شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / وطن عزیزکے’’غریب پرور نمائندگان‘‘ کی 5سالہ کارکردگی

وطن عزیزکے’’غریب پرور نمائندگان‘‘ کی 5سالہ کارکردگی

کشور حسین ، پاک سر زمین ،مرکزِ یقین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیاسی اُتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ ’’راہنما یانِ قوم ‘‘ اور ’’غریب پرور ‘‘ نمائندگان کی قلا با زیاں تو ہر دور میں رہی ہیں اُکھاڑ پچھاڑ بھی ہوتی رہتی ہے اب حالیہ انتخابی مہم میں بھی ’’اِتوار بازار ‘‘سجایا جا رہا ہے کہیں سے اینٹ اُکھا ڑی جا رہی ہے تو کسی جگہ سے روڑا ہٹا یا جا رہا ہے نون والے ’’انصاف ‘‘ کی چھتری تلے تو آزاد ’’پنچھی ‘‘ بھی کسی’’مناسب‘‘ گھونسلے کی تلاش میں مصروفِ عمل ہیں۔۔۔۔۔اورجب اِن اُڑن کھٹولوں سے رائے لینے کی کوشش کی جائے تو جواب موصول ہوتا ہے یہ سب ہم اپنے اپنے حلقہ کی عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے کر رہے ہیں یہ ایسے’’غریب پرور ‘‘ نمائندگان ہیں جن کو حلقہ کے کسی غریب اور یتیم کی مدد کیے اور کسی یتیم و بے سہارا بچی کے سر پر دستِ شفقت رکھے بغیر روٹی بھی ہضم نہیں ہو تی ، جتنا ماہی بے آب کی طرح اِن عوامی نمائندگان کو میں نے بے تاب دیکھا ہے شاید ہی کسی اور علاقہ میں کوئی نمائندہ اتنا بے چین اور بے تاب ہو ، یہ ہمارے ’’غریب پرور ‘‘ نمائندگان ہی ہیں جن کی شبانہ روز عوامی اور قومی مفادات کی خاطر بھاگ دوڑ کی وجہ سے آج وطن عزیز کا ہر شہری سکون کی نیند سو رہا ہے ، ہر بے روز گار کو روز گار کے فرسٹ کلاس اور اعلیٰ ترین مواقع میسر ہیں ، کار خانوں اور ملوں کا ایک وسیع نیٹ ورک دیکھنے کو مل رہا ہے ،وطن عزیزکے ہر بچے کو تعلیم کی مفت سہولیات میسر ہیں ، بین الاقوامی معلومات سے استفادہ کے لیے ’’نیٹ کلبز ‘‘ کی بھر مار ہے جہاں سے ہماری نو جوان نسل ’’اعلیٰ اخلاقی اقدار‘‘ اور سُنہری روایات سیکھ رہی ہے اور اِس کا سارا ثواب ہمارے ’’راہنمایانِ قوم ‘‘کے کھاتے میں لکھا جا رہا ہے چورا چکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے ،ہر علاقہ کی مقامی انتظامیہ سکون سے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے کیونکہ تھانے ویران پڑے ہوئے ہیں عوام چھوٹے موٹے مسائل ’’غریب پرور ‘‘ نمائندگان کے رحم و کرم سے اب اپنی دہلیز پر ہی حل کر رہی ہے ، سسکتے ، بلکتے اور تڑپتے مریضوں کو مہنگی سے مہنگی ترین ادویات اب اُن کے گھروں میں پہنچا ئی جا رہی ہیں ، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہے فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے اور کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے اب صرف 8گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے ، گیس کا ٹکڑا بڑی مِنتوں ،مَنتوں ، ترلوں اورمشکل سے ملا تھا وہ بھی حکمرانوں کی ’’بہتر پلاننگ اور ایمانداری‘‘ کی وجہ سے سسک سسک کے اور رینگ رینگ کے نصیب ہورہی ہے اورگیس کے چولہوں سے نکلنے والی آگ کا الاؤ ایسا ہے جیسے آگِ نمرود کو بجھا نے کے لیے چڑیا کی چونچ میں پانی کا قطرہ۔۔۔۔۔۔۔گھریلو خواتین جب ایک پاؤ دال پکانے کے لیے گھنٹوں چولہے پر رکھی ہانڈی کا ڈھکن اُٹھا اُٹھا کے دیکھتی ہیں تو ’’غریب پرور ‘‘ حکمرانوں اور عوامی نمائندگان کو ’’دُعاؤں ‘‘ سے نوازتی ہیں اور خاص کر ’’شریفین والبریفین ‘‘ کو دوپٹے اُٹھا اُٹھا کر ’’دُعائیں ‘‘ دیتی ہوئی نظر آتی ہیں ،اتنی زیادہ ’’سہولتوں ‘‘ کی فراہمی پر عوام کو چاہیے کہ وہ حالیہ الیکشن میں اِن ’’محب وطن ‘‘ اُمیدواروں کی بھر پور طریقے سے ’’سواگت ‘‘ کریں تاکہ اِن کی عقل ٹھکانے لگ سکیاور دیکھنے اور سُننے میں نصیب ہو رہا ہے کہ اب کی بار عوام نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ اِن ’’غریب پرور ‘‘ نمائندگان سے ایک ایک پائی کا حساب لینا ہے
ہر گلی محلے کی نکڑ پر اِن کی تختیاں اور ’’پھَٹے ‘‘ لگے ہوئے ہیں کہیں سوئی گیس کی فراہمی ،کسی جگہ سولنگ اور سڑک کی دستیابی ،کسی علاقہ میں بجلی کی فراہمی کی تختی مگر ہر طرف صرف تختیاں ہی نظر آرہی ہیں سہولتیں نایاب بلکہ کم یاب ہیں دستیاب ہی نہی ہیں
اب ہر فصلی اور نقلی بٹیرہ کسی چھتر چھا ؤں کی تلاش میں سر گر داں ہے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ دولت کے بل بوتے پر’’برائلرکُکڑو کوں ‘‘ کے نشان پر ایم پی اے کا تمغہ اپنے سینے پر سجانے والے نو دولتیے 5سال حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد پھرسائنس کے زمانے میں ’’بیل گاڑی ‘‘ کے نشان پر پھر آزاد الیکشن لڑ رہے ہیں 5سال حکومتی غلام گردشوں کی راہداریوں سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے کروڑوں کے بے دریغ فنڈزحاصل کیے خود بھی کھائے اور اپنے حواریوں کے بھی مزے کرائے اب دیکھتے ہیں کون کون ’’غریب پرور ‘‘ راہنما اِن جھانسوں میں آتے ہیں ؟ 5سال گزرگئے ہیں مگر حالات جوں کے توں ہیں خاص کر ضلع لیہ کے نمائندگان اپنے بینک بیلنس میں تو ضرور اضافہ کیا ہے بلکہ سننے میں تو آیا تھا یار دوستوں نے بتایا بھی تھاکہ ضلع لیہ سے مگسی خاندان کا ’’لاڈلا چشم و چراغ‘‘غریبوں کی دولت کے بل بوتے پر ہر مہینے گاڑی کا ماڈل ہی بدلتا رہا ہے علاقہ کی عوام کی قسمت نہ بدل سکا چوبارہ کی عوام آج بھی کسمپرسی کی حالت میں زندگی کے شب و روز مکمل کر رہی ہے غریب وہیں کھڑا ہے جہاں 50سال پہلے کھڑا تھا ، ہسپتالوں میں آج بھی غریب کی شُنوائی نہیں ہو رہی ،دھکے دھوڑے اُس کا مقدر ہیں ،تھانوں میں بھی وڈیرے اور لٹیرے کو تو پروٹول دیا جاتا ہے مگر غریب بے چارے کو تو آج بھی کسی وڈیرے کے ظلم کی شکایت درج کرانے کے لیے ایک کانسٹیبل تھانے کی دہلیز بھی پار نہیں کرنے دیتا ،دھکے مروا مروا کے اُس کا حشر نشر کردیتا ہے،مگر ’’چوہدری ‘‘ ’’پیر ‘‘ ’’مگسی ‘‘ ’’سیہڑ ‘‘ اور اَچلانے ‘‘ ’’زرداری ‘‘ مزاری ‘‘ لغاری ‘‘دریشک ‘‘ ٹوانے ، کھر ‘‘ قریشی ‘‘دولتانے ‘‘گوندل ‘‘جکھڑ ‘‘ کی مس کال بھی سُن کر پولیس افسر اپنا سب کچھ ’’ مِس ‘‘کر کے اِن کے لیے ’’ جی سر ‘‘ ’’ یس سر ‘‘کی گردان الاپتے الاپتے اور ہانپتے ہوئے نا جائز کام بھی کر گزرتے ہیں،شراب کی بھٹیاں عام تیار ہو رہی ہیں ، شاپر ز میں روزانہ لاکھوں روپے کی شراب ضلع لیہ کے باسیوں میں فروخت کی جا رہی ہے ،جُوا کے اڈے سر عام چل رہے ہیں ،زمینوں پر قبضے کی سیاست بھی عام ہے غریب پرور نمائندگان کے ٹاؤٹس جو اُنہوں نے ہر برادری میں پال رکھے ہیں اُن کے وارے نیارے ہیں اُن کی دیہاڑیاں پکی ہیں اور اِن دنوں الیکشن کا سیزن ہے اِن ٹاؤٹس کے خوب مزے ہیں آرائیں برادری ، بھٹی برادری ، ہانس برادری ، جوتہ برادری ، شیخ برادری ، بلوچ برادری ، کمہار برادر ، انگڑا برادری ، مہر برادری ، خان برادری ، گڑیانوی برادری ، سیہڑ برادری ، کنجال برادری ،مگسی برادری ، اِچلانہ برادری ، جکھڑ برادری ،کھتران برادری ، سہو برادری الغرض ہر برادری میں دو چار ٹاؤٹس موجود ہیں جن کے چہرے بھی مجھے یاد ہیں اور اُن کے ’’شجرہ نسب ‘‘ سے بھی مجھے اچھی طرح واقفیت ہے جن کے پاس کل سائیکل نہیں تھی آج وہ ’’دلالی ‘‘ کی بنیاد پر کرولا گاڑیوں کے مالک بنے پھرتے ہیں کل مجھے ایک دوست نے شریفین والبریفین کی شان میں اُن کی ’’5سالہ‘‘ کارکردگی پر ایک نظم بھیجی تھی جو میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے وطن کے خاص کرضلع لیہ کے ’’غریب پرور نمائندگان ‘‘ کے نام کروں نظم ملاحظہ کیجیے
کہندے سن خوشحالی آسی ہر مُکھڑے تے لالی آسی
رونق اُڑ گئی چہراں دی جیوے جوڑی شیراں دی
ٹیکس روزانہ تُنی جاندے سن گنجیاں نوں وی مُنی جاندے سن
جرات ویکھ دلیراں دی جیوے جوڑی شیراں دی
ڈیزل تے پٹرول وی مہنگے آٹا چینی چول وی مہنگے
ماچس ہو گئی تیراں دی جیوے جوڑی شیراں دی
کھَنڈ لیاواں گھیو مُک جاوے ویکھ مہنگائی ساہ سُک جاوے
ہانڈی چاڑاں بیراں دی جیوے جوڑی شیراں دی
گیس کونی بتی کونی فکر اینہاں کوں رتی کونی
شاہی گھُپ انہیراں دی جیوے جوڑی شیراں دی
ضلع لیہ کی عوام اِن ’’نمائندگان ‘‘کو شاکر شجاع آبادی کی زبان میں بس اتنا کہنا چاہتی ہے کہ
جے تنگ ہوویں ساڈی ذات کِنوں ڈے صاف ڈسا تیڈی جان چھُٹے
رب توں منگی ضائع نئیں تھیندی منگ ڈیکھ دُعا تیڈی جان چھُٹے
تیکوں پیار کیتم تیڈاں مجرم ہاں ڈے سخت سزا تیڈی جان چھُٹے
ایویں مار نہ شاکر قسطیں وِچ یک مُشت مُکا تیڈی جان چھُٹے
کیونکہ کشور حسین ، مرکزِ یقین ،پاک سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان پر صرف اور صرف چند خاندان ہی حقِ حکمرانی رکھتے ہیں یہ زمین اِن کے لیے سونے کی چڑیا کی مانند ہے اور غریب پر یہ زمین تنگ ہے بلکہ اِن حکمرانوں نے تنگ کی ہوئی ہے جاتے جاتے ایک شاہی ترانہ بھی سُن لیں تاکہ حکمرانوں کی اصلیت کا پتہ چل جائے
نواز کی زمین شاد باد بجلی آئے آٹھ گھنٹے بعد
تو نشانِ کرپشن عالی شان ارضِ نوازستان
شاد باد لاہور رہے آباد
نواز کی زمین کا نظام آٹا گیس بجلی کا بحران
قوم ملک سب غرق نواز کو نہیں پڑتا کوئی فرق
پرچم ستارہ ہلال
خون میں رنگا سارا سال میٹرو ٹرین پائندہ باد
بھول اپنا ماضی شانِ حال جانِ استقبال
حکمرانوں پر سایہء امریکہ سوار
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے کل نئے موضوع کے ساتھ حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اللہ حافظ

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:جندراکہ تا پل جوئیہ سٹرک کے تعمیر کا منصوبہ 25جون2013تک مکمل کیا جائے،ڈی سی او