تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

جرمن کی ایک منافع بخش کمپنی

آج میں یہاں ایک ایسی کمپنی کا ذکر کر رہا ہوں جس نے الیکٹرک اور الیکٹرانکس کی دنیا میں نہ صرف نام کمایا ہے بلکہ جدید سہولتیں بھی فراہم کی ہیں ۔آج اس انجینئرنگ کمپنی کا بین الاقوامی مارکیٹ میں طوطی بولتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ترقی پزیر ممالک کی صنعتی ترقی میں اس کمپنی کا عظیم کردار ہے جسے تا قیامت بھلایا نہیں جا سکتا۔اس کمپنی کا نام سیمنز ہے۔
1890میں سیمنز کمپنی کے ملازمین کی مجموعی تعداد 4500تھی جن میں 2000 سے زیادہ بیرونی ملکوں میں تھے۔ اس وقت سیمنز کمپنی کے ملازمین کی تعداد تقریباً 380000جن میں تقریباً180000کا تعلق دنیا کے مختلف ملکوں سے ہے اور آج دنیا کے 45ممالک میں کمپنی کے مشترکہ منصوبے موجود ہیں ۔
الیکٹرو ٹیکناوجی سیمنز کمپنی کا خصوصی شعبہ ہے ۔ اس کا آغاز ورنر سیمنز کے ایجاد کردہ جدید ٹیلی گراف سسٹم8 سے ہوا۔ جسے اس کے پارٹنر میکنگ جان جارج ہلسکی نے عملی شکل دی۔۔کمپنی کو پہلا بڑا آرڈر 1847میں برلن اور فرینکفرٹ کے درمیان 500کلو میٹر لمبی ٹیلی گراف لائن بچھانے کا ملا تھا ۔سیمنز کمپنی نے 1853سے 1855تک صرف دو سال میں10000کلو میٹرطویل ٹیلی گراف لائن بچھائی ۔فن لینڈکو کریمیا سے ملانے والے اس ٹیلی گراف لائن کی تعمیر کا آرڈر روس نے دیا تھا۔ْ سیمنز کمپنی کی برطانیہ شاخ نے بحر اوقیانوس کے آرپار سمندر کی تہہ میں کیبل بچھایا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کیبل اسٹیم شپ تعمیر کیا گیا تھاجس کا ڈیزائن چارلس ولیم سیمنز نے تیار کیا تھا ۔ امریکہ تک براہ راست کیبل پر دو طرفہ ڈیٹا ٹریفک کا آغاز 1875میں ہو گیا تھا۔
ورنر سیمنز کی دوسری حیرت انگیز ایجاد ڈائینمو ہے جو میکانکی توانائی کی بجلی میں تبدیل کرتا ہے ۔جس سے الیکٹرک لائٹ اور ویکیوم کلینر لے کر ریفریجریٹر اور واشنگ مشین جیسی گھریلو استعمال کی بجلی سے چلنے والے آلات تیار کرنا ممکن ہوا۔بجلی سے چلنے والی دنیا کی سب سے پہلی سٹریٹ کارنے 1881میں برلن کی سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا تھا
1924میں سیمنز کمپنی نے عالمی منڈی میں اپنی ایک مد مقابل کمپنی سے تعاون کا پہلا کاروباری معاہدہ کیا جس کے بعد سے سیمنز کمپنی اور امریکہ فرم ولیسٹنگ ہاؤس باقاعدگی سے مہارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک سال قبل سیمنز اور جاپان کی فروکاوا کمپنی نے مل کر جاپان میں ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا ۔ الیکٹرانک خوردبین کی تیاری کے سلسلے میں سیمنز کمپنی نے 1930کے عشرے میں کافی پیش رفت کر لی تھی۔ ۔ الیکٹرونک خوردبین انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے جرثوموں کو ایک لاکھ گنا بڑا کر کے دکھاتی ہے۔ الیکٹرونک خوردبین کی وجہ سے طب، حیاتیات،میٹریل ٹیکنالوجی اور سائنس کے دوسرے شعبوں میں بہت زیادہ پیشرفت ہوئی ہے۔
گزشتہ تین عشروں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت اور ترقی میں مائکرو الیکڑانکس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔1953میں سیمنز پہلی کمپنی تھی جس نے انتہائی خالص سلیکون کرسٹلز کے استعمال کو اپنے نام پیٹنٹ کرایا۔ اس شعبے میں دنیا کی 80فیصد پیداوار اسی عمل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔1990 میں سیمنز مائیکرو الیکٹرانکس سینٹر نے صوبہ سیکسونی کے دارلحکومت ڈریسڈن میں مائیکرو چپس کی پیداوار شروع کی ۔ یہ نیا پلانٹ سولہ ماہ کی ریکارڈ مدت میں تعمیر کیا گیا۔ اس نے کمروں کو آلودگی سے پاک صاف رکھنے کے سلسلے نئے عالمی معیار قائم کیے۔ سیمنز کمپنی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیش رفت اور تجارت و کاروبار میں کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کی سماجی بھلائی کے میدان میں بھی ایک ساتھ پیش قدمی کی۔ ورنر سیمنز نے 1849میں میں مشین سازی کے شعبے کے کارکنوں کے لیے بیماری اور موت کے انشورنس کی سکیم کے اجراء میں مدد کی اور 1908میں ہیلتھ انشورنس کمپنی کے قیام میں پہل کی ۔ موجودہ دور میں بیمے کی لازمی اسکیمیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔ انہوں نے اپنے مد مقابل سرکاری اداروں سے پندرہ سال پہلے 1872میں کارکنوں کی بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے کمپنی پنشن کا آغاز کیا۔ سیمنز کمپنی کا پہلا صحت یابی مرکز 1910میں قائم ہوا۔ کمپنی نے 1858میں اپنے ملازموں کو کمپنی نے منافع سے بونس دینے کا آغاز کیا۔ کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے کام کے وقت کا دورانیہ ساڑھے آٹھ گھنٹے اس وقت مقرر کیا تھا جب دوسری کمپنیوں میں کارکنوں سے دس گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی تھی۔
ورنر سیمنز اس بات کو زندگی کی بنیادی حقیقت سمجھتے تھے کہ مدمقابل کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ کمپنی کے کارکن اپنے حالات کار سے مطمئن اور خوش ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ادارے اپنے کارکنوں کے لیے سماجی بھلائی کی اسکیموں پر عمل کرتے ہیں اور دیگر فوائد کا اہتمام کرتے ہیں ان کے کارکن بھی خلوص لگن اور سخت محنت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔سیمنز کمپنی کے بانی 1868نے اپنے بھائی چارلس ولیم کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ اگر میں اپنے کارکنوں کو ان کا جائز حق اور حصہ نہ دوں تومیری کمائی ہوئی دولت میرے ہاتھ کو سرخ گرم لوہے کی مانند جلا دے گی۔
پاکستان میں بھی چند ایسی کمپنیاں اور انڈسٹریل یونٹس موجود ہیں جہاں سرکاری اداروں کی نسبت ملازمین کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور مالی فوائد حاصل ہیں ۔ اگر حکومت چاہے تو سب کمپنیوں اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے حالات کار بہتر سے بہتر بنا سکتی ہے اور امپلائز اوولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوٹ کے نظام کار کو مزید وسیع اور مربوط بنا کر ملازمین کی پنشنوں میں اضافہ یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ انسٹیٹیوٹ ہذا کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ بے چارے مزدور ملازمین کو اس انسٹی ٹیوٹ میں اہلکاروں کے ہاتھوں کجھل خراب ہوتے دیکھا گیا ہے یہ سرکاری ملازمین اپنے آپ کو خدا تصور کرنے لگے ہیں۔ انڈسٹریل لیبر آرگنائزیشن کے چئیرمین ہونے کے ناطے میری یہ رائے ہے کہ انسٹی ٹیوٹ ہذا کے معاملات کو صوبائی ملکیت میں دے دیا جائے ا ور صنعتی و کمرشل اداروں کی مالی شراکت سے مزدور ملازمین کو دی جانے والی 36 صد روپے ماہانہ پنشن کو دس ہزار روپے ماہانہ تک بڑھایا جانا چاہئے ۔ ایسے انقلابی اقدامات ااٹھانے والی حکومت ’’گڈ گورننس‘‘کی دعوے دار بن سکتی ہے۔پی پی پی کی حکومت کے لیے یہ ایک کھلا چیلنج ہے جو خود کو مزدوروں کسانوں کی پارٹی کہلانے کی دعوے دار بنی بیٹھی ہے۔جس ملک کے مزدور اور کسان خوشحال ہوتے ہیں وہاں غربت کے جراثیم کبھی پیدا نہیں ہوتے ۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب اسمبلی میں 3 ماہ تک حلف نہ اٹھانے والے ممبر کی رکنیت ختم کرنےکی قرارداد منظور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker