تازہ ترینکالم

غلطیوں کے بچے

rizwan khanانسان اپنے آپ کو حد سے زیادہ عقل مند تصور کرتاہے عقل تو جانوروں کو بھی بہت ہوتی ہے ۔میں ہمیشہ سوچتا رہتا تھا کہ کیوں ہرکالی بھینس مجھے دیکھ کر غرانا اور تیور بدلنا شروع کردیتی ہے ۔بہت عرصہ سوچتا رہا لیکن عقل نے کچھ نہ سمجھایا ۔آخر ایک بظاہر ان پڑھ مگر قوت مشاہدہ سے لبریز بابے نے یہ گتھی سلجائی اور یقین مانئے کہ اس کی بات ایکسپٹ کئے بنا نہ رہ سکا ۔اس کا کہنا تھا کہ آج انسان بہت سفاک ہو گئے ہیں بھینسوں سے دودھ حاصل کرنے کی ہوس نے انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ وہ جانوروں تک کی جنسی خواہشات کا گلہ گھونٹنے کا لطف لے رہے ہیں۔ جی ہاں دودھی حضرات بھینس کو سانڈ کا قرب مہیا کرنے کی بجائے عینک بردار ڈنگر ڈاکٹر صاحب کی خدمات حاصل کرلیتے ہیں جو اپنا تھیلا ٹیکوں سے بھر کر لے آتے ہیں اور تمام جانوروں کی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ تبھی اسی دکھ اور غصے کی وجہ سے کالی بھینسیں عینک لگانے والے پر اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کرتی ہیں یا ہر عینک والے کو دیکھ کر بدک جاتی ہیں کہ کہیں دوبارہ بے لذت ٹیکا نہ ٹھوک دے ۔اسی وجہ سے میں آج تک کسی کا کیا بھگتا رہا ہوں اور بھینسوں کا ٹارچر سہتا آیا ہوں۔ غلطی کسی کی ظلم کسی کا اور بھگتان میرے ذمے۔ خیر یہ تو چھوٹی سی بات ہے۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ یہ قوم بیچاری حکمرانوں کی غلطیاں سہہ کر اب آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ چند برس پہلے میں نے یہ بات اپنے ایک دوست سے کہی تو اس نے میری بات کو یوں بول چٹکیوں میں اڑا دیا جیسے بے وفا محبوبہ اپنے محبوب کی التفات کی درخواست کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہے۔ تب میرے وہ دوست بیوروکریسی کی غار میں داخل ہی ہوئے تھے اور میں حیران تھا کہ جب غار کے دھانے پر کھڑے آدمی کی صلاحیت غوروفکر یہ ہے تو اندر اندھیرے میں بیٹھے ہوئے طاقت کے دیوتاؤں کا کیا حال ہوگا۔ان صاحب کاتب یہ کہنا تھا کہ میڈیا چینلز اور چند لکھاریوں نے یہ کام پکڑا ہواہے کہ دن رات ملکی ٹائی ٹینک کو ڈوبتا دکھا رہے ہیں حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔چینلز اپنی روزی روٹی اور خبروں کے چکر میں معاشرے میں بے چینی پھیلا رہے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے اور اس بے چینی اور افراتفری کے کاروبار کو فورا بند کردینا چاہیے۔ جھٹکا تو مجھے ضرورت سے زیادہ زور کا لگا تھا کہ کل تک میرا یہ یار جب سڑکوں پر میرے ساتھ زندگی کو گلزار بنانے کے لئے کوشش کر رہا تھا وقت کی بے رحم موجوں پر خود کو جمائے رکھنے کے لئے نبرد آزما تھا تب اس معاشرے کا ظلم نا انصافی بد صورتی سب اس پرعیاں تھی ۔لیکن مقابلے کا امتحان پاس کرلینے کے چند ماہ بعد ہی اس کی آنکھیں اورسوچ یوں بدل گئی کہ جیسے جوان بیٹے کی آنکھیں اور سوچ باپ کے ریٹائرڈ ہوتے ہی بدل جاتی ہے ۔ کھلانے اور کفالت کرنے کے خیال کے آتے ہی بیٹے کو جیسے باپ کی سالہا سال کی محنت بھول جاتی ہے پیار بھول جاتاہے وہی حال میرے اس دوست کا تھا ۔ جس معاشرے نے اپنی آغوش میں پالا اپنے سارے دکھ درد دکھائے آج اس معاشرے کی کفالت اور دیکھ بھال کرنے کی بجائے اس بیٹے نے تو سرے سے ہی کہہ دیا کہ جی ایتھے تے سب کج ٹھیک اے۔ نہ تو مجھے دماغ کھپانے کی ضرورت ہے نہ فنڈ اور بجٹ لگانے کی ضرورت ہے ۔ ٹی وی چینلز ہی بد امنی کا رونا رورہے ہیں باقی سب ٹھیک ہے۔ میں اس معاشرے کی بے بسی اور اپنے دوست کی بے حسی دیکھ رہا ہوں ۔ سمجھ نہیں آرہی کہ خود کو تسلی دوں ۔ معاشرے کو سنبھالوں یا اس دوست کو کچھ شرم دلاؤں۔ یہ دھرتی ہماری ماں ہے تو اس پر تعمیر کردہ معاشرہ ہمارا باپ ہے اور ہم ایسے ظالم اور بے حس ہیں کہ ادھر برسرروزگار ہوئے ادھر ہم ماں باپ سے بے گانہ ہوجاتے ہیں۔ سدھار تو خیر کیا لانے کوشش کرتے احساس تو خیر کیا کرتے اس دھرتی ماں کا الٹاہم صبح شام دھرتی اور معاشرے کی بے چارگی پر ہنستے رہتے ہیں یہ سب کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری جان ہمارا مال سب ہمارے ماں باپ کا ہے۔اس سبق کو بھلا دینے کی ہم قیمت بھی چکاتے آ رہے ہیں۔وہ قیمت ہے ہمارے اندر کی بے چینی اور پریشانی۔آج جو ہم سب رو رہے ہیں کراہ رہے ہیں اپنے ہی زخموں کو چاٹ رہے ہیں صبح پروردگار سے شام اپنی اپنے بچوں کی جان کی امان طلب کر رہے ہیں ۔کبھی ہم نے سوچا ایسا کیوں ہے۔سوچ بچار کی عادت تو ہم نے تب کی چھوڑ دی جب سے لوٹ مار شروع کی۔گھروں میں ہم ماں باپ کے نافرمان ہیں اور باہر اس سرزمین سے بے وفا ہیں تو بھلا کیوں کر ہمیں سکون نصیب ہو۔ہماری بیوفائی بچے جنتی رہی جن رہی ہے ۔آج یہ بچے اتنے جوان اور طاقتور ہو گئے ہیں کہ ہمیں صبح شام ذلیل کر رہے ہیں ۔دنیا کا نظام بڑا سیدھا ہے۔جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے۔ہم نے قیام پاکستان سے آج تک جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں۔بوتے وقت ہم نے کانٹوں کے بیج بوئے اور توقع ہم پھولوں کے اگنے کی لگائے تھے۔ہماری غلطیاں ہم پر برس رہی ہیں ۔ہم بوڑھے ماں باپ کی طرح حسرت سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ہمارے سب سوالوں کے جواب ہمارے پاس ہیں۔کیونکہ نہ تو ہم روٹی کو چوچی کہتے ہیں ۔نہ ہی ہم نے کبھی روٹی ناک یا کان میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔غار کے اندر والے بھی جلد ہی اندھیرے کی شکایت کریں گے۔گھٹن سے جب ان کا بھی دم گھٹے گا تو جواب یہ ہے کہ غار کے اندر تو اندھیرا اور پتھر ہوتے ہیں ۔مشعل تو ساتھ لانی پڑتی ہے۔ہماری مشعلوں کو تو کب کا کرپشن اقربا پروری اور بے حسی نے بجھا دیا۔ہم ابھی بھی پتھروں کو چٹخا بجا کر روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر میں لگے ہیں۔ہمیں اپنی غلطیاں سدھارنی ہوں گیتب جا کر اس ملک اور ہماری زندگیوں میں امن ہو گا۔بچپن میں سنا تھا کہ ایک جوان اپنے باپ کو کاندھے پر لاد چلا ۔ساحل سمندر پر کھڑا ہو کر جب لہروں کے حوالے کرنے لگا تو باپ نے فریاد کی کہ بیٹا ذرا آگے جا کر پھینکو اس جگہ کھڑے ہو کر تو میں نے بیس سال پہلے اپنے باپ کو پھینکا تھا ۔جیسی کرنی ویسی بھرنی۔کتابیں بھری ہیں ان مثالوں سے لیکن ہم نے ہر بات کو مذاق سمجھا ہوا ہے۔قدرت کے اصول اور قانون اٹل ہیں۔جو انہیں مذاق سمجھتا ہے وہ ہماری طرح خود مذاق بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جمبر:مین اڈا پرہنڈا کار کو آگ لگ گئی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker