تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

گونگے کا خواب

shairچند دن پہلے جب قادری صاحب ایک انقلابی ہجوم کے ساتھ پاکستان کی شہہ رگ پر براجمان تھے تو ان سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے اور ان کے رنگ بدلنے کی عادت سے شناسا لوگ خود کو کوسنے پر مجبور نظر آنے لگے کیونکہ ان کی تقاریر نے عوام میں انقلاب کا جذبہ پھونک دیا تھا۔ عوام کا جوش و جذبہ لگن اور عزم اور اس پر قادری صاحب کے دعووں اور کرپٹ لوگوں کا خون منجمد کر دینے والے مطالبوں سے محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید سب تنقید کرنے والے غلطی پر ہیں اور وطن عزیز حقیقتاً انقلاب سے ہمکنار ہونے جا رہا ہے ۔ لیکن! دیکھنے والے کمال کی نظر رکھتے ہیں۔ انقلابی غبارہ سے ایک بار پھر ہوا نکل گئی اور قادری صاحب کے لفظی تیروں سے نڈھال کرپٹ سیاسی لوگ اور کرپٹ حکومت جنہیں کوئی منہ نہیں لگاتا تھا قادری صاحب انہی کے منہ لگ گئے۔ بالآخر منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے اٹھنے والی آواز عوامی تحریک کے ایوانوں پر دم توڑ گئی۔
اس سارے قصے میں صرف ایک بات اچھی ہوئی کہ لوگ کسی خون خرابے سے بچ گئے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہاں اپنی خفت مٹانے کے لئے ایک اور فائدہ بڑے زور و شور سے بتایا جا رہا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام بنا ہے کہ یہ ایک امن پسند ملک ہے ۔ اگر ایسا ہے تو یہ بھی خیر بڑی بات ہے لیکن اگر یہ تاثر دینے کیلئے اربوں روپے لگتے ہیں تو پھر بہتر یہ ہے کہ اس تاثر کی بجائے پیسے بچا لئے جائیں اور عوام کو ضروریاتِ زندگی فراہم کی جائیں۔ ان پانچ دنوں میں اربوں کا نقصان ہوا۔ اس سے لاکھوں گھروں کے چولہے جلتے ہزاروں مریضوں کو دوائی دی جا سکتی تھی۔ کرپشن روکنے والا مارچ کرپشن کے مواقع فراہم کر گیا۔ منتظمین نے کروڑوں روپے اینٹھ لئے۔
قادری صاحب مطالبات تو پورے نہ کروا سکے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک گئے۔ حکومت کا ڈھول پھاڑنے گئے لیکن قومی وسیع تر مفاد میں حکومت ہی کا ڈھول پیٹنے لگ گئے۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت مخالف پارٹیوں سے کھلے عام محاذ آرائی شروع کر کے لانگ مارچ کے عزائم واضح کر دئیے اگرچہ اہلِ شعور پر پہلے ہی واضح تھے۔ موسمیات اور اخلاقیات کے اثر سے محفوط ’’سرینہ کنٹینر‘‘ جوکہ بلٹ پروف ،ویدر پروف ہونے کے ساتھ ساتھ شرم پروف بھی تھا جب قادری صاحب اس میں ماتھے کا پسینہ پونچھتے تو انہیں رگوں کا خون منجمد کرتی سردی اور بارش میں بھیگتی عوام نظر نہ آئی۔ اس موقع پر عوام کا جذبہ دیدنی اور قابلِ تعریف تھا کہ انہوں نے لیڈر کیساتھ اپنی لگن اور محبت کا ثبوت دے دیا لیکن ایک سوال ذہن میں کلبلا رہا ہے کہ کیا اتنے بڑے مجمع میں کسی ایک نے بھی نہیں سوچا کہ خواب تو انکا بیان کیا گیا لیکن تعبیر حکومت کے خوابوں کی کیوں بیان کی گئی۔ کیا کسی نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ بار بار اللہ کی عزت کی قسمیں کھانے والے نے کوئی ایک ایسا مطالبہ بھی نہیں منوایا جن کی بناء پر لانگ مارچ کو لاہور سے گھسیٹ کر ڈی چوک میں لا کھڑا کیا گیا۔ اگر کسی نے واقعی نہیں سوچا تو پھر علاج ہے۔ پھر یہ قوم اسی قابل ہے کہ جس کا دل کرے آئے اور روٹی، کپڑا، مکان، انقلاب، مہنگائی اور اسلام کے نام پر انہیں جوتے ماریے ۔ عوام نے اپنا خون بیچ کر اور پیٹ کاٹ کر جو متاع اکھٹی کی ہے وہ لے اور رفو چکر ہو جائے۔ جب عوام اتنی بے شعور ہو جائے تو پھر قادری مافیہ کا قصور نہیں اس لئے تو شرمندہ ہونے کی بجائے پھول رہے ہیں۔
کتنے کم ظرف ہیں یہ غبارے
چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
مک مکا اگر اپورزیشن اور حکومت کرتی ہے تو غلط ہے اور اگر مولانا صاحب … او سوری ڈاکٹر صاحب کرتے ہیں تو درست ہے۔ قیامت تو یہ ہے کہ کہ مذاکرات تو کم از کم ان لوگوں سے کرتے جو باسٹھ اور تریسٹھ پر پورے اترتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سارے ڈرامے میں ایسے کردار تھے ہی نہیں۔ بحرحال شاید بہت سے لوگ انہیں ابھی تک نہیں پہچان سکے۔ حکومت کے ڈسے لوگ انقلاب کے نام پر قادری صاحب کے ذریعے ڈسے گئے ہیں اور اپنی جمع پونجی لٹا کر بھی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ کر سکے کہ جس کا تصور انہیں گد گدا رہا تھا۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ان سے ایک سوال ضرور ہے کہ ڈاکٹر صاحب اگرچہ آپ نے اپنی با ریشی، شعلہ بیانی، علمِ بے عمل سے لوگوں کو بیوقوف بنایا لیا۔ کروڑوں روپے ماؤں اور بہنوں کے زیور کا حساب عوام کو تو نہیں دیں گے لیکن کیا اللہ کو بھی نہیں دیں گے۔اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود بار بار قسمیں کھاتے وقت اس حدیث کا مفہوم یاد نہیں آیا کہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہوتا ہے۔ قادری صاحب کے حق میں بولنے والے کیا بتا سکتے ہیں کہ کوئی دبئی، کوئی لندن اور کوئی کینیڈا چلا جائے گا لیکن عوام کدھر جائے گی کہ جسے سفر کے اختتام پر پتہ چلا کہ آغاز ہی غلط تھا۔
تھا میر آغاز سے ہی راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ مگر سفر کی رائیگانی سے ہواnote

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:بلدیہ کی بے حسی اورلاپرواہی کی انتہا، صاف پانی کی لائینں اورٹینکیاں ناکارہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker