تازہ ترینکالم

مہر با نیا ں آخر کیوں؟

ہر دور میں انسان صر ف تین چیزوں کا طلب گا ر رہا ہے جن میں روٹی ، کپڑا اور مکا ن ہے۔ ہما رے معا شی حا لا ت اس مو ڑ پر ہیں کہ آ ج کے انسا ن کے لیے یہ تینوں چیزوں کا حصول محا ل ہیں اگر کسی کے پا س اپنا سرچھپا نے کے لیے مکا ن ہے تو اس کے پا س اپنے پیٹ کی آگ بھجا نے کے لیے دو و قت کی روٹی تک نہیں اورکسی پا س اپنا تن ڈنپنے کے لیے کپڑا نہیں یہ سب آخر کیوں ؟کہنے کو تو ہم ایک جمہوری ملک کے با شندے ہیں لیکن اس سے تو بہتر ایک غلا م اپنی زند گی بسر کر تاہے۔ حکو مت آ ج ہمیں دو و قت کی روٹی تک مہیا نہیں کر سکتی آخر کیوں؟ حکو متِ وقت ا س غر یب و لا چار اور بے بس عوام کو صر ف دو روپے کی روٹی تو نہیں دیے سکی البتہ دس روپے کا ایک کنڈوم مفت دیے رہی ہے تاکہ روٹی کھانے والے ہی نہ رہیں۔ اور بنتِ ہواکو سا تھ سا تھ منصو بہ بندی کا مشورہ دیا جا رہا ہے کیوں؟ کسی کو اپنا سر چھپانے کے لیے اک مکان تو میسر نہ ہوا لیکن منصوبہ بندی کے لیے دس ، بیس ہزار کی دوائی فری میں دی جا تی ہے یہ سب مہربانیاں کیوں کی جا ر ہی ہیں۔ تا کہ پا کستان کی انفر ا دی قو ت کم ہو ،اور نسل نو کو ان لو گوں نے پو ری طر ح اپنے بس میں کر لیا ہے۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے کی با ت ہیں کہ ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم نے کئی دن ہرتال کی تھی ان کو اس با ت کا پتا بھی ہیں کہ نہیں ان کی اس حر کت نے لا محدود بیٹیوں کے سر سے اک با پ کا سیا یہ چھینا گیا کتنی عور توں کا سہاگ ہمیشہ کے لیے اپنے خا لق حقیقی سے مِلا دیا ۔ حکو مت ہر شخص کو جو سر کا ری ملا زم ہے اس کے سکیل کے مطا بق تنخو اہ دیتی ہے۔ لیکن سوچنے کی با ت تو یہ ہے کہ حکو مت ڈا کٹر حضرا ت کو دوسرے اداروں کی نسبت دو سے تین گنا ہ زیا دہ تنخواہ دے رہی ہے۔ اس کے با و جو د یہ لو گ عوام کو جان بوجھ کر میٹھی نید سلا رہی ہے۔کسی بھی ادارے میں ملا زم کی کچھ ذمہ داریاں ہو تی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو پو را کرنا ان کا فر ض ہو تا ہے۔ اگر کو ئی ٹیچر ہر تا ل کر دیے گا تو کیا ہو گا ۔ زیا دہ سے زیا دہ بچوں کا تعلیمی نقصا ن ہو گا ، اور اگر کو ئی وا کیل اپنی با ت منوانے کے لیے کچھ دن اپنے آ فس میں نہیں جا تا تو اس کے ذمہ جو کام ہے وہ کچھ دنوں کے لیے رک جا ئے گا ۔ لیکن کسی کی جا ن کو تو خطر ہ نہ ہو گا ۔ہرسا ل نجا نے کتنے لو گ صحت یا ب نہ ہو نے کی وجہ سے اپنے خا لق حقیقی سے جا ملتے ہیں۔ اللہ تعا لیٰ نے ایک کو حد تک علم دے دیا ہے کہ وہ ان لا چا ر اور بے بس مر یضوں کو اس عظیم فن کے ذریعے صحت بحا ل کر نے میں معا و ن ثا بت ہو تے ہیں۔ لیکن یہ اپنی با توں کو منو انے کے لیے نجا نے کتنے لو گو ں کی جان پر کھیل جا تے ہیں۔ جو عوام پا کستان میں زند ہ ہے اس کو مختلف طر یقوں سے ما ر دیا جا تا ہے۔ اور سا تھ ساتھ لو گو ں کو اس حد تک ڈرا دیا جا تا ہے کہ وہ اپنی نسل کو آ گے بڑھا نے کا خیا ل بھی اپنے ذہن سے نکا ل دیتے ہیں۔یعنی کے ہر طر یقے سے پا کستا ن کی انفر ادی قو ت کی کمزور کرنے کی کو شش کی جا رہی تھی اور آج بھی کی جا رہی ہے ۔ (ایک پرانہ اور مشہو ر معقولہ ہے کہ و ہ ہی قو م تر قی کر سکے گی جس قوم کے افر د صحت مند تند روست اور توانا ہو ں گے ) ہمیں اپنی انفرا دی قوت بڑھانے کے سا تھ اپنی قوم کو صحت مند د یکھنا پسند کر ئے گے جو اس قوم کا حصہ ہیں ان کو کھا نے پینے کی اشیا ء کے ذریعے کمزور اور لا غر کیا جا ر ہا ہے۔ اور نسل نو کو ذر یعہ ابلا غ جہنم کی طر ف راغیب کر رہا ہے ۔ اور ہم اپنی آ نکھوں پے پر دہ ڈا لا ہو ا ہے۔ ان کی با ت کو ماننا ہما رے لیے اِ ک فر ض کی اہمیت رکھتاہے۔ اور وہ لو گ اپنی اس چا ل میں کامیا ب ہوتے جا رہے ہیں ۔ ذریعہ ابلا غیا ت کسی و قت میں ایک اچھا نظام تھا ۔ لو گ اس نظام کے تحت نیو ز اور دیگر پر و گرا موں سے لطف اندوز ہو ا کر تے تھے۔جن میں ڈرامے ، علمی شو ء شا مل ہو تے تھے اور ان شو ء میں بھی کچھ نہ کچھ سبق ہو ا کر تاتھا۔ آ ج کے ذر یعہ ابلا غ نے نسل نو کو اس قد ر بیگا ڑ دیا ہے کہ وہ اپنی سما جی ، مذہبی ،معا شی نظا م کو ٹھکر کر ایک غیر مہذبانہ ثقا فت کو اپنانے میں فخر محسو س کر تے ہیں۔ اور ان بے ہودہ عا د توں کو اپنی رسم و ر واج میں سا مل کر رہے ہیں۔ ان سب کے پیچھے ایسی کو ن سی وجہ ہے ؟کس چیز نے ہمیں اپنی تہذیب و تمدن چھو ڑنے پر مجبور کیا ۔ یہ سب مہر با نیا ں ان لوگو ں کی ہیں جو اپنے بچوں اور اباؤاجدا کو سنٹروں میں پر ورش کے لیے بیج دیتے ہیں اور کتوں کو اپنے گھر وں میں رکھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کی ان میٹھی میٹھی مہر با نو ں سے ان کی غلا می کا لبادہ اپنے تن پر ڈالتے چلے جا ر ہے ہیں۔ آج ہم ان لو گوں کے مقصد کوبول گے ہیں جنہوں نے ایک آ زاد اور جمہو ری ملک بنا نے کے لیے اپنی عزتوں ،جا نوں کو قر بان کر کے ایک الگ ریا ست قا ئم کر کے دی تھی۔ آج ان عظیم شخصیتوں کی روحوں کو تسکین کی بجائے بے چینی ہو ر ہی ہو گی ۔ ہمیں آج کی ان مہر با نیوں کی بجا ئے کل کی دی گئی اس جمہو ری ملک کے لیے قر بانیوں کو مد نظر رکھنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن کاانتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کے لئے اکیس روزہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker