شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / ایڈیٹر کے قلم سے / حکومت کا حکم جوتے کی نوک پر

حکومت کا حکم جوتے کی نوک پر

رمضان المبارک کی آمد سے پہلے صدر پاکستان سے لیکر وزرائ تک سب نے اپنی ہرمیٹنگ میں ، اجلاس میںاور پبلک پوائنٹ پر ایک ہی بات دہر ائی کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ کم ہوگی اور سحرو افطار کے وقت تو بالکل لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔اس بلا کی گرمی کے روزے اور اوپر سے لوڈشیڈنگ کا خوف کم زور دل لوگوں کو روزہ نہ رکھنے پر مجبور کررہی تھی مگر حکومت کے اس قسم کے بیانات کی وجہ سے کمزور دل لوگوں کابھی حوصلہ بڑھا۔
جب رمضان المبارک کا چاندنظر آیا توپہلی سحری میں ہی واپڈا والوں نے حکومت کا حکم جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے لوڈشیڈنگ کردی ۔مجبوراً یا عادتاً لوگوں کو اندھیرے میں سحری کا اہتمام کرنا پڑا اور جو گرمی اور لوڈشیڈنگ سے پہلے ہی خوف زد ہ تھے انہوں نے بھی روزہ نہ رکھنے کی ٹھان لی۔ اس کے بعد تو پھر بجلی کے شارٹ فال میں کمی ہو یا اضافہ لوڈشیڈنگ تو اپنے ٹائم کے ساتھ ساتھ نماز کے اوقات میں جانا بھی ضروری ہوگئی۔ سحر میں تو روزانہ دو بجے سے لیکر چار بجے تک اکثر علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا معمول بن گیا ہے۔
رمضان کے ماہ میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیںمگر ادھر تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان کے چیلے آزاد پھر رہے ہیںا وروہ لوڈشیڈنگ کرکے روزہ داروں کو ورغلا ر ہے ہیں کہ روزہ نہ رکھیں۔روزے کااحترام تو ہر مسلمان پر لازم ہے مگر واپڈا والوں پر یہ احترام بھی لازم نہیں۔ روز دار دوپہر میں آرام کرنا چاہیے تو وہ بھی لوڈ شیڈنگ نہیں کرنے دیتی۔
ہمیں نہیں معلوم کہ حکومت پاکستان بے بس ہے واپڈا کے ہاتھوں یا ان کی اپنی کوئی مجبوری ہے۔یا پھر ایسا ہے جیسے حکومت عدلیہ کا حکم ہوا میں اڑا رہی ہے اسی طرح واپڈا والے حکومت کا حکم ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ یہ تو اس کے مترادف ہوگیا کہ’’ جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘
عوام اس طرح کی بدترین لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوں تو پھر وہ احتجاج نہ کریں تو کیا کریں۔ایک بجلی آتی نہیں اور ہر ماہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور پھر اس سے بڑھ کر بجلی کا بل دیکھو تو اللہ ہی حافظ ، بجلی آئے چار، پانچ گھنٹے اور بل آئے چار، پانچ ہزار روپے یعنی ہر گھنٹہ ایک ہزار روپے میں۔
نجانے حکومت پاکستان کیا سوچ رہی ہے اور کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے؟ رمضان میں اللہ تعالیٰ روز دار کی دعا قبول کرتا ہے اور خاص طور پروہ دعا افطار کے وقت مانگی جائے تو پھر یہ حکومت اور واپڈا والے کیوں ان روز داروں سے بددعا لینے پر تلے ہوئے ہیں۔
لوڈ شیڈنگ کی ستائی ہوئی عوام جب احتجاج کرتی ہے تو جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنی انتظامیہ کو حکم صادر کررکھا ہوتا ہے کہ وہ ان جمہوری لوگوں کو جو اپنے حق کے لیے آواز بلند کررہے ہیں ان پر لاٹھی چارج کرو، شیلنگ کرو، واٹر شیلنگ کرو اور اس کے بعدبھی یہ باز نہ آئیں تو ان کو گرفتار کرو۔ اس کے بعد اس بابرکت ماہ میں پولیس کی مالی امداد بھی یہ ستائے ہوئے لوگ رشوت کی صورت میںادا کریں۔
رمضان المبارک کا اجر و ثواب بہت ہے مگر کچھ لوگ حالات ایسے بنا دیتے ہیں کہ یہی روزہ دار ثواب کی بجائے گناہ کمانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ماہ رمضان کا خیال کرتے ہوئے واپڈا سے سختی سے پیش آئے اور سحر و افطار کے ساتھ ساتھ نماز کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے بلکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فری کال کا نظام متعارف کرائے اور جن علاقوں میں ان اوقات میں لوڈ شیڈنگ ہو وہ فوراًفون کرکے اپنے علاقے کی کمپلین درج کرائیںپھر حکومت کو ان علاقوں کے ایس ڈی او ز کے خلاف فوراًایکشن لینا چاہیے اور موقع پر ہی سزا دینی چاہیے تاکہ روزہ دار کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں  الیکشن مارچ 2013میں ہوں گے ،رحمان ملک