تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

غربت اور غریبی!

m javid iqbalوطنِ عزیز کو کرۂ ارض پر قائم ہوئے نصف صدی سے زائد کاعرصہ بیت چکا ہے مگر یہاں ابھی تک غریب اور غربت کا نہ ختم ہونے والا سیلاب قائم و دائم ہے۔ ہر طرف غریب اور غربت دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس ملک میں امیر ، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور متوسط طبقہ اپنی سفید پوشی کو بچانے کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ مگر غریب اور غربت کا ساتھ چولی دامن کا ہے جو چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی ادوار آئے اور اُن ادواروں میں بڑے بڑے وعدے وعید بھی کئے گئے مگر تاحال وہ سب صرف وعدوں تک ہی محیط ہے۔ اس کے اثرات و ثمرات غریبوں تک نہیں پہنچ سکے۔ اور ان معاملے کو صحیح زاویے سے جانچا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ثمرات صرف ہمارے فرسودہ سسٹم کی وجہ سے غریبوں کی پہنچ سے دور رہتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ غریبی مٹانے کے لئے سسٹم کو درست کیا جائے۔ سسٹم ٹھیک ہوگا تو فوائد خود بخود غریبوں کی طرف منتقل ہونگے۔
ریس کے میدان میں کسی نے پوچھا کہ یہ جو ریس ہو رہا ہے اس میں انعام کس بندے کو دیا جائے گا؟ جواب ملا، ظاہر ہے کہ جو سب سے آگے جا کرریس کا اختتام کرے گااسے ہی انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ سوال کرنے والے نے پھر کہا کہ جب آگے والا بھاگ رہا ہے تو پیچھے والے کیوں بھاگ رہے ہیں کیونکہ انعام تو آگے والے کو ملنا ہے۔ یہ دنیا میدان ہے میرے بھائی! اس میں امیر و غریب دونوں ہی ازل سے بھاگتے آ رہے ہیں، امیر صاحبان تو دنیا داری میں ہمیشہ سے ہی آگے رہے ہیں۔ مگر امیر اور غریب دونوں ہی عظیم ہستیاں کہلاتی ہیں۔
غریبِ شہر تو فاقے سے مر گیا عارف
امیرِ شہر نے ہیرے سے خود کشی کر لی
اس شعر سے ظاہر ہوا کہ یہ دونوں عظیم (غریب و امیر) ہستیاں مرے ضرور ہیں مگر کوئی ہیرا چاٹ کر مرا ہے تو کوئی فاقے سے مَر گیا۔ بس یہی المیہ ہمارے یہاں رائج رہا ہے کہ غریب فاقے سے مرتا جا رہا ہے مگر ان کی داد رسی میں کوئی افاقہ دیکھنے میں نہیں آتا۔دورِ حاضر میں امیر و غریب انتہائی مصروف ترین ہیں، کسی کے پاس بھی وقت نہیں ۔ غریب دو وقت کی روٹی کے لئے چند سکے کمانے کی غرض سے رات دن مشغول ہے مشقت و مزدوری میں پیچھے نہیں ہٹتا کیونکہ اسے اپنے بچوں کے لئے روٹی کما کر لے جانا ہوتا ہے جبکہ امیر رات دن روپیہ پیسے کی افزائشِ نسل میں لگا ہوا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ غریب پیسہ کمانے اور امیر پیسہ سنبھالنے میں مصروف ہے۔ سیاہی کی ایک دوات سینکڑوں صفحات کو روشنائی سے فیض یا ب کر سکتی ہے ۔ ایک جگنو اندھیروں میں اجالا بانٹ سکتا ہے۔ پھول بھی اپنی خوشبو لٹاتا رہتا ہے۔ درخت بھی اپنا پھل بانٹنے میں مصروف ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ کچھ کر جاؤ ، کسی کے کام آ جاؤ۔ اس لئے ہر مکتبۂ فکر کے لوگ سیاسی لوگوں کو گاہے بگاہے کہتے رہے ہیں کہ اس ملک کے غریبوں کے لئے کچھ کر و۔ کبھی اپنے محلات سے نکل کر غریبوں کے خیموں کی طرف جاؤ تو احساسِ ندامت آپ کو ضرور لڑکھڑا دے گا کیونکہ وہاں غربت ہی ملے گی ، فاقے ہی ملیں گے، دودھ کی جگہ نونہالانِ وطن پانی پر گزارا کرتے ہوئے ملیں گے، تین وقت کی روٹی کی جگہ ایک وقت پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہوگا، سونے کے لئے آرام دہ بستر کے بدلے فرش اور ٹاٹ ہی دستیاب ہوگا۔مطلب یہ کہ زندگی کی سہولیات اس طبقے میں نام کو بھی نہیں ملے گا۔مگر غریب ہی اس ملک کا حقیقی ہیروہے کیونکہ اس نے غریبی اور غربت سے لڑنا سیکھ لیا ہے اور وہ اب غربت سے گھبرا کر مرنا نہیں چاہتا اسے شکست دینا چاہتا ہے۔ کاش کہ غریبی کے مختلف دلخراش لمحے حکومتیں دیکھ سکتی تو آج ہمارے یہاں غربت کا خاتمہ نہ سہی اس کی شرح میں کمی تو ضرور آ تی۔
غریب لوگوں کی عمر بھر کی غریبی مٹ جائیگی امیرو
بس اک دن کیلئے جو خود کو تم سب غریب کر لو!
امیر لوگ کبھی اپنی ناک پر مکھی بیٹھنے نہیں دیتا اور غریبوں کے ناک پر مکھی خود ہی نہیں بیٹھتی۔ مکھیوں کا بھی اپنا ایک معیار ہوتا ہے انہیں بھی غرور پسند نہیں ، یہ بھاگ بھاگ کر وہیں جاتی ہیں جہاں انا ہو، تکبر، خود پسندی اور ظاہری مٹھاس ہو۔ اگر مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کل تقریباً سب ہی غریبوں نے امیروں کو گود ل رکھا ہے۔ غریب سب سے زیادہ جذبۂ حقوق العباد کے فرائض نبھاتے نظر آتے ہیں، قابلِ غور بات ہے کہ اگر غریب لوگ امیروں کے یہا ں نوکریاں نہ کرتے تو کیا ہوتا، غریب لوگ ان کی فیکٹریوں میں ملازمت نہ کرتے تو کیا ہوتا، غریب ان کے بنگلوں میں مالی کا کام نہ کرتا تو کیا ہوتا، اسی طرح کی اور بے شمار کام ہیں جن کو غریب ہی سرانجام دیتا ہے اور اگر یہ تمام کام غریب انجام دے رہا ہے تو صرف اپنی غریبی کو ڈھانپنے کے لئے، اپنے بچوں کو روٹی کھلانے کے لئے، مگر بَس تو یہاں بھی نہیں ہوتا، کیونکہ ان غریب لوگوں کو وقت پر اجرت کا انتظام یہ امیر لوگ نہیں کرتے جس کی وجہ سے غریبوں کو کام کرکے بھی کسمپرسی میں ہی زندگی گزارنا پڑتا ہے۔
دنیا بھر میں کہا یہ جاتا ہے کہ بیماری کی نوعیت اور شدت کا علم ہو جائے تو علاج آسان ہو جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ہمیشہ گنگا اُلٹی ہی بہتی ہے۔ ہمارے یہاں بیماری کو سمجھنے اور درست علاج کرنے کے بجائے محض سرسری طور پر اور بیانات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچا جاتا ہے اور ہمیشہ کی طرح یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بیماری کو ہم جڑ سے اُکھاڑ پھینکیں گے۔ پاکستان کی معیشت اور اس کے وجود کو جو بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں ان میں شک و شبہ کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ بدعنوانی، اقربا پروری ، رشوت ستانی، سب سے گھمبیر مسائل ہیں۔ لیکن غربت ، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل تو آج اپنے بامِ عروج پر ہیں۔ بدقسمتی سے ان مسائل پر کئی برسوں سے کوئی سرکای اعداد و شمار جاری ہی نہیں ہوا۔ورنہ غریب اور غربت کی تشریح کرنے میں آسانی ہو جاتی ۔ اور پرانے اعداد و شمار کی روشنی میں تجزیہ کرنا فضول ہی ہوگا کیونکہ اب اُس اعداد و شمار سے کہیں زیادہ غربت کی شرح تجاوز کر چکی ہے۔
ملکی کرپشن ، بدعنوانیاں ، بے روزگاری پر جب تک حکومت قابو نہیں پاتی اس وقت تک ملک کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت سے معذور ہی رہے گا اور جس دن حکومت اور اس ملک کو چلانے والے ارباب نے سسٹم پرجائز طریقے سے عمل در آمدکرنا شروع کیا تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ملک میں غربت کی شرح میں کمی رونما ہوگی۔ ملک میں ملازمت کے نئے مواقع ہی دستیاب نہیں ہیں ، اگر ہیں تو لوگوں کو درخواست جمع کروانے کے دو دو ، تین تین سال تک تقرری کا خط کیوں نہیں ملتا، لوگ در بدر مارے مارے کیوں پھرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس شعبے میں بھی حکومت کو ببانگِ دہل کاروائی کرتے ہوئے اس کے سسٹم کو درست سمت میں لانا ہوگا تاکہ لوگوں کو روزگار بغیر رشوت دیئے میسر ہو سکے۔ روزگار کے ذریعے لوگ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہونگے تب ہی کہیں جا کر ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button