تازہ ترینکالم

گھر کے کچن کی چمنی سے دھواں

اماں میں نے ایک فیصلہ کیا ہے بہت ہی کا رآمد اورمفید ماں کا دل ایک ریڈار ہوتا ہے کہ اپنی اولاد کی ہر ہرکت اور سوچ اسکی سکرین پر فواراً آجاتی ہے میں میں صدقے میں واری تو نے حالات کے جبر سے گھبراکر کو ئی ایسا ویسا فیصلہ تونہیں کر لیا ،نہیں ماں ،زرا سوچ چھوٹی روزانہ بغیر ناشتے کے سکول جاتی ہے پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتی اور سر پر پھٹاپرانا بو سیدہ ڈوپٹہ ماں میں جب چھوٹی کو اس حالت میں دیکھتا ہوں تو میرا کلیجہ پھٹنے کو آجاتا ہے اس کی خوبصورت آ نکھیں فاقے کر کرکے ابل پڑی ہیں اور گلاب کی سے رنگت ذرد پڑ گئی ہے اماں جب وہ چلتی ہے جیسے سر سو ں کے پھول ہوا میں اڑ رہے ہوں شام کو نیم مردہ ہاپتے کاپنتے بھوک سے نڈھال واپس آتے ہی کچن کا طواف کرتی ہے مگر پھر ایک گلاس پانی پی کر زبردستی مسکرا کر ہمیں مطمئن کرنے کی کو شش کرتی ہے اور شام کو حسب معمول ابلے ہوئے چاولوں کی خوشبو تصور میں بسائے ادھر ادھر کے کام میں مشگول ہوجاتی ہے کتنے شرم کی بات ہے میرے لئے اور منے امجد کو دیکھا ہے وہ بھی چھوٹی کی طرح بھوکا پیاسا صابر شاکر سکول جاتا ہے اور یہ ان دونوں کا روزانہ کا معمول ہے ہر ماہ وردی کا بہانہ بناکراس کا نام خار ج کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،نہ مکمل وردی نہ پوری کتابیں وہ اپنے دوستوں میں کس کس عذاب سے زندگی گزار رہا ہے ، احساس کمتری کے جراثیم کس طرح دونوں کے حسین خوابوں پر حملہ آور ہیں ،بابا کیا کرے بے چارہ صبح صبح نہار منہ پانی کا گلاس پی کر محنت مزدوری کیلئے نکل جاتا ہے کھبی ملی کھبی نہ ملی اور کھبی اسے کمزور اور لاغر سمجھ کر سب فراموش کر دیتے ہیں اماں میں بھی ملازمت تلاش کرتے کرتے تھک گیا ہوں اور اب بھی میں نے کوئی فیصلہ نہ کیا تو یہ دونوں بکھر جائیں گے میں ان کو ٹوٹنے نہیں دوں گا ماں آپ کو علم ہے کہ آجکل فوری پیسے حاصل کرنے کے دوبہترین طریقے ہیں ایک این جی او ز کے زریعے اور دوسرا منظم خودکشی کرنے سے ماں کی چیخ نکل گی اللہ نہ کرے آج توں کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے خودکشی کریں تیرے دشمن سب ٹھیک ہو جائے گا ،اللہ بڑ اکار ساز ہے اس پر بھر وسہ رکھ میرے چاند حوصلہ نہیں ہار ا کرتے پھر ماں نے تجس اور حیرت سے پوچھا یہ این جی اوز کس بلا کا نام ہے اماں یہ بڑی حسین اور دلکش بلا ہے اس میں صر ف مکاری ،عیاری اور ٹھوڑے سے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے مگر یہ حسین بلا بھی ہم سے بہت دور ہے مثلاًآپ نے نہیں دیکھایا سنا کہ اجتماعی شادیوں کا سیلاب آیا ہوا ہے اس میں کتنا پیسیہ کمارہے ہیں کڑورں میں اماں کڑورں میں 50/100 اجتماعی شادیوں کا بندوبست کر کے بیت المال اور مختلف قومی اور بین اقوامی اداروں سے کڑورں روپے حاصل کرلیتے ہیں ہے نا منافع بخش کا روبار نہ کوئی ٹیکس نہ پوچھ گچھ اور اماں یہ تو ہم کر نہیں سکتے دوسرا آسان راستہ منصوبہ بندی سے خودکشی کرنے کا ہے حکومت پانچ نہ سہی تو دو لاکھ تودے ہی دے گی اماں تجھے دولاکھ ملیں یا پانچ لاکھ فوری کچن میں خوب راشن ڈلوالینا آٹے کی مٹی تو ترس گی ہے آٹے کو چینی کا ، گھی کا ،مرچ ، نمک کا سب ڈبوں کا خوب پیٹ بھر دینا ۔ اماں پھر متواتر تین دفعہ کچن کی چمنی سے دھواں نکلناچا یئے ہا ں اماں اب با با مزدوری نہیں کر سکتے ان کو گھر کے کو نے میں چھوٹی سی کریانہ کی دوکان ڈال دینا تاکہ گھر کا کچن باقائد گی سے چل پڑے اماں چھوٹی کو نئے کپڑے جوتے لے دینا اور بہت بہت پیار کرنا میرے حصے کا بھی اور منے کو بھی سینے سے لگا کر ماتھا چومنا اسے بھی خوبصورت کپڑے وردی اور نئی کتابیں کا پیا ں خرید دینا اما ں رونے لگی اماں چپ ہو جاؤں کیوں رورہی ہے مجھے حوصلہ دے وہ دیکھ شاید چھوٹی سکول سے آرہی ہے اور منا بھی آنے والا ہے اپنی آنکھوں کو پوچھ لو ورنہ میں بھی رو دوں گا اور اگر میں بھی رو پڑا تو کچھ نہ کر پاؤں گا مامتا کے سینے پر تھوڑی دیر کے لئے پتھر ر کھ لے پھر شدت غم سے بیہوش اور نعیم اٹل ادارہ کر کے باہر نکل گیا جب کافی رات گئے نعیم گھر واپس نہ آیا تو ماں کی مامتا کے ریڈار سے مسلسل سگنل آرہے تھے ،کہ اماں تجھے دو لاکھ روپے تو مل ہی جائیں گے منی با ربا ر دروازے کی طرف جاتی اور ناکام لوٹ آتی منا بھی باربار پوچھ رہا تھا بھیا کدھر گئے ہیں بابا تو پھتر کا بت بنا دور فضاؤں میں گھوررہا تھا کیونکہ کمزور اور نحیف جسم میں نہ انتظارکی طاقت تھی نہ رونے کی اچانک گاؤں اور ادرگرد کی مساجد میں اعلان ہونا شروع ہوگئے کہ ایک نوجوان ریلوے پاٹھک کراس کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا ہے اس کی لاش کو پہنچان لیں ،اعلان سنتے ہی بوڑھے محمد دین کے گھر میں انجانے خوف کے اندھیروں نے گھیرلیا پھر نعیم ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر گھر کی دہلیز پر آواز دے رہا تھا کہ اماں میں سرخرو ہوگیا ہوں میں نے دماغ اور پیٹ کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے ان کا آپش میں رابطہ ہی فساد کی جڑہے اور پھر اگلی صبح سرکاری حکام موقع پر پہنچ گئے ،غریب پھا ٹک والے کی غفلت کا بہانہ بنایا اور نعیم کے والدین کو دولاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا نعیم اب بھی سجے سجائے پلنگ پر بے نور آنکھوں سے کچن کی طرف دیکھ رہا تھا کہ میں بلا آفر جیت گیا اب کچن کی چمنی سے دھواں نکلتا ہی رہے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  سرائے مغل: بدچلنی کے شبہ پر بھانجے نے مامی کاگلا کاٹ کر قتل کر دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker