تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

گستاخ رسول کی سزا اس کا قتل ہے

گستاخانہ فلم نے پوری دنیا کے مسلمانوں میں ہلچل مچا دی ہے اور احتجاج کا سلسلہ ابھی تک رکنے نہیں پا رہا۔دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں نے اس گھناؤنی حرکت کی سخت مذمت کی ہے ۔ امریکہ کے بعض سنجیدہ پادریوں نے اس حرکت کو مذموم سازش قرار دیا ہے اور اس بارے میں سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔جبکہ امریکی صدر باراک اوباما نے اس موقع پر جو مذمتی بیان دیا ہے اس سے مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈے ہونے کی بجائے اور بھڑکے ہیں۔ہمارے مذہبی رہنما حافظ کے سر کی قیمت لگانے والے گستاخ فلم ساز کے سر کی قیمت لگائے جانے پر نہ جانے کیوں چیخ رہے ہیں۔
یو این او کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے بعض مقررین نے گستاخانہ فلم کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔اور عالمی سطح پر لائحہ عمل وضع کرنے کی بات بھی کی ہے۔لاکھوں کی تعداد میں امریکی دستاویزات اور راز فاش کرنے والی ویب سائٹ ’’وکی لیکس‘‘ کے بانی جولین اسانج نے امریکی صدر بارک اوباما پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اظہار رائے پر اپنا دوہرا معیار ترک کر دیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایکوا ڈور سے بذریعہ ویڈیو لنک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر اوباما ایک جانب عرب ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی اور اسلامی ممالک فلم بارے اظہار آزادی اور دوسری جانب ان کی ویب سائٹ پر پابندیوں اور اقدامات کا سامنا ہے ۔ جولین اسانج نے کہا ہے کہ وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ صدر اوباما دیگر تمام سابق امریکی صدر سے زیادہ آزادی رائے کے خلا ف ہیں۔مصر کے ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اظہار رائے کی بھی آزادی کا احترام کرے گا جسے کسی دوسرے کے خلاف مانفرت کو ہوا دینے کا ذریعہ نہ بنایا گیا ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیو یارک میں یو این اوکی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جو نبی کریم ﷺ کا احترام کرے اسے عزت دی جائے اور جو پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو اس سے کھلی دشمنی روا رکھی جائے انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا اسلام اور مسلمان کے خلاف امتیازی سلوک اور دانستہ گزند پہنچانے کا سلسلہ ہر گز قبول نہیں۔اور ہم کسی کو اپنے قول و فعل سے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ فلم بارے سخت الفاظ میں اپنے موقف سے آگاہ کیا اور اس بارے ٹھوس قانون سازی پر زور دیا۔
افسوس صد افسوس کہ امریکی صدر کا گستاخانہ فلم بند کرانے سے انکار کرنا انتہائی قابل افسوس ہے ۔اوباما کا مذمتی بیان بھی کافی نہیں ۔ انہیں اس بارے سخت کاروائی کرنی چاہئے تھی جنہوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے ۔اور جس سے مسلمانوں کے اندر متشددانہ جذبات پیدا ہونے سے بعض ممالک میں توڑ پھوڑ اور قتل و غارت گری سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
ایک طویل مدت سے یورپی مغربی ممالک میں وقفے وقفے سے ایسی گھٹیا حرکات کی جاتی ہیں جسے ان ممالک کے حکمران اظہار آزادی کا نام دے کر فل سٹاپ لگا دیتے ہیں۔ آج تک کسی عالمی ادارے نے اس بارے میں کوئی سخت اقدام نہیں اٹھایا ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس گستاخانہ فلم کی مذمت تو کی ہے لیکن مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کسی ٹھوس اقدامات کیے جانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ جبکہ مسلم ممالک کے متعدد سربراہوں نے ایسی گھٹیا حرکات کے قلع قمع کے لیے سخت قو انین کے بنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی و مغربی ممالک کے حکمرانوں کی اس بارے خاموشی سے لگتا ہے کہ وہ ایسے جامع اقدامات اٹھانے سے گریز کریں گے جس سے رائے کے اظہار کی آزادی پر کوئی قدغن لگے۔ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ متحدہ پلیٹ فارم سے اپنی آواز کو موثر بنانے کی مربوط جدوجہد کریں اور ایسی منفی حرکات کے خاتمہ کے لیے اپنا تن من دھن لٹا دیں کیونکہ کوئی غیرت مند مسلمان ایسی گھٹیا حرکات پر خاموشی اختیار نہیں کر سکتا۔اس طرح کی بے غیرتی و بے شرمی سے مسلمانوں میں مذہبی جذبات بھڑکیں گے۔ جبکہ پہلے ہی جہادی تنظیمیں مغرب کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔جس سے ملک عزیز بری طرح انتشار و افتراق کا شکار ہے۔گستاخانہ فلم ریلیز ہونے پر مسلمانوں میں شدت پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔یورپ و مغرب کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اور وہ مسلمانوں کو خون میں نہلانے کا جتن کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کو چاہئے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں ورنہ تباہی و بربادی پوری دنیا کا مقدر بن جائے گی۔میرے قلم کی آنکھ تیسر عالمی جنگ چھڑ جانے کے اشارے دیکھ رہی ہے۔روس اور چین اپنے ازلی دشمن کو چت کرنے کا رسک لے سکتی ہے اور آج عالم اسلام کو جو مسائل درپیش ہیں اس کے تناظرہ میں دیکھا جائے تو یورپ و مغرب کے مقابلے میں مسمان روس اور چین کے اتحادی بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بدین :این سی ایچ ڈی کے سینکڑوں ملازمین کامستقل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. آپ جناب نے بلکل ٹیک فرمایاں ہے اگر ہمارا بس چلے تو اس گستاخ کو ایسی عبرت ناک سزا دے کہ کوی بہی اس طرح کی گستاخی کا سوچ بہی نہ سکے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker