پاکستانتازہ ترین

گلگت بلتستان کے تمام ندی نالوں اور دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب

پشاور(مانیٹرنگ سیل)گلگت بلتستان کے ندی نالوں اور دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گاؤں نروغورو میں بجلی گھر، مسجد، پُل اور متعدد مکانات بہہ گئے۔ چترال کے سیلاب میں دو افراد جاں بحق ہوگئےجبکہ 160 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ کمشنرمالاکنڈ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔ ضلع چترال کے طول و عرض میں سیلاب نے بڑی پیمانے پر تباہی مچائی۔ 40رابطہ پل دریامیں بہہ گئے تو کئی علاقوں کا ایک دوسرے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، پاک فوج کی جانب سے متاثرین میں 125 ٹن راشن تقسیم کیا گیا ہے۔ چترال میں 16 جولائی کو آنے والے سیلاب نے بڑےپیمانے پر تباہی مچائی۔ سیلابی صورتحال کے باعث40 رابطہ پل، 20 کلومیٹر سڑک اور متعدد مکانات دریا برد ہو گئے ہیں جبکہ مواصلات کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مستوج، کیلاش، گرم چشمہ، دروش، مردان، کراغ اور ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ پاک فوج کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے آٹا، گھی، دودھ اور چینی سمیت دیگر اشیاء و خوردونوش فراہم کی جارہی ہیں۔ اکراغ کے مقام پر کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمان نے متاثرین سیلاب سے خطاب کیا۔ اس موقع پرمیجر جنرل نادر جان جی او سی مالاکنڈ، کمانڈنٹ چترال اسکاؤٹس کرنل نعیم اقبال اور انجینئر آفیسرز بھی موجود تھے۔ جنرل ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ چترال ناگزیر حالات سے دوچار ہے مگر مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا، متاثرین سیلاب میں 125 ٹن راشن تقسیم کیا گیا ہے۔ چترال میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ 26دیہات کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار کرکے صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ متاثرہ دیہات میں واٹر سپلائی ا سکیمیں تباہ ہونے سے لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ کمشنر مالاکنڈ محمود اسلم وزیر نے چترال میں سیلاب سے متاثرہ 26دیہات میں نقصانات سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کی ہے، جس کے مطابق چترال کے علاقے بروز میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ متاثرہ علاقوں میں 104مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 63کو جزوی نقصان پہنچا ہے، 13سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 15 کو عارضی نقصان پہنچا اور 14رابطہ پل پانی میں بہہ گئے۔ سیلاب سے 26دیہات میں 25فیصد سے زیادہ زرعی اراضی کو بھی نقصان پہنچا۔ بمبوریت میں 60فیصد زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ اسی طرح متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیمیں تباہ ہوئیں جس کے باعث متاثرین آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق کے مطابق سیلاب سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جس سے ہزاروں افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کیلاش کا چترال شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہے جبکہ مستوج سب ڈویثرن روڈ مکمل طور پر تباہ ہوا ہے۔ گرم چشمہ میں 8 کلو میٹر روڈ سیلابی پانی کی نذر ہوا اور 80مکانات ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ متاثرہ علاقوں میں فوج ہیلی کاپٹرز کے ذریعے خوراک پہنچا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:معذوری سرٹیفکیٹ کیلئے معذوروں کو درپیش مشکلات دور کی جائیں،قاسم علی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker