تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

حادثہ اک دم نہیں ہوتا

اٹھارویں ترمیم ہو یا انیسویں یا بیسویں، ضمنی انتخابات کا معاملہ ہو یا کوئی بل پاس کروانا ہو، کوئی قانون بھی منظور ہوتے دیر نہیں لگتی۔ مگر عمل درآمد صرف ان پر ہوتا ہے جن میں حکومتی ارکان کا اپنا مفاد چھپا ہوتا ہے۔ کسی بھی شعبہ کو دیکھا جائے، قانون تو موجود ہیں مگر جس طرح ان قوانین کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سیاست دان مفاد عامہ کو بالائے طاق رکھ کر اپنی دکان چمکانے میں مست ہیں تو بیوروکریسی بھی اپنی ہی دکان چمکانے میں مصروف نظر آتی ہے۔ مگر عوام کے بارے میں سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں۔پاکستان کو جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا راگ الاپنے والے کیا اس بات سے نا آشنا ہیں کہ عوام کی جان و مال کی ذمہ داری بھی ریاست کی ہی ہوتی ہے۔ عوام پہ کیا بیت رہی ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے ان لوگوں کو مینڈیٹ دیا آج ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہر روز نہ جانے کتنے معصوم لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کتنے گھروں میں روز قیامت برپا ہوتی ہے، کتنی بہنوں سے ان کے بھائی جدا کر دئیے جاتے ہیں، کتنی ماؤں سے ان کے جگر کے ٹکڑوں کو چھین لیا جاتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی سیاسی جماعت کا کارکن کہہ کر، کبھی کسی امیر زادے کی گاڑی کی ٹکر سے تو کبھی سی این جی سلنڈر کے پھٹنے سے۔ اسی ہفتے کو دوران منڈی بہاؤالدین میں ایک ویگن میں سلنڈر کے پھٹنے سے ایک خاتون جل کر جاں بحق ہو گئی جبکہ ڈرائیور سمیت دیگر جھلس کر شدید زخمی ہو گئے۔ یہ ایک واقعہ نہیں روزانہ اس جیسے درجنوں واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان حادثات کی بہت بڑی وجہ غیر معیاری سلنڈر کی تنصیب ہے۔ سڑکوں پہ دوڑتی گاڑیوں میں سے نوے فیصد گاڑیوں میں سی این جی کٹ لگی ہوتی ہے۔ جن میں سے 95% گاڑیوں میں وہ سلنڈر لگے ہوتے ہیں جو تنصیب کیلئے پاس نہیں کئے گئے ہوتے اور شہریوں کو بھی اس قدر معلومات نہیں ہوتیں۔لوکل ٹرانسپورٹ میں بھی یہی سلنڈر لگے نظر آتے ہیں۔ سفری سہولیات ناکافی ہونے کے باعث لوگ انہیں چلتے پھرتے بموں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ سکول بسوں میں، جن میں درجنوں بچے روزانہ سفر کرتے ہیں ان میں بھی سلنڈروں کی تنصیب کی گئی ہوتی ہے۔ ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ جن کا کام آگ سے لوگوں کو نکالنا ہوتا ہے ان میں بھی یہی غیر معیاری سلنڈر نصب کئے گئے ہوتے ہیں۔صورت حال اس قدر خراب ہے کہ لوکل ٹرانسپورٹ میں یہ سلنڈر چیسز کے ساتھ لگانے کی بجائے بسوں اور ویگنوں کے اندر، سیٹوں کے نیچے، چھتوں کے اوپر اور جانے کہاں کہاں لگائے ہوتے ہیں اورکئی حضرات نے تو ایل پی جی سلنڈر بھی لگائے ہوئے ہوتے ہیں جو کہ سراسر انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ اک دم نہیں ہوتا
کراچی جیسے بڑے شہر میں صرف چند ایسے سلنڈر فٹر ہیں جو اوگرا سے آتھرائز ہیں۔ایسی صورت حال میں متعلقہ اتھارٹیز کی خاموشی پر انگلیاں تو اٹھیں گی۔ سی این جی کی قیمتیں بڑھانے کی بات ہو یا لوکل ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھانے کا مسئلہ ہو، سی این جی ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹ اتحاد والے آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں۔ کیا انہیں یہ روز ہوتے حادثات نظر نہیں آتے، کیا ایسی صورت حال میں ان کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی۔ وزارت پٹرولیم کہاں ہے۔ اوگرا کیوں ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔ ایچ ڈی آئی پی کیا کر رہا ہے۔ ٹریفک پولیس کیوں نگاہیں موندے ہوئے ہے۔کہاں ہیں عوامی حکومت کے دعویدار۔ رحمان ملک صاحب کیا دہشتگردی صرف موبائل اور موٹر سائیکل کے ذریعے ہی ہوتی ہے ۔ کیا یہ چلتے پھرتے بم دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتے۔ کیا ان کی روک تھام کے لئے آپ کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ خدارا! اس ملک کی حالت پہلے ہی بہت خراب ہو چکی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے ہاتھوں جو لوگ مرنے سے رہ گئے ہیں انہیں تو جینے کا حق دیا جائے۔ ان کی جان و مال کا تحفظ تو یقینی بنایا جائے۔ مولائے کائنات سے دعا ہے کہ
ؔ بقول شاعر:
یہ جو وقت ہے میرے شہر پر کئی موسموں سے رکا ہوا
اسے ازن دے کہ یہ سفر کرے اسے حکم دے کہ یہ چل پڑے
میرے آسمان سے دور ہو
کوئی چاند چہر ہ کشا کرے کوئی آفتاب ظہور ہو

یہ بھی پڑھیں  پنجاب امتحانی مرکز کی جانب سے پانچویں،آٹھویں جماعت کے شیڈول کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker