پاکستانتازہ ترین

حبیب جالب کی بیسویں برسی

habib-jalib123_lدیپ(مانیٹرینگ سیل) جس کا محلات ہی میں جلے: چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے: وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے: ایسے دستور کو، صبح بےنور کو :میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا جیسی انقلابی نظموں کو کہنے والے حبیب جالب کی آج بیسوی برسی منائی جارہی ہے یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں یہ زندگی نصیب ہے لوگوں کو کم یہاں، حبیب جالب اٹھائیس فروری انیس سو اٹھائیس کو بھارتی پنجاب دسوہہ ضلع ہوشیار پور کے کسان گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ طبعاً دیہاتی انداز سے سوچنے اور کسان کی زندگی میں تبدیلی کے آرزو مند رہے ،اور یہی وجہ رہی کہ وہ سماج کے ہر اس پہلو سے لڑے جس میں بغاوت کا رنگ جھلکتا تھا ،یہ جوانی میں انقلابی سوچوں کے تحت کمیونسٹوں کی تربیت میں طبیعت میں جولانی اور جدوجہد کا ابھار آیا اور آخر دم تک سماج کے محکوم عوام کو اعلی طبقات کے استحصال سے نجات دلانے کا کام کرتے رہے۔ آزادی کے بعد کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ نظموں کے پانچ مجموعے شائع ہوئے برگ آوارہ ، سرمقتل ، عہد ستم ، ذکر بہتے خون کا ، گوشے میں قفس کے ۔ حبیب جالب بنیادی طور پر کمیو نزم کے حامی تھے۔انہیں مشہور پاکستانی فلم زرقا میں رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے، لکھنے پر شہرت حاصل ہوئی۔ بارہ مارچ انیس سو تیرانوے میں حبیب جالب لاہور میں انتقال کر گئے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button