حکیم کرامت علیکالم

وارثت اسلام

کسی نہ کسی حد تک اور کچھ نہ کچھ ہر شخص کا ورثہ ضرور ہوتا ہے۔وہ ورثہ ثقافتی ہو یا لسانی ذاتیات کا ہو دولت ہو یا رنگ و نسل کا ۔اس کی حفاظت ہر لحاظ سے صاحب وارث پر فرض ہے ۔وارثت اسلام یعنی اسلام کی وارثت ۔اب دیکھنا اس بات کو ہے کہ کل ہم کیا تھے اور اہل یورپ کیا تھے ۔ آج یورپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔اور مسلم ممالک پسماندہ ملکوں میں ۔یورپ جو آج ہے پہلے نہیں تھا ۔مسلمانوں نے ہی اہل مغرب کو انسان بنایا لیکن وہ یہ بات ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔اس لیے کہ مسلمانوں نے اہل مغرب گندی اور گھٹیا خصوصیات اپنائی ہیں اور صاف ستھری روایات انہیں دے دی ۔
ایک وقت تھا جب قرونِ وسطیٰ میں یورپ وحشت بربربریت اور جہالت میں تابفرق ڈوبا ہوا تھا ۔لوگ گارے اور گھاس کی جھونپڑیوں میں رہتے تھے ۔ پتے کھاتے اور کھالیں پہنتے تھے ۔ ان کی گلیاں جابجا گندے جوہڑ اور کوڑے کے ڈھیر سڑکیں نہ تھیں ۔ ہر طرف کود رو جنگل جن میں ڈاکووں اور آدم خوروں کا بسیر ا تھا ۔ سیاست حکومت، تمدن، تہذیب اور علوم و فنون کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ عین اس عالم میں عرب سے ایک قوم اٹھی ۔ جو صرف نوے برس میں ملتان سے بحر اسود اورثمر قند سے ساحل اطلس اور وسط فارنس تک چھا گئی ۔ اس قوم نے جابجائ مساجد بنائیں ۔ علم و فن کے بڑے بڑے مرکز قائم کیے دنیا بھر کے علما و حکما ئ کو اپنے درباروں میں جمع کیا ۔ تمام یونانی رومی علوم کو عربی میں متنقل کیا ۔جابجائ دار الکتب اور دارالعلوم قائم کیے ۔ شفا خانے بنوائے سڑکیں نانکالیں ۔ نہریں کھودیں ، باغات لگائے ۔گلیوں کو پختہ کیا ۔ ان میں روشنی کا انتظام کیا ۔ پل اور تالاب بنائے ۔ دنیا کو حسین تعمیرات سے بھر دیا۔  اسلامی تعمیرات کے امتیازی اوصاف چمک ، روشنی ، صفائی ، کشادگی حسین نقش و نگار رنگین پتھر کا باریک کام ۔ سنگ مرمر کی جالیاں۔ بلند مینار چمکتے ہوئے گنبد۔ چھلکتے ہوئے تالاب۔ سرسراتے ہوئے چشمے ۔ مہکتے ہوئے باغ اور ناچتے ہوئے فوارے ہیں ۔ الحمرائ میں کانسی سونے کے مور اور ایسے فوار ے بنے ہوئے تھے ۔ جس سے پانی کے ساتھ ساتھ نہایت میٹھی تانیں نکلتی اور ساز بجتے تھے ۔ المقتدر عباسی کے محل میں ایک وسیع حوض تھا ۔ جس کے وسط میں سونے کا درخت تھا ۔ اس کی شاخیں سو سے زیادہ تھیں ۔ اسکے پتے پھل اور پھول یا قوت و زمرد و غیرہ سے بنائے گئے تھے۔  شاخوں پر رنگ رنگ کے پرندے تھے ۔ جو سونے چاندی اور لعل و مرجان سے تیا ر کئے گئے تھے ۔ جب ہوا چلتی تو یہ پرندے مختلف بولیاں بولتے اور گاتے تھے ۔ تالاب کے دونوں جانب ایسے مصنوعی سوار تھے ۔ جو خوبصورت لباس پہنے اور رصع تلواریں ہاتھوں میں لیے یوں بڑھتے تھے جیسے وہ ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہوں ان خلفائ کی شان و شوکت وہیبت کا عالم تھا کے جب قسطنطین ہفتم عباسی کے دربار میں پہنچا تو اسے محل کے باہر ایک لاکھ ساٹھ ہزار سوار اور پیادہ ،ساتھ ہزار خواجہ سرا ،ساتھ سو حاجب اور محل کے اندر اٹھیتس ہزار پردے اور بائیس ہزار قالین دیکھے جب فوج کے ایک دستہ نے پریڈ کی تو اس کے ساتھ ایک سو شیر بھی مارچ کر رہے تھے ۔اس کا محل نو مربع میل میں پھیلا ہوا تھا ۔اور اس میں نو ہزار گھوڈوں کا ایک اصطبل بھی تھا ۔ عہد مامون میں بغداد کی آبادی تھی جس میں تیس ہزار مساجد دس ہزار حمام ایک ہزار محل آٹھ سو ساٹھ اطبائ تھے نیز ایک دارالحکومت تھا ۔ جس میں ایران عراق شام مصر اور ہندوستان کے سینکڑوں حکمائ دنیا بھر کے علوم و فنون کو عربی میں منتقل کر رہے تھے ۔رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے کہ عربوں کے کتانی سوتی اونی ریشمی لباس بغداد کے دمشقی شجر موصل کی ململ غازہ کی جالی غرناطہ کے اونی کپڑے ایرانی تا فتہ اور طرابلس کے شیفون نے یورپ کی نیم برہنہ آبادی کو اعلیٰ لباس کا شوقین بنا دیا ۔ یہ تھے وہ مسلمان جنہوں نے اپنے اوصاف اپنی ثقافت اور اپنے فنون کو پورے یورپ میں بدل ڈالا مگر افسوس کہ آج کے مسلمان انہیں اوصاف سے خالی ہو گئے۔اور پوری دنیا میں اپنا مقام کھو دیا ۔ جو کبھی مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھا ۔مگر افسوس کہ آج کے مسلمان نے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر اس قوم کی تقلید اپنا لی جو کل تک ہماری تہذیب کے پیروکار تھے ۔جو کل تک ہمارے مقلد تھے آج ہم ان کے مقلد بن گئے ہیں ہمارا رہن سہن بول چال سارے کا سارا مغربی ہوتا جا رہا ہے ۔کیونکہ ہم نے اپنی اسلامی وراثت کا تحفظ چھوڑ دیا ہے ۔ہمارے اسلاف نے ایک عرصہ دراز تک اپنی تہذیب و ثقافت کا چرچا چار دانگ بٹھائے رکھا اور اہل مغرب اس کے مقلد رہے۔اور مقلد قوم کبھی آزاد نہیں ہوتی ۔حدیث مبارکہ بھی ہے کہ ۔جو آدمی جس کی شکل و صورت اختیار گا کل قیامت والے دن وہ اسی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے مغربی ثقافت اپنا کر ان کے ساتھ اُٹھنا ہے ۔یا دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا ہے اور یہ کام کوئی مشکل نہیں ۔اگر آج بھی مسلمان اپنی غفلت کی نیند چھوڑ کر متحرک ہو جائیں اور مغربی کلچر کو چھوڑ کر اپنا اسلامی کلچر اپنا لیں تو یہ بات بعید القیاس نہیں کہ وہ پھر ہمارا اسلامی کلچر اپنانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔غالب قوم وہ ہوتی ہے جو اپنا نام پیدا کرے کسی کی اپنائی ہوئی یا رائنج کی ہوئی رسم و رواج کو اپنائے وہ غالب نہیں بلکہ مغلوب قوم ہے ۔
اسلامی کلچر اپنانے کے لیے سب سے پہلے جو امر ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے وہ تقویٰ ہے۔اور تقویٰ چار ستونوں پر قائم ہے صبر یقین عدل جہاد صبر کی بھی چار شاخیں ہیں ۔اشتیاق خوف دنیا سے بے اعتنائی ۔یقین کی بھی چار قسمیں ہیں روشن نگائی حقیقت رسی عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ جب تک ہم اپنے سابقین جو صیح العقیدہ مسلمان تھے ان کے طریقہ کو نہیں اپنائے گے اس وقت تک نہ تو تقویٰ ہمارے دلوں میں پیدا ہو گا اور نہ ہی ہم اپنا کلچر اپنا سکے گے عدل کی بھی چار شاخیں ہیں تہوں تک پہنچنے والی فکر علمی گہرائی فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پیداری ۔جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں امر بالمروف نہی عن المنکر تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت

یہ بھی پڑھیں  حالا ت کے اُلجھے ہو ئے دھا گے کیوں نہیں سلجھتے؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker