تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا

اتوار وسوموار کی درمیانی شب رات کو ئی گیارہ بجے کا عمل تھا،جب اے ایس ایف کی سی یونیفارم میں ،دس افراد کراچی ائیر پورٹ میں داخل ہوئے۔ پانچ ،پانچ کی ٹولیوں میں پیش قدمی کرنے والے یہ دہشت گرد پوری طرح مسلح تھے۔فوجی ساز وسامان کے ساتھ ساتھ ان کے پاس کچھ ایسا سامان بھی تھا جو ان کو کافی دیر تک میدان میں ڈٹے رہنے میں مدد دے سکتا تھا۔کسی طے شدہ منصوبے کے تحت انہوں نے اپنی پوزیشنز سنبھال لیں۔آثار بتاتے تھے کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کیلئے اپنا سب کچھ داؤپر لگانے پر تلے ہیں۔یہ ازبک ،چیچن اور تاجک ’’مجاہدین‘‘بہر حال پسپا ہونے جانے والے ہرگز دکھائی نہ دیتے تھے۔پھر ہوا کچھ یوں کہ سکیورٹی فورسسزکی بروقت کاروائی انکی راہ میں حائل ہوئی تو انہیں دفائی پوزیشن لینا پڑی ۔انہیں پرانے ٹرمینل تک محدود کر دیا گیاتھاتو پناہ کے لئے انہوں نے کارگو شیڈ اور فوکر گیٹ کا رخ کیا۔دونوں طرف شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔بقا اور فتح کی جنگ کوئی پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔باوجود تمام تر کوشش کے یہ دہشت گرداپنے ساتھ لایا اسلحہ بھی پوری طرح استعمال نہ کر پائے ۔اس دوران سات افراد کو دوسری سمت سے آنے والی گولیاں چاٹ گئیں جبکہ باقی تین افرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس حملے میں کوئی دو درجن افراد ہلاک ہوگئے۔ اور یوں کہانی کا ایک حصہ مکمل ہوگیا۔اک کہانی کا دوسرا حصہ سوالات سے بھر پور ہے
خدا کرے یہ سلسلہ وار کہانی یہیں ختم ہو جائے ۔تازہ ترین قسط میں سسپنس کے ساتھ بے یقینی کا عنصر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بار ہدایت کار نے دیکھنے والوں کو کچھ نیا دکھائے کی کوشش کی ہے تاکہ ناظرین ان کی طویل خاموشی کو انکی غفلت پر محمول نہ کریں۔اور وہ قوم کو’’ متاثر‘‘ کرنے میں کامیاب رہے ۔اور یہ نقشِ پنجم نقشِ چہارم سے زیادہ سنسنی خیر دکھائی دیا۔ جی ایچ کیو،مہران ،کامرہ اور پشاور ایئر پورٹ پر حملے کے بعد یہ اس سیریل کی پانچویں قسط تھی ۔حیرت انگیز طور پر ہر قسط میں ولن باوجود ناکام ہونے کے اپنے ’’مشن ‘‘میں کامیاب رہا۔خوف وہراس ،بے چینی ،عدم تحفظ کا احساس ،خفیہ اداروں کی ناکامی ،حکومت وقت کی نااہلی اور دہشت گردوں کی دیدہ دلیری کا احساس ہر فرد کی زندگی میں سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ چھوڑجاتے رہے اور یہی ’’اپنوں‘‘کا اولین مقصد ہے۔ریاست کو اس حد تک کمزور کر دینا کہ اپنے دفاع کی اہلیت سے عاری نظرآئے۔اور عوام کے دلوں میں ہراس کے ساتھ ساتھ یہ احساس جڑ پکڑ جائے کہ ریاست اور اس کو ساراڈھانچہ ریت کی طرح کمزور ہو چکا ہے اور وہ اپنے باسیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔اور یوں لوگوں کاحکومت کے ساتھ اپنی ریاست اور فوج پر سے اعتماد کچھ یوں رخصت ہو کہ پھر کبھی نہ لوٹے۔
کراچی ائیر پورٹ حملہ باوجود ’’ناکام‘‘ ہونے کے اپنے پیچھے ان گنت سوالات چھوڑ گیا ہے۔جس کے جوابات قوم کو شاید کبھی نہ ملیں کہ یہاں ایسا کوئی رواج ہی کب ہے؟ ۔اب قوم جو چاہے سوچتی اور قیاس آرائیاں کرتی رہے ان کی بلا سے۔قوم کو کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ وزیر داخلہ حسبِ معمول غائب کیوں پائے گئے ۔میڈیا والے رحمان ملک کو بار بار لائن پر لیتے رہے کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوا جیسے وزیرداخلہ ابھی بھی وہی ہوں۔قوم کو بھلا کس نے یہ بتانا ہے کہ اطلاعات میں اتنا زیادہ تضاد کیوں تھا؟افواہ سازوں کو یہ کھلی چھٹی کیوں ملی کہ وہ جہازوں کو آگ لگانے سے انکو یر غمال تک بنا لئے جانے کی خبریں دیتے رہے۔جب وزارت داخلہ کی طرف سے دو بار ایسے ہی کسی حملے کی اطلاع دی جاچکی تھی تو پھر ایسے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے کہ حملے کی ایسی کسی کوشش کو پہلے مرحلے میں ہی ناکام بنادیا جاتا۔ملک کے اہم ترین ائیر پورٹ ،جس سے ملک کو اربوں روپے حاصل ہوتے ہیں ،کی حفاظت کے لئے انتظامیہ کی اس غفلت کا آخر جواز کیا ہے ؟ کیا ذمہ دار افرادکو حسبِ روایت دودھ کا دھلا ثابت کرتے ہوئے بے گناہ قرار دے دیا جائے گا؟ جب ایئر پورٹ کو کلیئر قرار دے دیا گیا تو ایئر پورٹ کے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کیوں نہ کی گئی کہ کہیں ایسا ہی کوئی دوسرا حملہ نہ ہو جائے (جیسا کہ پانچ افراد نے بعد میں حملے کی کوشش بھی کی گئی۔جس سے انکی دیدہ دلیری اور انتظامیہ کی غفلت واضح طور پر عیاں ہوتی ہے)۔اور عموماً ایسا اس لئے بھی کیا جاتا ہے کہ کہیں دہشت گردوں کے ساتھی کہیں قریب ہی موجود نہ ہوں ۔ایسی صورت میں انہیں گرفتار کرکے تفتیش میں خاطر خواہ مدد ملنے اکا امکان ہوتا ہے۔اور سب سے اہم ترین سوال پرائیویٹ کارگو کے ان سات افراد سے متعلق ہے جو جان بچانے کے لئے کولڈاسٹورج میں جا چھپے ۔میڈیا والے چیختے چلاتے اورلواحقین روتے پیٹتے رہے لیکن کوئی بھی ان کی مدد کیلئے آگے نہ بڑھا ۔وہ بد قسمت افراد کم وبیش بیس گھنٹے مدد کے لئے پکارتے رہے۔لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ ’’یہ شہر اپنی سماعت میں سنگ جیسا ہے‘‘۔دوسال پیشتر کراچی کی ایک فیکٹری میں خوفناک آتش زدگی کو واقعہ یاد آگیا جب ’’مالک ‘‘نے یہ کہہ کر فیکٹری کے دروازے بند کرا دئے تھے کہ اسکا کروڑوں کا مال جب تک باہر نہیں نکا ل لیا جاتا وہ دروازے نہیں کھولنے دیگا ۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تین سو افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔حکام نے ایئر پورٹ ’’آل کلیئر‘‘کی رپورٹ دی کہ اب یہاں نہ خطرے کے آثار باقی ہیں نہ زندگی کے۔اور پھر کوئی چوبیس گھنٹے بعد پتہ چلا کہ واقعی وہاں زندگی کے کوئی آثار باقی نہ رہے تھے کہ آوازیں حلق کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑاور روحیں اپنے جسموں سے موڑ چکی تھیں۔
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
زندہ جل جانے والوں کی روحیں قیامت کے دن یہ سوال تو ضرور کریں گی کہ دشمنوں نے تو جو کرنا تھا کیا،اپنوں نے کون سی دوستی نبھائی ۔
دشمن ہم پر ہنس رہے ہیں کہ ہم اپنی اہم تنصیبا ت کی حفاظت تک کے قابل نہیں رہے ۔ایٹمی اثاثوں کے بارے میں پھر سے شکوک وشبہات اور سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ ایک ہی دن میں تفتان ،بلوچستان اور شمالی وزیرستان سے شہادتوں کی اطلاعات کیا یہ تقاضہ نہیں کرتیں کہ ’’تو میں اسے انکار سمجھوں‘‘کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔کیا صاحبان اقتدار نے یہ نہیں سن رکھا کہ’’ حملہ بہترین دفاع ہوتا ہے ‘‘۔کاش وہ سمجھ سکتے ’’ دل ہو مقتل میں تو پھر سر نہیں دیکھا جاتا ‘‘

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker