اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

غیر معیاری کشمیر کانفرنس، غیر ذمہ داری کا عملی نمونہ !

atharاسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں یکم اور دو جون کو ” انٹر نیشنل کشمیر کانفرنس” کے نام سے انعقاد ہوا۔چند ما ہ پہلے اس کانفرنس کو آزاد کشمیر کے صدر کی میزبانی میں منعقد کیاجانا تھا لیکن حریت رہنمائوں کے اعتراضات اور چند دیگر عوامل کی وجہ سے یہ کانفرنس تاخیر کا شکار ہوئی۔کانفرنس کا پروگرام جب دوبارہ تیار ہوا تو اس کی میزبانی میں میر پور یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کو ظاہر کیا گیا۔اس کانفرنس کو با مقصد ،پروقار اور موثر بنایا جا سکتا تھا۔اگر میر پور یونیورسٹی نے ہی اس کا انتظام کیا ہوتا توکانفرنس کے علمی تقاضوں اور شرکاء کی حیثیت کے معیار کا خیال ضرور رکھا جاتا ۔افسوس کہ مسٹ یونیورسٹی کا استعمال محض نمائشی طور پر کیا گیا ۔کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ہونے والی بد اخلاقی اور بد انتظامی سے ہی ظاہر ہو گیا کہ انٹرنیشنل قرار دینے  والی اس کانفرنس کا معیار اور طریقہ کار” کاز” کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اسے منفی اور نااہل طرز عمل کی ایک نئی مثال کے طور پہ دیکھا جا رہا ہے۔اس کانفرنس کے مقاصد کیا تھے؟اس کے موضوعات،شرکاء ،طریقہ کار وغیرہ کا تعین کس نے کیا؟ کیا سب کچھ عالم غیب سے نازل ہوا؟یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر سے متعلق معاملات کون چلاتا ہے ؟ کس طرح چلاتا ہے؟ اس بارے میں کوئی ذمہ دار ،جوابدہ نظر نہیں آتا۔بقول شاعر” کس سے پوچھیں گے دل کے لٹنے کا سبب”۔
اس کانفرنس پہ دو اصحاب اور ایک صاحبہ کی تحریریں نظر سے گزریں۔پہلے انجینئر مشتاق محمود صاحب کا مضمون ،اس کے اگلے روز کشمیری صحافی مقصود منتظر کی تحریر’ اور اسی روز حفصہ مسعودی کا کالم،جو اصحاب کے مقابلے میں بہتر اور ذرا ہٹ کے تھا،تاہم انہوں نے تنقیدی اور تعریفی انداز میں بیان کرتے ہوئے معاملے کومتوازن طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ۔افتتاحی تقریب کے بعد دونوں دن مختلف سیشن ہوئے جن کے موضوعات”تنازعہ کشمیر کے حل میں عالمی برادری کا کردار”،کشمیر مقامی تحریک یا بیرونی پیسے کی بل پر”،ہندستانی مقبوضہ کشمیر میں کشمیری تحریک آزادی کو دبانے کے لئے ہندوستان کا ڈیموگرافک تبدیلی کا منصوبہ”،ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اس کو روکنے کا طریقہ کار”،بی جے پی اورآر ایس ایس کی کشمیر مخالف مہم” تھے۔اگر ان موضوعات کی تیاری میں کشمیریوں کے جذبات و احساسات اور مسئلہ کشمیر کی اصل صورتحال سے آگاہ افراد موضوعات کا انتخاب کرتے تو ایسے موضوعات کا انتخاب ہوتا جو کشمیر کاز کے حوالے سے نہایت اہم امور ہیں۔تحریک آزادی میں شامل تنظیموں اور پاکستان کے کردار کے حوالے سے بھی کوئی موضوع یقینا مفید ہو سکتا تھا۔کانفرنس پر تحریر ایک مضمون میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے یقین دہانی کرائی کہ کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی مدد جاری رہے گی۔اس پر تبصرہ شاید زیادہ تلخ ہوجائے گا۔اس بات پہ ہنسی آئی کہ ان موضوعات پر تحقیقی مقالات کو محفوظ کر کے دنیا میں ہندو تا کے منفی عزائم کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے اور یہ بھی کہ اس کانفرنس کے ان اجلاسوں کے مقالات و مکالمات سے ہندو پاک اور کشمیری قیادت استفادہ کر سکتی ہے۔مقام افسوس ہے کہ” بے خبر سادگی” کا کیا مقام و انداز ہے!کیا اس طرح کی اہم تقریبات میں”اناڑی کھلاڑیوں” کو تیار کرنا ہی مقصود ہے کہ بار بار کر کے آخر سیکھ ہی جائیں گے؟اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ اس کانفرنس کو جان بوجھ کر نچلے معیار پر رکھتے ہوئے اس کا انعقاد کیا گیا ۔مسئلہ کشمیر کے حالات و واقعات،اسرار و رموز اور مسئلہ کشمیر کی زمینی حقائق کے مطابق صورتحال سے نوجوانوں کی آگاہی ہی مطلوب ہوتی ،تب بھی اسے بہت بہتر انداز میں ترتیب دیا جا سکتا تھا۔
کیا کشمیری اپنے ذہن سے سوچنے اور عمل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں؟ کیا سب کشمیری ہی کسی ” سرکاری ملازم ” کی طرح تابعدار، مجبور و بے بس ہیں؟ کیا سبھی کشمیری،جو تحریک آزادی میں شامل ہیں،ذمہ دار تو تحریک آزادی کے حوالے سے ہیں لیکن ان کی دولت و جائیداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے؟اگر کشمیریوں نے یہ کانفرنس کرائی ہوتی تو اس میں مدعو کئے جانے والے اصحاب کی عزت و تکریم کا خاص خیال رکھا جاتا ۔یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ کانفرنس کا انتظام کرنے والوں میں کوئی کشمیری شامل نہیں تھا،ورنہ وہ کشمیری روایات کا کسی نا کسی حد تک احساس ضرور کرتا،یا اگر کوئی کشمیری اس میں کسی نہ کسی انداز میں شامل تھا بھی تو یقینی طور پر وہ ان میں شامل ہو گا جو پاکستان میں ترقی کے لئے اپنی کشمیری روایات کو فراموش کر کے پاکستان میں ترقی کے رائج الوقت طور طریقے اختیار کر چکے ہیں۔ایسے افراد کی واضح اکثریت رہی جو مسئلہ کشمیر سے متاثر تو ہیں لیکن اس متعلق پوشیدہ اور غیر پوشیدہ حقائق سے آگا ہ نہیں،آگاہ ہیں تو کشمیریوں کے حق میں اس کے نتیجہ خیز تجزئیے کی صلاحیت سے محروم معلوم ہو تے ہیں۔ یوں یہ کانفرنس نمائشی،غیر معیاری،غیر ذمہ دارانہ روئیے کی ایک واضح مثال ہے اور کشمیری اسی بات کو روتے ہیں کہ کشمیر کی مقدس تحریک،جدوجہد اور قربانیوں کو کس طرح غیر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے،محض ایک ” ٹول” کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ منقسم کشمیر کے دونوں حصوں میں رہنے والے افراد کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع ملا۔لیکن جس طرح بقول علامہ اقبال” کشمیریوں کو بیچا گیا اور کتنا سستا بیچا گیا”،کے مصداق دونوں طرف کے چند کشمیریوں کو ملانے کا یہ انتظام کافی مہنگا رہا۔
اس طرح کی تقریبات میں سچ بولا جانا  اور حقائق کے تناظر میں بات کیا جانا اہم ہے لیکن اس کانفرنس میں اخباری ،سیاسی بیانات اور معصومانہ اظہار جذبات ہی نمایاں نظر آئے۔اس بات سے قطع نظر کہ اس کانفرنس سے کشمیریوں اور ان کی تحریک آزادی کا کچھ بھلا ہوا یا نہیں لیکن خوشی  ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے چندافراد کا اچھا خاصابھلا ہو گیا ہو گا، مثلاہال کا کرایہ،کھانے کے اخراجات،لازمی و ضروری اخراجات وغیرہ وغیرہ وغیرہ(اس مجموعی مسئلے کو انفرادی طور پر نہ لیا جائے)۔غیر سنجیدہ انداز میں،ناقص انتظامات سے سب کو کیا پیغام ملا؟اس کی شاید کسی کو فکر نہ ہو گی،بس کسی اخباری بیان کی طرح نمائشی انداز میں کام کر دیا گیا۔اس کانفرنس سے کوئی مطمئن ہو تو ہو،میں اس کانفرنس کے طریقہ کار ،انداز و اطوار کو دیکھتے ہوئے کسی طور بھی اس کی حمایت نہیں کر سکتا اور نہ ہی کشمیر کاز کی سنگین تر صورتحال کے پیش نظر کانفرنس کے مثبت پہلو کھوجنے کی خود فریبی میں مبتلا ہو سکتا ہوں۔اس کانفرنس پر عدم اعتماد ضروری ہے کہ شاید آئندہ بہتری کی کوئی راہ اختیار کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ: بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی ریلے نے تباہی مچادی خواتین بچوں سمیت چھ افراد ہلاک 50سے زائد افراد لا پتہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker