تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

غارِ حرا

یارب ! مجھے اور میرے قلم کو اتنی طاقت و استتاعت عطا فرما دے کہ میں اور میرا قلم اس عظیم المرتبت جگہ کے بارے میں بغیر کوئی غلطی کے لکھنے کی امید پایۂ تکمیل تک پہنچ سکے۔ اس وقت لکھنے والے حضرات کم و بیش سینکڑوں میں ہونگے اور تقریباً تمام احباب سیاسیات پر زیادہ تحقیق کرتے ہیں۔ میں بھی کرتا ہوں مگر حسبِ ضرورت، مگر وقتاً فوقتاً راقم الحروف اچھوتے موضوعات کو چُھو لینے کی اور اس پر تحقیق کرنے کی سعی ضرور کرتا ہے۔ تاکہ سیاسیات کے ساتھ ساتھ تمام موضوعات پر اور پُر شکوہ‘ اسلامی جگہوں پر آج کی نئی نسل کو معلومات بہم پہنچایا جا سکے۔ یہ تو پڑھنے والوں پر Dependکرتا ہے کہ وہ کن موضوعات کو پڑھنا پسند کرتے ہیں ۔کالم نگار کا اپنے فن اور لکھاری ہونے کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے کہ وہ ہر موضوع پر لکھنے میں اپنی دسترس کو مضبوط بندھن میں باندھ سکے۔
مکۃ المکرمہ سے شمال کی جانب تقریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ایک غارہے ۔ جسے ہم اور آپ غارِ حرا کے نام سے بخوبی جانتے ہیں۔ اس کے مقابل جبلِ شبیر نامی مشہور پہاڑ ہے۔ ان پہاڑیوں پر سوائے خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہیں اُگتا۔غارِ حرا حبل شبیر سے بھی زیادہ بلندی پر واقع ہے۔ اس کے اوپر ایک سیدھی دھلوان چوتی ہے۔ اس چوٹی پر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحابِ کرام کے ساتھ ایک مرتبہ چڑھے تھے۔ ہم جب بھی کبھی عبادت کے بارے میں سنتے ہیں تو ہمارا دھیان سیدھے نماز اور قرآن کی طرف جاتا ہے جو عبادت کے لازمی جزو ہیں۔ مگر جب ہم تاریخ کے جھروکے میں دیکھیں تو کئی جگہوں پر لکھا پائیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لئے غارِ حرا میں جایا کرتے تھے۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی دن اسی غارِ حرا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بسر کرتے تھے۔ اشیاء خورد و نوش کے ختم ہونے پر آپ ﷺ گھر تشریف لے آتے تھے، پھر کھانے پینے کا سامان لے کر واپس اسی غار میں آ جاتے تھے اور یادِ الہٰی میں اپنا وقت صرف فرماتے۔
یہ وہی غارِ حرا ہے جہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ پر پہلی وحی مبارک نازل ہوئی۔ ’’ پڑھو ‘‘ اے نبی ﷺ اپنے رب کریم کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کو۔ پڑھو! تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا بھی نہ تھا۔(۹۶؍۱ تا ۵)جب وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ کی عمرِ مبارک چالیس سال تھی اور بابرکت مہینہ رمضان المبارک کا تھااور شب بھی ستائسویں تھی۔ ابنِ حزم کے بقول ’’ نبی اکرم ﷺ ارادہ الہٰی کے تحت غارِ حرا میں تشریف لے جاتے تھے نہ تو آپ ﷺ نے کسی کو وہاں جاتے دیکھا کہ آپ اس کی تقلید کرتے ‘‘
وحی کے بعد جب حضور نبی کریم ﷺ جب گھر تشریف لائے تو جلالِ الہٰی سے لبریز تھے ، حضرت خدیجہؓ سے فرمایا! مجھے کمبل اڑھا دو اور جب طبیعت سنبھلی تو حضرت خدیجہؓ سے سارا ماجرا بیان کیا۔ نزولِ وحی نبوت کا دیباچہ تھا کہ خواب میں آپ ﷺ پر اسرار منکشف ہونے شروع ہوئے جو کچھ حضور نبی کریم ﷺ خواب میں دیکھتے تھے بعینہیہ وہی پیش آتا تھا، (سورہ علق ، ۹۶؍۱ تا ۵)
جب حاجی حضرات منیٰ کو جاتے ہیں تو منیٰ سے کچھ پہلے یہ پہاڑ ان کے بائیں ہاتھ پر ہوتا ہے ، اور دیکھیں خدا کی قدرت کہ غار کا رُخ کعبے کی سمت ہے اور مختلف چٹانوں کے ایک دوسرے پر پڑنے (اٹکنے) سے بنا ہے۔ تنہائی میں عبادت و ریاضت کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی جگہ نہ تھی۔کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ہر سال رمضان شریف میں اشیائے خورد نوش کا سامان لے کر غارِ حرا میں چلے جاتے تھے اور واپس گھر آنے سے پہلے خوانہ کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری)
آپ ﷺ غارِ حرا میں دنیا و مافیہا سے بے خبر یکسوئی کے ساتھ فکر و عمل میں ڈوبے رہتے۔ اس حالت میں کھانے پینے بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اپنی ذات تک کا ہوش نہ رہتا تھا۔ حضرت محمد ﷺ غارِ حرا میں اس حقیقت کے متلاشی تھے جو نہ تو آپ ﷺ کو یہود کے اسفار میں مل سکی اور نہ مسیحی رھبان کے زاویوں میں اس کا کوئی نشان مل سکا۔ پیارے نبی ﷺ اس خانہ خلوت میں بیٹھ کر حقیقت کی تلاش میں روح کو اس بلندی پر لے جاتے جہاں پائین کی ظلمتوں کا ہر ہر گوشہ نظر سے گرز کر حقیقت کو منکشف کر دیتا تھا۔غارِ حرا کی تنہائی میں آپ ﷺ کی عبادت کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں اور اس میں علماء کرام کی مختلف رائے ہے ۔
نہ جانے کتنے عام لوگ اس جگہ کی دیدار کو ترستے ہیں اور لاکھ کوشش کہ اور اپنی جمع پونجی لگا کر بھی وہاں تک کا سفر نہیں کر پاتے کیونکہ اس قدر مہنگائی کے زمانے میں اس خواب کو پورا کرنے کی جستجو میں لوگ عدم کو سدھار جاتے ہیں۔ اور جو لوگ وہاں کا دیدار کر چکے ہیں وہ خوش قسمت لوگ ہیں کیونکہ وہ صرف غارِ حرا ہی نہیں ظاہر ہے کہ خانہ کعبہ، مدینہ منورہ، غارِ حرا اور ان تمام مقامات کی دیدار کر چکے ہونگے جہاں پر حضور ﷺ چلا کرتے تھے، جہاں نبی پاک ﷺ کھرے ہوا کرتے تھے، جہاں پر جبرئیل امین آیا کرتے تھے، وحی نازل ہوا کرتی تھی،وہاں جانے والے لوگ خوش بخت ہیں جہاں پر ایک نماز پڑھنے سے چالیس ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ یہاں پر کہتے ہیں کہ دو نفل پڑھ لینے سے جنت کے محلوں میں جگہ مل جائے گی۔ ظاہراً وہاں جانے والے یہ چاہتے ہونگے کہ وہاں کے ہر پتھر ، ہر اُبھار اور ہر مسام کو چوم لیں کہ وہاں تو آپ ﷺ کے لمس ہیں۔ ( سبحان اللّٰہ)اللہ پاک ہم سب کو وہاں کا دیدارسفرِ آخرت سے پہلے مرحمت فرما دیں (آمین)
اللہ رب العزت ہم سب مسلمانوں کو اپنا گھر خانۂ کعبہ اور گنبدِ خضرا کے ساتھ ساتھ ان معتبر جگہوں کو دیکھنے کی جستجو کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے ۔اور نبی پاک ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

یہ بھی پڑھیں  نیند کیوں رات بھر نہیں آتی !

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker