امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

ہاں میں مجرم ہوں(حصہ سوئم)

جرم چھوٹا یا بڑا جرم تو جرم ہی ہوتا ہے۔اگر میں کہوں کہ میں نے کبھی کسی قسم کی کرپشن نہیں کی تو یہ بات سچ ہے لیکن اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ میں شریک جرم نہیں ہوں اور اگر میں کہوں کہ حکمرانوں کی کرپشن میں میرا کوئی کردار نہیں ہے تو یہ بات بھی غلط ہے ۔آج اگر کرپٹ حکمرانوں کی لوٹ مار اور کرپشن نے میرے ہی گھر کو تباہ وبرباد کردیا ہے تو حکمرانوں کے جرم میں ،میں بھی برابر کا شریک ہوں کیونکہ ان کرپٹ لوگوں کو میں ہی منتخب کرتا ہوں۔افسوس تو اس بات کا ہے سب کچھ سمجھنے کے باوجود میں ہر الیکشن میں بے وقوفوں کی طرح اپنا قیمتی ووٹ کرپٹ لوگوں کے حوالے کردیتا ہوں،جوصرف الیکشن کے دنوں میں نہیں بلکہ ہرروز عوام کو یعنی مجھے بے وقوف بناتے ہیں۔مثال کے طورپرکچھ اہم سیاست دانوں کے اہم ترین بیانات حاضرخدمت ہیں’’ ہم نے نہیں چھوڑا نوازشریف ہمیں چھوڑ کر جدہ گئے:چوہدری شجاعت۔اسمبلیاں اپنی مددپوری کریں گی،الیکشن میں تاخیر کی بات وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں الیکشن ہارنے کاخوف ہے،الیکشن کے قریب پہنچ کر آخری دنوں میں بہت کچھ الٹ پلٹ ہوسکتا ہے ،ہماری جماعت کے پاس تجربہ کارلوگ ہیں ۔کئی لوگ پارٹیاں تبدیل کرسکتے ہیں ،پرویزمشرف نے ہمارے ساتھ دوستی نہیں نبھائی ،ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ق کے مرکزی صدر اور سینیٹر چوہدری شجاعت نے بروزاتوار ایک ٹی وی چینل کو انٹرویودیتے ہوئے کیا۔اسی روزمسلم لیگ ق کے مرکزی جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید نے بھی ایک پریس کانفرنس کی انہوں نے اس پریس کانفرنس میں کن خیالات کااظہار کیا یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گاپہلے چوہدری شجاعت کے بیان سے ذہن میں پیداہونے والے سوالات و خدشات سے آپ کوآگاہ کرتا چلوں۔ پہلی بات چوہدری صاحب نے کہاکہ انہوں نے نوازشریف کو نہیں چھوڑا بلکہ نوازشریف ان کوچھوڑ کر جدہ چلے گئے تھے۔پہلے تویہ کلئیر کرنا ضروری ہے کہ نوازشریف جدہ گئے تھے یا بھیجے گئے تھے ؟ویسے تو نوازشریف جن حالات میں جدہ گئے اس حقیقت سے سبھی پاکستانی اچھی طرح واقف ہیں لیکن پھر بھی نجانے کیوں چوہدری صاحب نے اس بیان میں نوازشریف کی ملک بدری کی وجوہات سے ناواقفیت کا اظہار کیوں کیا؟ یاانہوں نے صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے حقیقت سے نظریں چرانے کی کوشش کی ؟۔پھر اگر چوہدری برادران پرویزمشرف کا ساتھ نہ دیتے تو کیاان کو بھی جیل یا ملک بدر ہونا نہ پڑتا؟۔چوہدری صاحب کی دوسری بات کہ’’ پرویزمشرف نے چوہدری صاحب کے ساتھ دوستی نہیں نبھائی‘‘یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ چوہدری صاحب نے ایسا کیوں کہا،جب کہ پرویزمشرف کے دور حکومت میں 9سال تک چوہدری صاحب اوران کی پارٹی نے خوب مزے کئے اور 3ماہ کے لیے خودنگران وزیراعظم بھی بنے ۔پھر بھی ناراض شائد اس لیے ہیں کہ پرویزمشرف کی نگرانی میں ہونے والے 2008 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کو اکثریت نہیں مل پائی؟ چوہدری صاحب کا یہ کہنا کہ الیکشن کے قریب لوگ پارٹیاں تبدیل کرسکتے ہیں بالکل درست ہے ۔ جیسا کہ وہ خود کرچکے ہیں،جب نوازشریف کو ملک بدر کردیا گیا تواقتدار سے لطف اندوزہونے کے لیے مسلم لیگ ق میں شامل ہوگئے ۔اس لیے قوم کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں سیاستدان ہمیشہ سے مفاد پرست ہیں ۔ اور مفاد پرست لوگوں کاپارٹی تبدیل کرنا تو کیا مذہب تبدیل کرنا بھی حیران کن بات نہیں ۔لیکن چوہدری صاحب نے ایک بات ایسی بھی کہی جو مشاہد حسین سید کا بیان پڑھنے کے بعد بہت زیادہ حیران کردینے والی بھی ہے اور پاکستانی قوم کے لیے قابل فکر بھی’’چوہدری شجاعت نے کہا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرئے گی ،الیکشن میں تاخیر کی بات وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں الیکشن میں ہار نے کاخوف ہے‘‘اس پہلے کہ ان کی اس بات پر میں اپنی رائے کا اظہار کروں آپ کی نظر مسلم لیگ ق کے مرکزی جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید کا بیان کرتا چلوں جس میں انہوں نے اسی دن ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بدامنی اور مسلسل ٹارگٹ کلنگ ملک میں الیکشن کے التوا کا سبب بن سکتی ہے ‘‘اگرمسلم لیگ کے مرکزی صدرچوہدری شجاعت صاحب کی بات سچ مانیں توپھر مسلم لیگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید کو الیکشن میں اپنی پارٹی کی ہار واضح نظر آرہی ہے ۔الیکشن التوا کا شکار ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا ،لیکن یہ ثابت ہوگیا کہ چوہدری صاحب جس کے ساتھ بھی دوستی کرتے ہیں اسے ملک چھوڑنا پڑتا ہے جس طرح پہلے نوازشریف اور پھر پرویزمشرف کو ملک بدر ہونا پڑا،جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت پیپلزپارٹی اور ق لیگ کے اتحاد اور مثالی دوستی کے دم سے قائم ہے ،اگرماضی کودیکھاجائے تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا صدرآصف علی زرداری بھی ملک بدر ہوجائیں گے؟اگرچہ اس بات کا فیصلہ بھی وقت ہی کو کرنا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ صدر آصف علی زرداری ایسا دھوکہ کھائیں گے ،ہوسکتاہے کہ اس بار ملک بدر ہونے کی باری چوہدری برادران کی ہو؟ابھی میرے دماغ سے ق لیگ کی سیاست نکلی نہیں اور عمران خان صاحب کا بیان سامنے آگیا ہے ،وہ فرمارہے ہیں کہ’’ الیکشن جیت کر امریکہ کی غلامی چھوڑ دیں گے‘‘یعنی وہ امریکی غلام ہونے کا اقرارکررہے ہیں ۔خان صاحب اگر آپ علم بغاوت بلند کرنا ہی چاہتے ہیں تو پھر الیکشن جیتنے کا انتظار کیوں؟اور اگر جناب کا خیال ہے کہ امریکی غلامی میں رہتے ہوئے الیکشن جیتنا آسان ہوگاتو سن لیں الیکشن جیت کر تو آپ ساری زندگی غلامی ن

یہ بھی پڑھیں  قومی اسمبلی میں آج فاٹا اصلاحات بل پیش کئے جانے کا امکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker