تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

غیرمعیاری لیبارٹریاں اور عوام

zafarگزشتہ دنوں ایک مؤقرروزنامہ اخبار میں شائع ہونے والی یہ خبرزیرنظرآئی کہ پشاورشہرکے معروف ہسپتالوں کے سامنے درجنوں جعلی لیبارٹریاں عوام الناس کو علاج کے نام پرموت کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہیں جبکہ دکھی انسانیت کی خدمت کادعویٰ کرنے والے ڈاکٹرز بھی اس دھندے میں ملوث ہیں۔رپورٹ میں الزام لگایاگیاہے کہ ڈاکٹرز مریضوں کومخصوص لیبارٹریوں میں بھیج کراپناکمیشن وصول کرتے ہیں مگراکثرمریض غلط تشخیص کے باعث موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔رپورٹر نے کسی مخصوص لیبارٹری کانام ظاہرکئے بغیرحوالہ دیاہے کہ پشاور میں حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال،لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سامنے اور ڈبگری گارڈن میں یہ لیبارٹریاں قائم ہیں ۔رپورٹ کی تفصیل میں بتایاگیا ہے کہ پچھلے دنوں محکمہ صحت کی جانب سے نوسو لیبارٹریوں پر چھاپے مارے گئے جن میں گیارہ لیبارٹریوں کوسیل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔اگرچہ مذکورہ خبر صرف پشاور کے حوالے سے تھی لیکن بادی النظرمیں دیکھاجائے تویہ محض پشاور تک محدودبات نہیں بلکہ یہ کہانی ہے صوبہ بھرکی ۔صوبے کے ہرضلع اورعلاقے میں جہاں ہسپتال قائم ہیں چاہے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال ہو،تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ہو، بیسک ہیلتھ یونٹ ہویا پرائیوٹ سیکٹر میں قائم ہسپتالیں وہاں ایکسرے اورکلینکل لیبارٹریوں کی بھرمارنظرآتی ہے بلکہ یہ ایکسرے اور کلینکل لیبارٹریزتوایسے علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں جہاں کوئی ہسپتال ہوتاہے نہ ہی معائنہ کرنے والے مستندڈاکٹرز۔ اگرچہ مریضوں کے معائنہ کے پیش نظران لیبارٹریز کاہرجگہ اور بڑی تعدادمیں ہوناکوئی بری بات نہیں بلکہ آئے روزمریضوں کی بڑھتی تعداد اور ان کی سہولت کے پیش نظراس قسم کے لیبارٹریز کاہوناخوش آئند بات ہے بشرط یہ کہ محکمہ صحت سے باقاعدہ منظورشدہ اورسند یافتہ طبی ماہرین کے زیرنگرانی ہوں اور ان لیبارٹریزمیں ٹسٹ کے لئے استعمال ہونے والے آلات جن میں سلائیڈز،بوتل،سرنج اورمائیکروسکوپ وغیرہ قابل ذکرہوتے ہیں بھی مکمل طورپر معیاری ہوں کیونکہ لیبارٹری ٹسٹ سے مرض کی اصل تشخیص ہوتی ہے اور اس کی روشنی میں طبی ماہرین مریضوں کوادویات تجویزکرتے ہیں مگربدقسمتی سے المیہ یہ ہے کہ یہاں ایسانہیں ہے ۔ یہاں قائم کلینکل لیبارٹریزمیں زیادہ تر غیرسندیافتہ اور ناتجربہ کار لوگ ہوتے ہیں جبکہ ٹسٹ کے لئے استعمال ہونے والے آلات بھی غیرمعیاری ہوتے ہیں جس کانقصان یہ سامنے آتاہے کہ ڈاکٹرمرض کی تشخیص اور مرض کے مطابق مریض کاعلاج کرنے سے قاصررہتاہے ۔ جس طرح دودن کنڈیکٹری کرنے کے بعد بننے والے ڈرائیورز گاڑیوں کے حادثات اور مسافروں کی اموات کاسبب بنتے ہیں ٹھیک اسی طرح شعبہ طب سے وابستہ ان کلینکل لیبارٹریزمیں غیرسندیافتہ اورناتجربہ کارلوگ قیمتی انسانی جانوں سے بڑی بے رحمی سے کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں۔جہاں تک اس دھندے میں طبی ماہرین یعنی میڈیکل آفیسرزاورسپیشلسٹ ڈاکٹرزکے ملوث ہونے کی بات ہے تویہ الزام کسی مخصوص ڈاکٹر پر نہیں بلکہ عام طورپر دیکھاجائے توڈاکٹرز مریضوں کوان لیبارٹریزمیں ٹسٹ کروانے بھیجتے ہیں اورتشویش کی بات یہ ہے معمولی نوعیت کے مرض میں مبتلا مریضوں کو بھی ٹسٹ کروانے کاغیرضروری طورپر کہاجاتاہے اور ڈاکٹرزمریضوں کومخصوص لیبارٹریوں میں جانے کی باقاعدہ تاکید بھی کرتے ہیں ۔ بعض علاقوں میں دیکھاگیاہے کہ ڈاکٹروں کی نہ صرف ذاتی لیبارٹریاں ہوتی ہیں جنہیں ان کے قریبی رشتہ دارچلارہے ہوتے ہیں بلکہ میڈیکل سٹورزبھی ہوتے ہیں اور ڈاکٹرزادویات لینے کے لئے ڈاکٹرزمریضوں کویہ کہہ کر بھیجتے ہیں کہ وہاں معیاری دوائیاں ملتی ہیں جبکہ یگرسٹورزمیں ملنے والی دوائی غیرمعیاری ہوتی ہے۔ اگرمریض کسی دوسرے میڈیکل سٹورسے ادویات لیتے ہیں یاڈاکٹرز کے بتائے ہوئے لیبارٹری کی بجائے کسی اور لیبارٹری میں ٹسٹ کراتے ہیں توڈاکٹرزان کوغیرمعیاری قراردیتے ہیں۔ذکرہوعوام کوبہتر طبی سہولیات کی فراہمی کاتویہاں قابل مذمت امر یہ ہے کہ غیرمعیاری کلینکل لیبارٹریز اور اس مکروہ عمل میں ڈاکٹرزکامبینہ ملوث ہوناتوالگ ایشو ہے دوسری جانب گلی کوچوں میں پائے جانے والے غیرسندیافتہ عطائی ڈاکٹرزبھی قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ بے رحم کھیل کھیلتے نظر آتے ہیں۔شہروں میں بالعموم جبکہ دیہاتوں میں بالخصوص عوام غیرسندیافتہ اورمیڈیکل کے الف ب سے مکمل ناواقف عطائی ڈاکٹرزجن میں اکثریت سرکاری سکولوں میں تعینات اَساتذہ کی ہوتی ہے کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں اور یہ شعبہ طب کے اتنے بڑے ماہرہوتے ہیں کہ لیبارٹری ٹسٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں نہ ہی بڑے سے بڑے مرض سے کتراتے ہیں ۔بلا روک ٹوک دیدہ دلیری سے علاج معالجہ میں مصروف یہ عطائی ڈاکٹر زسہولیات کی عدم دستیابی کاکہہ کرمریض کواس وقت بڑے ہسپتالوں اور ماہرمعالجین کے پاس بھجواتے ہیں جب وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں۔اگرچہ انسانیت کی خدمت اور انسانی صحت کے تحفظ کی خاطر مسیحاکے روپ میں ڈاکٹرزپر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مریض کاعلاج کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیکل ٹسٹ کے لئے قائم کلینکل لیبارٹریز اور میڈیکل سٹورزمیں دستیاب ادویات کے معیارپر بھی نظررکھیں اس ضمن میں وہ خود کوذمہ داری سے کسی صورت مبراقرارنہیں دے سکتے تاہم محض ڈاکٹرزکوذمہ دارقرار دینے سے بھی بات نہیں بنے گی سوال یہ اٹھتاہے کہ محکمہ صحت کے حکام اور اہلکارجن میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسراور ڈرگ انسپکٹرذمہ دارمجازآفیسرزہوتے ہیں کیاوہ ذمہ دار نہیں ہوتے،کیایہ سب کچھ ان کی ناک کے نیچے نہیں ہورہاہوتاہے، کیاان کوان تمام غیرقانونی سرگرمیوں کاعلم نہیں ہوتااور اگرواقعی وہ لاعلم ہوتے ہیں توپھراٹھتاسوال یہ ہے کہ ان کی اصل ڈیوٹی کیاہوتی ہے،وہ ہر ماہ بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات کن فرائض کی آدائیگی کی مد میں لے رہے ہوتے ہیں ،کیاغفلت ولاپرواہی یاباالفاظ دیگر اس غیرقانونی کاروبارکے فروغ میں شامل ایسے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبرپختونخوامیں تبدیلی کی علمبردارتحریک انصاف کی صوبائی حکومت قیمتی انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف فوری اور بلامتیاز کارروائی کے لئے مؤثراقدامات اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں  سرگودھا، بینر لگاتے ہوئے محنت کش کا 3سالہ بچہ گاڑی تلے آکر جاں بحق

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker