پاکستانتازہ ترین

دہری شہریت کا بل۔۔ حکومت کوشکست کا خطرہ ،38ووٹوں کی تلاش

لاہور(نمائندہ خصوصی) حکومت کی جانب سے دہری شہریت کے مجوزہ بل کی منظوری میں نمبر گیم اہمیت اختیار کرگیا۔ قومی اسمبلی سے بل کی منظوری میں حکومت کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ راجہ پرویز اشرف کی کابینہ نے دہری شہریت اور توہین عدالت کا قانون لانے کیلئے مجوزہ بلوں کی منظوری تو دے دی ہے لیکن یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔۔وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے انتخاب کے موقع پر حکومت کو تمام تر کوششوں کے باوجود دو سو گیارہ ووٹ ملے جو قومی اسمبلی میں حکومت کی کل طاقت ہے جس میں اتحادی جماعتوں کا بڑا حصہ ہے۔ ذرا نظر ڈالیں حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں کی عددی طاقت پر تو پیپلزپارٹی کے پاس دہری شہریت کا شکار ہونے کے بعد ایک سو چوبیس ارکان ہیں۔ ق لیگ تینتالیس ارکان ، ایم کیوایم پچیس اے این پی تیرہ اور جے یو آئی ف کے آٹھ ارکان شامل ہیں۔ وزیراعظم کے انتخاب میں ہم خیال کے سات ارکان نے حصہ نہیں لیاتھا۔ دہری شہریت کا بل منظور کرانے کیلئے حکومت کو دوتہائی اکثریت یعنی دو سواٹھائیس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ وزیراعظم کے انتخاب میں تمام تر اتحادیوں کے ووٹ ملنے کے باوجود دوسوگیارہ ووٹ ملے اس طرح پیپلزپارٹی کو بل کی منظوری کیلئے مزید سترہ ووٹ درکار ہیں جو ن لیگ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔۔ اے این پی کی جانب سے بل کی مخالفت کے بعد تیرہ ووٹ کم ہونے کا امکان ہے جس کے بعد عددی قوت ایک سو اٹھانوے رہ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بل کی مخالفت کرچکے ہیں جس کے بعد یہ تعداد ایک سو نوے ہوجاتی ہے۔۔ بل کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کے ایک سو چوبیس، ایم کیو ایم کے پچیس اور ق لیگ کے تینتالیس ووٹ ہونے کے باوجود حکومت کو مزید اڑتیس ووٹ درکار ہوں گے۔۔ اب یہ تو حکومت ہی زیادہ بہتر طور پر جان سکتی ہے کہ دہری شہریت کے بل کی منظوری کیلئے ارکان اسمبلی کی حمایت کا ہدف کیسے حاصل ہوگا

یہ بھی پڑھیں  مانسہرہ کے قریب ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 9 افراد شہید

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker