تازہ ترینصابرمغلکالم

گلزار موچی کا وعدہ

ہنر مندی کی خداداد صلاحیت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ہمارے علاقہ میں دیسی جوتیاں بنانے والے ایک موچی کو اللہ پاک نے بہت شہرہ بخشا ،اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہر ایک کے لئے بر وقت جوتا تیار کر سکے مگر پھر بھی لوگ اس کا انتظار کرتے البتہ یہ ضرور کہ وہ جس کسی سے جو کوئی بھی وعدہ کرتا اس پر پورا ضرور اترتا ،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کام میں تیزی آتی چلی گئی اس نے اپنی اولاد کو محض چند جماعتیں سکول بھیجنے کے بعد کام پر لگا لیا،وقت اپنی رفتار سے رواں رہامحکم دین موچی اللہ کو پیارا ہو گیا مگر ان کے گھر جوتے بنوانے والوں کا رش ختم نہ ہوا،اس کا سب سے بڑا بیٹا گلزارموچی جو اپنے فن میں انتہائی ماہر اور اپنی مثال آپ تھا باپ کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد تک اس کی روٹین ،وعدہ ،معیار،اخلاق سب اپنے باپ کی طرح رہا پھر وہی ہوا جو زیادہ تر ایسے افراد کے ساتھ ہو جاتا ہے ،زوال کی پہلی نشانی ہی تکبرہے اس میں رعونت بھی آتی چلی گئی ،دکان پر بہت کم بیٹھنا ،شاگردوں پر بڑھتا انحصار مزید زبوں حالی کی طرف تیزی پکڑتا چلا گیااس کے دو بھائی تھے اس نے انہیں الگ کر دیا دونوں نے اپنا اپنا کام الگ شروع کر دیا مگر کام اور پیسے کی لشکمی اسی کی طرف رہی،دونوں بھائی جو تھوڑا کام ملتا اسی پر اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے لگے ،گلزار کے پاس جتنا رش بڑھتا گیا اسی طرح اس کے جھوٹے وعدوں میں بھی شدت آتی چلی گئی ،جو کوئی بھی اس کے پاس آیا اس نے اس کے پھیرے لگوا لگوا کر اسے بے حال کر دیا، کام ،دولت اور شہرت محو پرواز رہی مگر عزت نام کی کوئی چیز اس کے پاس نہ رہی ، بلکہ پورے علاقہ میں اگر کسی نے آپس میں لین دین کرنا ہوتا تو یہ لقمہ ضرور دیا جاتا کہ وعدہ گلزار موچی کی طرح کا وعدہ تو نہیں حالانکہ وہ دونوں فریقین سچے ہوتے مگر گلزار موچی کا نام جھوٹے وعدے کے حوالے سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیااب گلزار کا سچ بھی جھوٹ کا حقیقی روپ دھار چکا تھاہمارے حکمرانوں کی طرح وعدے اس کا اولین شیوہ بن گیا ، گلزار موچی کا واقعہ یوں ذہن میں آیا کہ ریاست پاکستان جو اس خطہ زمین کے نہ صرف باسیوں بلکہ کرہ ارض پر تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی قابل فخر ہے،اسے بھی گلزار موچی جیسے ۔ہنر مند ۔ہی ملتے چلے آئے ،ہر لحاظ سے با صلاحیت مگر صرف اپنے لئے ،قوم کو لارا لپا اور باقی سب کچھ اپنا،اب عالم یہ ہے کہ ہمارے لیڈران بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ،وعدے کرتے ہیں مگر ہوتا وہی ہے جس میں ان کا اپنا مفاد پنہاں ہو،اس وطن عظیم کی شادابی کوجھوٹے وعدوں نے چاٹنے کی ہر ممکن کوشش کی یہ الگ بات ہے کہ گدھ کی طرح مسلسل نوچے جانے کے باوجود نہ صرف یہ قائم و دائم ہے بلکہ امت مسلمہ کی حفاظت کا سب سے زیادہ فریضہ بھی اسی کے سر ہے،کاش اسے گلزار موچی نہیں بلکہ حق سچ کا منبع ،وعدے کا پا سبان اور سب سے بڑھ کر اپنے پیشے سے مخلص کوئی انسان (محکم دین) مل جاتا مگر یہاں ڈفلیاں بجانے والے ضرور آتے رہے اور شاید اس بے حس قوم پر یوں ہی مسلط رہیں ۔خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہ بدلی ،نہ ہو جسے خیال اپنی حالت آپ بدلنے کا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکہ اور برطانیہ کی کوششوں سے لندن میں پایہ تکمیل پہنچنے والا NROپاکستان میں ایک نئی طرز کی جمہوریت لے آیاجس کی بنیادی اکائی ہی ۔تیری میری باری ۔پر مشتمل تھی جیسے کسی شاعر نے خوب کہا تھا۔چیچو چیچ گنڈیریاں ،دو تیریاں دو میریاں ،وچوں وچوں کھائی جا۔اتوں اتوں رولا پائی جا۔یہی وہ بنیادی سبب بنا کہ آصف علی زرداری صدر مملکت آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عہدے پر جا پہنچے،پانچ سال ان کی سارا ملک ان کی انگلی کے اشارہ پر چلتا رہا،پاکستان پیپلز پارٹی کو ۔ٹف ٹائم ۔دینے والے ان کے لئے چھتری ہاتھ میں پکڑے 4سال تک ان پر چھاؤں کرتے رہے ان کے دور حکومت کے آخری سال وہی ڈرامہ PTVپر شروع ہو گیا جو میاں نواز شریف کی حکومت کے چار سال پورے ہونے کے بعداب ایک نئے سرے سے اڑان بھر چکا ہے ،گذشتہ چند ماہ سے پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف زبردست U TURNلیا ہے پی پی پی کی یہ دوڑ اس قدر تیز اور جذباتی ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان تحریک انصاف کو موجودہ سیاسی تناظر میں پیچھے چھوڑنا چاہتے ہیں ،جمہوری نظام حکومت میں بر سر اقتدار سیاسی پارٹی کے بعد ملکی سلامتی،قومی اداروں کی بہتر کارکردگی اور با الخصوص حکومت پر چیک اینڈ بیلنس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ داری ۔قومی اپوزیشن لیڈر۔کی ہوتی ہے ،بر سر اقتدار حکمران ٹولہ کے بعد اپوزیشن لیڈر واحد شخصیت ہے جو مکمل طور پر سرکاری مراعات سے مستفید ہوتی ہے،عوام حیرت میں غوطہ زن ہے کہ موجودہ حکومت جس پر ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ غیر ملکی قرض لینے کا الزام ہے،دنیا کے کونے کونے میں کشکول کی کہانیاں زبان زد عام ہیں ،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ڈکٹیشن پر اربوں روپے کے نئے ٹیکس لگے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے توانائی کے منصوبوں کا عالم وہی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ دس ارب روپے کی کرپشن کی جا رہی ہے،اربوں ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر شفٹ ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں،ہماری عدالتوں کے ریمارکس اٹھا کر دیکھ لیں وہ اس اندھیر نگری پر چیخ چیخ کر ہلکان ہو چکی ہیں مگر معاملہ جیسے تھا وہ ویسے کا ہی ہے ،ملک کو اندھیروں سے نکالنے کا دعویٰ کرنے والے چار سال میں بھی ملک سے اندھیرے ختم کرنے میں ناکام رہے،میٹرو بس ،اورنج ٹرین،نندی پور پاور پراجیکٹ جن کی شفافیت پر ابھی تک کئی سوالات کلبلا رہے ہیں یہ سب آج تک نہیں ہوا،امریکی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپشن ہی کرپشن ہے (مگر ہم بھی عزت دار ہیں)اقوام متحدہ کے ادارے اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ایشیاء اینڈ پیسفک کے مطابق مالی سال2017/18میں بھی غربت کی شرح 5.2فیصد سے بڑھ کر5.5فیصد ہو جائے گی مطلب عوام کسی بہتری کی امید نہ رکھیں بلکہ مزید مہنگائی اور ٹیکسوں کے لئے تیار رہیں سوال پیدا ہوتا رہا ہے ایسے میں ۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ۔مصلحت کے کس ۔بل ۔میں گھسے رہے؟جیسے نواز شریف نے پی پی پی کو ہر لحاظ سے تحفظ فراہم کیا اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی مسلم لیگ (ن) سے بے وفائی نہیں کی ۔ اب چار سال بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو بولنے کی آخر کیا ضرورت پڑ گئی ؟اب بلاول بھٹو زرداری اپنی تقاریر میں ۔گو نواز گو۔کے نعرے لگواتے ہیں،سابق صدر آصف علی زرداری فرماتے ہیں ۔نواز شریف کو آج نہیں تو چند دن بعد ضرور جانا پڑے گا سینٹ میں ان کی اکثریت کا خواب پورا نہیں ہونے دیں گے،ن لیگ سے قومی اسمبلی بھی لیں گے یہ کاغذی شیر ہیں ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ عوام کو کیا چاہئے ؟عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان کی ضرورت ہے (معذرت کے ساتھ یہ نعرہ بنیادی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی تھا جسے بانی لیڈر قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرایا )پتہ نہیں میاں صاحب کو غریبوں کے ساتھ کیا دشمنی ہے؟پی پی پی نے میاں شہباز شریف کی طرز پر لاہور میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف اکٹھ کیا ،ناصر باغ کے اس احتجاجی جلسہ میں خورشید شاہ،قمر الزمان کائرہ،منظور وٹو،اعتزاز احس،چوہدری منظور،ندیم افضل چن،چوہدری اسلم گل،مصطفیٰ نواز کھوکھر،محمد نوید چوہدری ،حاجی عزیز الرحمان چن اور بیگم ثمینہ گھرکی نے خطاب کیا،پی پی پی قیادت کا اجتماعی مؤقف تھاکہ ۔نام حسن ،حسین نواز ،مریم کا آئے مگر نواز شریف اصل تم ہو،کوئی محب وطن بھارتی سربراہوں کو شادیوں پر نہیں بلاتا،عوام جندل سے ملاقات کی اصل کہانی پوچھتی ہے،حسن نواز نے پانامہ لیکس اور بیورو کریٹس نے نیوز لیکس قربانی دے کر مریم نواز کو بچایا،سید خورشید شاہ نے کہا۔بے نظیر بھٹو نے آئی پی پی سے24ہزار میگا واٹس کے معاہدے کئے تا کہ بجلی لائی جا سکے لیکن نواز شریف نے انہیں بھگا دیامقدمات قائم کئے اور پھر ملک کو اندھیروں میں ایسا ڈبویا کہ آج تک ملک اندھیروں میں ہی ڈوبا ہوا ہے ،میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ کو پانامہ سے کس نے بچایا نیوز لیکس سے بھی بچا لیا گیا لیکن لوڈ شیڈنگ سے آپ نہیں بچیں گے یہ آپ کو ضرور ڈبو دے گی اداروں کے خلاف سازشیں،ہمارا مؤقف ہے چوہدری نثار علی خاں سمیت سب کا طرز عمل ریاست ،ملک ،جمہوریت ،عوام ،کسان اور مزدوروں کے لئے ٹھیک نہیں ،مینار پاکستان پر میاں شہباز شریف شو بازیاں مارتے رہے،جنگلا بس کا حساب مانگا تو ایل ڈی اے کی عمارت کو آگ لگا دی جس میں 22افراد زندہ جل گئے ،اورنج کے ریکارڈ پر نیسپاک کا ریکارڈ جلا دیا گیا،موٹر وے کے حساب پر NHA،نندی پور پاور پراجیکٹ پر نندی پور میں آگ،خورشید شاہ کے مطابق میاں نواز شریف کو سیاست کی ۔الف بے۔کا پتا نہیں،عجب بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو اب پتا چلا کہ میاں صاحب سیاستدان ہی نہیں تو عوام کو خود بتائیں کہ اپوزیشن لیڈر کی آخر ذمہ داریاں ہوتی کیا کیا ہیں؟حکومت کی ہر خوبی ،ہر خامی پر اپوزیشن کا کردار لازم و ملزوم ہے ان پر گہری نظر بھی انہی کی ذمہ داری تھی کہیں قومی سلامتی اور عوام کے حقوق پر قدغن تو نہیں لگائی جا رہی ،سانحہ ماڈل ٹاؤن،سانحہ بلدیہ فیکٹری ،صحت اور تعلیمی اداروں کی بد تر حالت ،بے روز گاری ،مہنگائی قومی اداروں کی شرمناک کارکردگی اور تنزلی ان سب اپوزیشن کسی صورت بری الذمہ نہی ہو سکتے ،دنیا کی کسی بھی بہترین جمہوریت میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ۔انمول۔ہوتا ہے تبھی جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا ممکن ہوتے ہیں۔لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ تو گلزار موچی کے وعدے جیسا تھا مگر اپوزیشن لیڈر کو کس سے تشبیہ دی جائے؟؟

یہ بھی پڑھیں  عبدالرزاق کاپی سی بی سےفیئرویل کامطالبہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker