پاکستانتازہ ترین

سزا یافتہ شخص اٹھارہ کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلہ نہیں کرسکتا،چیف جسٹس

اسلام آباد (بیوروچیف) سپریم کورٹ میں اسپیکررولنگ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواستوں گزاروں کا موقف ہے کہ 18 کروڑ عوام کی تقدیر اس فرد کے ہاتھ میں ہے جسے 7 رکنی بینچ نے سزا سنائی، سزا یافتہ شخص عوام کی قسمت کے فیصلے نہیں کر سکتا۔  اٹارنی جنرل نے سماعت میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ 7 رکنی بینچ کا غیر آئینی حکم 18 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ اگر جج پہلے سے ذہن بنا کر بیٹھے ہیں تو ان کے دلائل متاثر ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو کہا کہ وہ بیٹھ جائیں اور اپنی باری آنے پر بولیں۔  بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستیں قابل سماعت نہیں، کیوں کہ درخواستوں گزاروں میں سے کوئی بھی وزیراعظم کے منصب کا امیدوار نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم فرد واحد نہیں،18 کروڑعوام کے نمائندے ہیں۔ جب منتخب نمائندے کی بات آتی ہے تو عام آدمی کا حق دعویٰ بنتا ہے۔  اعتزاز احسن نے کہا کہ حق دعوٰی کا دائرہ محدود ہے، اسے وسیع کیا تو مقدمات کا سیلاب آ جائے گا۔ معاملہ7 رکنی بینچ کے فیصلے کا نہیں اسپیکر کی رولنگ کا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر کا فیصلہ 7 رکنی بینچ کے حوالے سے ہے، اسپیکر اپیل عدالت نہیں، اسپیکر کی جانب سے اٹارنی جنرل نے تحریری جواب جمع کرا دیا۔

یہ بھی پڑھیں  اپریل فول، روایت فرنگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker