بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

صلاحیتوں کا خزانہ

وطنِ عزیز اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے۔محبِ وطن،دیانت دار،فرض شناس،جرات مند،دلیر اور قابلِ قدر صلاحیتوں کے حامل شخصیات کا خزانہ ہمارے ارد گرد موجود ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ملک میں لاتعداد مافیاز نے ہمارا نظام کار ہائی جیک کر رکھا ہے جس کی وجہ سے با صلاحیت افراد پسِ منظر میں ہونے کے باوجود اپنی فکری جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔کالم کی حدود و قیود کا لحاظ رکھتے ہوئے آج پاکستان کے دو ایسی شخصیات کو زیرِ قلم کر رہا ہوں جن سے میری آج تک ملاقات نہیں ہو سکی مگر ان کی شبانہ روز جد وجہد کا تقاضہ ہے کہ ان کی تعریف محض حوصلہ افزائی کے لئے نہیں بلکہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے داروں کی آنکھیں کھولنے کی غرض سے حقائق زیرِ نظر کرتا ہوں۔
صوبہ پختونخوا پشاور سے تعلق رکھنے والے ارباب خضر حیات خان ایک ایسے جواں ہمت شخصیت کا تذکرہ شروع میں کرتا ہوں جن کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ ریکارڈ پارٹیوں کو بدلتے آئے ہیں ۔تحریک انصاف،پاکستان پیپلز پارٹی،اپنی قائم کردہ پاکستان قیادت پارٹی،پاکستان مسلم لیگ حقیقی گروپ اور اب پاکستان مسلم لیگ ن میں سرگرمِ عمل ہیں۔11اپریل 1996ء سے شروع کیا گیا سیاسی سفر مختلف راستوں سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ان کا کسی پارٹی میں زیادہ دیر ٹہراؤ نہ ہونا دراصل ان کی حقیقت پسندی کی دلیل ہے ۔جس فکری تڑپ سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں اس سے اخذ ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تاریخ ساز کردار رقم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔سوال یہ ہے کہ انہوں نے مختصر عرصہ میں کہیں بھی قیام کیوں نہ کیا؟دراصل ہماری سیاست کاری میں کجی اور کمزوری رہی کہ آمریت نے اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔قیام پاکستان سے لیکر اب تک آمریت کے مہیب سائے میں پرورش پانے والوں نے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔یہاں تک کہ سیاست کو عبادت کے بجائے وراثت بنا دیا گیا ہے۔چند خاندانوں اور طاقتور افراد نے سیاست پر قابض ہو کر حقیقی معنوں میں سیاسی جد و جہد کرنے والوں کی قربانیوں کو خوب سے خوب تر استعمال کیا مگر اس کا انہیں وہ صلہ نہیں دیا گیا جو ان کا جائز حق تھا۔طاقت و اقتدار کے نشے میں بد مست یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ جن جانثاران کی بدولت وہ اپنی گردن میں سریا لگائے ہوئے ہیں اس کی قدر و قیمت انہیں پتہ ہے جو اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل سے بے فکر ہو کر ان کی کامیابیوں کا زینہ بنے۔ان ہی میں ارباب خضر حیات بھی ایک چمکتا ہوا ستارہ ہیں جنہوں نے شبانہ روز جد جہد کرتے ہوئے عوام کی آواز کو جلا بخشی۔انہوں نے آمریت کے خلاف لب کشائی کر کے ہر سطح کے مفادات کو لات ماری۔اگر ماضی کے آئینہ میں دیکھا جائے تو انہوں نے کبھی بھی اقتدار یا ذاتی مفادات کو ترجیج نہیں دی۔جن جن پا رٹیوں کو جوائن کیا وہ زیادہ تر اپوزیشن میں رہیں۔تحریک انصاف کے بانی ہونے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔جن کے لیڈر انقلاب کی باتیں کرتے ہیں انہیں اپنے بانی کارکنوں کی یہی قدر ہے وہ نئے آنے والوں کا کیا خیال رکھیں گے۔ پی پی پی والے تو بادشاہ ہیں انہیں’’ زر ‘‘مل گیا ہے جو زردار ہوگا وہی مقام پائے گا۔نظریاتی طبقہ کی یہاں کیا قدر ہے۔البتہ میاں نواز شریف سے عوام کی آخری امیدیں ہیں کہ وہ سیاسیات،معاشیات ،سماجیات اور حالات میں تبدیلی لانے کی صلاحیت کا بھر پور استعمال کریں گے۔ ان سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ارباب خضر حیات جیسے با صلاحیت کارکنوں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے ان ہی سطور میں ایک اور گوہر نایاب کا تذکرہ کرتا ہوں کہ جن کی اعلیٰ سوچ اور فکری جد و جہد سے آج بڑے اعزاز کے ساتھ ’’یوم تکبیر‘‘ منایا جاتا ہے ۔تاریخ کو درست کرنے کے لئے اس شخصیت کا تعارف پیش نظر ہے ۔سندھ سے تعلق رکھنے والے نوجوان مجتبیٰ رفیق جن کی دور اندیشی سے 28مئی کا نام یوم تکبیر کے نام سے ان کا انتخاب تھا مگر انہیں آج تک قیادت نے نظر انداز کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے نوجوانوں کی بیداری کے لئے جد جہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ان کی سرگرمیوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی آئیندہ نسل کی آبیاری کے لئے مثالی کردار ادا کریں گے۔
قارئین یہ ضرور سوچتے ہونگے کہ میں کسی کی ذات کو کیوں اچھے انداز سے پیش کر رہا ہوں ۔حقیقت حال یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں جن سے کما حقہ استفادہ نہیں حاصل کیا جارہا ہے ان میں بر سبیل تذکرہ صوبہ پختونخوا اور سندھ کے دو گوہر نایاب ارباب خضر حیات اور مجتبیٰ رفیق کو مثال کی بنیاد پر پیش کیا ہے۔ایسے بے شمار کارکن ہماری سیاسیات و معاشرت میں موجود ہیں جن کی بدولت آج کے منظر نامہ پر بڑے نام صاحب اقتدار ہیں۔یہ بھی عین حقیقت ہے کہ وہ راہنما کبھی بھی سر خرو نہیں ہو سکتے ہیں جو اپنے ہم سفر ساتھیوں اور قربانیاں دینے والوں کو ٹیشو پیپرز کے طور پر استعمال کرنا اپنا بنیادی فلسفہ تصور کرتے ہیں۔یہ لوگ آندھی کے طرح آ تو سکتے ہیں مگر طوفان کی نذر ہونا ان کا مقدر ہوتا ہے ۔تاریخ سے سبق سیکھنے والوں کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے قدردانوں کا دل و جان سے خیال کرتے ہوئے مستقبل کی بہتر تراش خراش کر کے عمدہ نظام متعارف کرنے کے لئے آگے بڑھیں اوراعلی صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے وطن عزیزکا مقدر امن،ترقی اور خوشحالی سے سنور سکے۔

یہ بھی پڑھیں  فیصل آباد جیل میں مزید 4 دہشتگردوں کوپھانسی دے دی گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker