شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / غیر روایتی وزیراعظم اور کابینہ میں ردوبدل

غیر روایتی وزیراعظم اور کابینہ میں ردوبدل

واشنگٹن میں عالمی مایاتی ادارے آئی ایم ایف سے مذاکرات جو ابھی حتمی مراحل تک نہیں پہنچے تک تھے کے بعد وطن واپس پہنچتے ہی پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین جبکہ اگر انہیں حکمران جماعت کی ریڑھہ کی ہڈی بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا اسد عمر نے ٹویٹ کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی وزارت سے الگ ہو رہے ہیں اسد عمر کی وزارت سے علیحدگی کی خبریں15اپریل سے ذرائع ابلاغ کا حصہ بن چکی تھیں جس پر سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سخت رد عمل دیتے ہوئے میڈیا کو نہ صرف محتاط رویہ اپنانے کا درس دیا بلکہ پیمرا نے تو کچھ نیوز چینلز کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کر دئیے مگر اس وقت سب افواہیں ،اطلاعیں اور تردیدیں دم توڑ گئیں جب اسد عمر نے ذاتی طور پر باضابطہ اعلان کر دیا ٹویٹ اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہاان کا عمران خان سے کوئی اختلاف نہیں انہیں توانائی کی وزارت سنبھالنے کاکہا گیا ہے مگر انہیوں نے معذرت کر لی ،انہیں اپنے دور میں ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کرنا پڑے،ان کی جگہ آنے والے کو بھی سخت معاشی چیلنجز کا سامنا ہو گا عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشا ئاللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا،اسد عمر نے پریس کانفرنس کے دوران بتا دیا کہ کابینہ میں ردو بدل ہونے جا رہا ہے اس پریس کانفرنس کے فوری بعد وزیر اعظم ہاؤس میں مشاورتی عمل کا آغاز ہو گیا وزارت خزانہ کے ئلے کئی نام سامنے آئے مگر قرعہ فال ماہر معیشت ڈاکٹر محمد حفیظ کے نام نکلا جو اب بطور مزیر خزانہ پاکستان کام کریں گے،کابینہ تبدیلی کے اس فیصلے میں ہر وقت اپوزیشن کی کلاس لینے والے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو بھی اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے ان کی جگہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوانب طور خصوصی مشیر کی ذمہ داری سونپی گئی ،وزیر پٹرولیم غلام سرور خان جنہوں نے اس سے قبل دھمکی دی تھی کہ اگر ان سے وزارت چھینی گئی تو وہپارٹی سے الگ ہو جائیں گے کو ایوی ایشن (ہوا بازی)کا قلمدان سونپا گیا جس کا اضافی چارج وفاقی وزیر میاں محمد سومرو کے پاس تھا،وزیر پارلیمانی امور برگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ کو وزارت داخلہ کی وزارت دی گئی پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار کے بعد پہلی بار یہ وزارت مکمل طور پر کسی کے سپرد کی ہے، سپریم کورٹ میں کیس جانے سے بطور وزیر مستعفی ہونے والے اعظم سواتی بھی ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر بن گئے ہیں انہیں پارلیمانی امور کا وزیر بنایا گیاہے،وزارت پٹرولیم میں کسی وزیر کی بجائے توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کی8رکنی ٹاسک فورس کے سربراہ ندیم بابر کو معاون خصوصی بنا گیا ہے ،رالوپنڈی سے تعلق رکھنے والے وزیر صحت عامر کیانی واحد شخصیت ہیں ہیں جنہیں کابینہ سے سکبدوش کیا گیا ان کی جگہ ظفراللہ مرزا شعبہ صحت میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی ذمہ داری دی گئی ہے،کابینہ کیں ردو بدل اور با لخصوص اسد عمر سے وزارت خزانہ کی واپسی بہت حیران کن ہیں حکومت کو بد ترین معیشت وراثت میں ملی مگر اس کے باوجود بلند و باہنگ دعوے کرنے والی نئی حکومت میں معیشت کے حوالے سے کسی بہتر پلاننگ کا فقدان رہا،عوامی مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے گئے،بجلی اور گیس بلوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی حدوں کو چھونے لگی ،اس دوران سب سے زیادہ اعتراضات کا سامنا اسد عمر کو ہی کرنا پڑا ،عوام ،اپوزیشن اور کئی مقتدر حلقوں کی جانب سے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وزیر خزانہ معشیت کو بحال نہیں کر پا رہے اس لئے انہیں تبدیل کیا جائے انہی نا مساعد حالات سے خود عمران خان بھی بڑی حد تک پریشان تھے ان کے لئے اسد عمر جیسے بہترین ساتھی،دوست اور پارٹی کے اہم ترین رہنماء کو وزارت سے الگ کرنا بے حد مشکل تھا مگر انہوں نے غیر روایتی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کام بھی کر ڈالا،کچھ کے نزدیک یہ بہتر کاکردگی نہ ہونے کی وجہ بنی کچھ کے نزدیک یہ تبدیلی پارٹی کے اندر جاری کشمکش کا نتیجہ ہے مگر الراقام کے نزدیک اسد عمر کی پالیسایں جن کی بدولت وہ معیشت کو درست سمت دینے مئیں مکمل طور پر ناکام رہے جس پر عمران خان نے زبان تو نہ کھولی مگر اندر سے انتہائی پریشان تھے کیونکہ عوام کی حالت دن بدن قابل رحم ہوتی جا رہی تھی ،پھر وہ دن آ گیا جس روز انہیں ایسا فیصلہ کرنا پڑا جو شاید کوئی اور نہ کر پاتا،اسد عمر جیسے دوست کو وزارت سے الگ کرنا انتہائی غیر معمولی بات ہے عمران خان انہیں اپنی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین کہتے تھے وہ اسد عمر کی قابلیت ،تجربے،علمیت اور ان کی گفتگو سے بہت متاثر تھے وہ اکثر کتے تھے کہ حکومت تو میں اور اسد عمر چلا رہے ہیں باقی تو عیاشی کر رہے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے کڑوا گھونٹ پی کر ملکی حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو ان کی قائدانہ صالحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے،اسد عمر کی جگہ حاصل کرنے والے محمد حفیظ شیخ جیکب آباد کے رہائشی جن کے والد عبدالغنی شیخ کا شمار پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں ہوتا ہے نے اعلیٰ تعلیم امریکہ سے حاصل کی بوسٹن یونورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹر پھر1984میں یہیں سےPHDکی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے بعد ازاں ورلڈ بینک کے ساتھ منسلک ہو گئے وہ سعودی عرب میں عالمی بینک کے معاشی آپریشنز کے صدر کے عہدے پر بھی رہے، پاکستان واپس آئے تو سب سے پہلے سندھ میں صوبائی وزیر خزانہ کا عہدوں کو دیا گیا مشرف دور میں وہ وزیر نجکاری و سرمایہ کاری رہے،پیپلز پارٹی کے آخری دور میں وفاقی وزیر خزانہ رہے عوام کی چیخیں تو ان کے سابق دور میں بھی نکلیں تھیں دیکھو اس کی بار کپتان کی قیادت میں وہ کیا تیر مارتے ہیں بہر حال ڈاکٹر حفیظ شیخ کو ماہر معاشی امور سمجھا جاتا ہے جو معاشی پالیسیاں بنانے کا30سالہ تجربہ رکھتے ہیں،نئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا تعلق ننکانہ سے ہے ان کا شمار پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھاآرمی چیف جنرل کرامت کے بعدجب کور کمانڈر منگلا پرویز مشرف کو وزیر اعظم ہاؤس سے ملٹری سیکرٹری نے کال کی تو ان کے وہاں آنے سے قبل ہی بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے انہیں بتا دیا تھا کہ انہیں آرمی چیف بنایا جا رہا ہے اعجاز شاہ اس وقت لاہور آئی ایس آئی میں کام کر رہے تھے یہی وجہ بنی کہ وہ پرویز مشرف کی آنکھوں کا تارا بن گئے اور اس دور میں ایک طاقتور ترین شخصیت کے طور پر ابھرے، آرمی سروس کے بعد سب سے پہلے انہیں پنجاب کا ہوم سیکرٹری لگایا گیا ،بعد میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو بنے،اعجاز شاہ نے القاعدہ ،لشکر جھنگوی ،سپاہ صحابہ ،جیش محمد سمیت15کے قریب کالعدم جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی براہ راست نگرانی کی،امریکی صحافی ڈینئیل کے قتل میں ملوث برطانوی نژاد پاکستان عسکریت پسنداحمد عمر شیخ کی گرفتاری میں بھی ان کا سب سے اہم کردار تھا،اعجاز شاہ کا نام بے نظیر بھٹو کے ممکنہ قاتلوں کی فہرست میں بھی دیا گیا ،آئی ایم ایف کا وفد اسی ماہ پاکستان پہنچ رہا ہے امید ہے اب ورلڈ بینک کا سابق ممبر اس حوالے سے ناکام نہیں ہو گا کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ کون کیا کر سکتا ہے تاہم امید ہے حفیظ شیخ پر اب پہلے کی نسبت اور طرح کا حکمران ہے جو ناقص کارکردگی پر اسد عمر جیسی شخیت کی قربانی دے سکتا ہے ،اسد عمر کا تعلق بھی ایک فوجی گھرانے سے ہے ان کے والد غلام محمد جنرل ریٹائڑد تھے جنہیں جنرل جنرل یحی ٰ خان کا قریب ساتھی و دست سمجھا جاتا تھا،اسد عمر اقتدار میں آنے کے بعد بہت بدل گئے اقتدار سے قبل وہ جن باتوں یا پالیسیوں کے سخت مخالف تھے اب وہ انہی کے حامی نظر آنے لگے ان کے بڑے بڑے دعوے بھی ہوا ہو گئے،آئی ایم ایف کی طرف جانے میں تاخیر بھی قومی لحاظ سے بہتر نہیں تھی8ماہ میں دو ضمنی بجٹ ،2300ارب روپے قرضہ لیا گیاڈالر120روپے سے142تک چلا گیا در حقیقت اسد عمر اپنی ٹیم کو ہی نہیں سنبھال سکے ان کی وزارت کے دائرے میں کام کرنے والے اہم اداروں کے سربراہان نے انہیں ہاتھوں میں لے کر غلط پالیسیوں پر گامزن کر دیا،شہر اقتدار کے ایک ٹولے سے ان کی قرابت کی بھی بازگشت عام ہے جن کا کام ہی قبضہ اور لوٹ مار ہے ،اسد عمر کے استعفے اور کابینہ میں ردو بدل پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہاپہلے دن کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت انا،ضد اور تکبر کی زد میں ہے،وزیر اعظم ان کو چھوڑ کر معیشت کو ترجیح دیں،اگر وقت ضائع نہ کیا جاتا تو موجودہ معاشی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا،بلاول بھٹو زرداری نے کہااسد عمر کے استعفے کے بعد مثبت نتائج سامنے آئیں گے حکومت کو8ماہ بعد معلوم ہوا کہ ان کی پالیسیاں غلط ہیں جن جن وزراء کے تعلقات کالعدم تنظیموں سے ہیں انہیں بھی عہدوں سے ہٹایا جائے،مریم اورنگ زیب نے کہاتمام خرابیوں کا ذمہ دار عمران خان ہے ،مصطفیٰ کھوکھر نے کہا پی ٹی آئی کی پہلی وکٹ اڑ چکی ہے یہ50اوورز کی اننگز نہیں کھیل سکیں گے،وزیر اعظم عمران خان اگر اسد عمر کو کابنیہ سے نکلنے کا کہہ سکتے ہیں تو قومی مفادات میں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اب باری پنجاب ھکومت کی ہے انہوں نے عثمان بزادار کو واضح کر دیا ہے کہ اگر ان کی کارکردگی یہی رہی تو پھر بستر تیار رکھیں پنجاب کابینہ کے ارکان کی بھی مکمل مانیٹرنگ کی جارہی ہے جن میں سے کئی کی چھٹی اور کئی کے قلمدان تبدیل ہونے میں چند دن ہیں،

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل اوکاڑہ کا اجلاس

error: Content is Protected!!