنے الزامات کی تائید میں شہادت نہیں دے سکے اس لئے کمیشن رپورٹ میں دیئے گئے ریمارکس رپورٹ سے ختم کئے جائیں ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا جائے کہ وہ اس حوالے سے عدالت میں دلائل دیں اس بارے میں انہیں وقت دیا جاتا ہے کیس کی مزید سماعت 15 روز بعد کی جائے گی جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ پیمرا افسران کا انکار بدقسمتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ جیسے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جھوٹ بولا ہے عدالت نے کہا کہ سیکرٹری اطلاعات کو عدالتی حکم کی کاپی ارسال کی جائے وہ اس بارے میں جواب داخل کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button