حکیم کرامت علیکالم

پاکستان کا نظامِ صحت معذرت کے ساتھ

ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کے باشندے صحت مند ہوں ۔دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی صحت کا دارومدار اس کے معماروں کی صحت پر ہے ۔حکمرانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ صحت کے نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشش کرنی چاہیے ۔مگر ہمارا نظامِ صحت انتہائی ناقص ہے ۔بڑے افسوس کے ساتھ یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں ۔دوسرے تمام اداروں کی بانسبت سب سے زیادہ اہمیت کا حامل یہ ادارہ ہے ۔مگر یہاں کی صورتِ حال یہ ہے کہ مریض ایک ڈاکٹر کے پاس اپنی تکلیف کے ازالہ کے لیے جاتا ہے ۔اپنی بیماری سے بے حال مریض جب مسیحا کی مدد حاصل کرنے کے لیے ہسپتال جاتا ہے۔تو وہاں جا کے دیکھتا ہے کہ وہاں کئی مریض مختلف امراض کی وجہ سے بلبلا رہے ہیں اور ڈاکٹر صاحب اپنی سیٹ پر موجود ہی نہیں استفسار کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ۔آج ڈاکٹروں کی ہڑتال ہے ۔مریض ہسپتالوں کے فرش پر بیٹھے بِلک رہے ہیں ۔آنکھیں زندگی بچانے والوں کی راہ میں بچھی ہوئی ہیں اور مسیحا سڑکوں پر اپنے مطالبات منوانے کے لیے اجتجاج کر رہے ہیں جلوس نکال رہے ہیں ایک ڈاکٹر صاحب کو یہ کہتے ہوئے خود گنہگار نے سنا جیو کے نمائندہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے موصوف فرما رہے تھے کہ ٹیچر اور وکلائ ہڑتال کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ۔مقامِ افسوس ہے کہ ایک وکیل یا ٹیچر کا ایک ڈاکٹر سے کیا مقابلہ ۔ڈاکٹر صاحب تو ہسپتال چھوڑ کر ہڑتال کر سکتے ہیں ۔کیاکبھی امراض نے بھی ہڑتا ل کی ہے ۔یا تو ان صاحب کو چاہیے کہ جب انہوں نے ہڑتال کرنی ہو تو امراض کو بھی ہڑتال کروا دیں ۔تا کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک لوگ تو اپنی زندگی کی بازی نہ ہاریں ۔یا ان کے لیے کوئی اور وسائل پیدا کریں جو ہڑتال کے دنوں میں مریضوں کے ممدومعاون ثابت ہوں ۔
اگر ہڑتال کا زمانہ نا ہو تو پھر کیا صورتِ حال ہے ۔مریض جا کہ ڈاکٹر صاحب سے اپنی تکلیف کا رونا روتا ہے اور دل میں ایک آس لگاتا ہے کہ اس کا یہ مسیحا اس کی بیماری کا کوئی حل جلد نکالے گا ۔مگر ہوتا کیا ہے ڈاکٹر صاحب نے کئی قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ لکھ کر ایک پرچہ مریض کے ہاتھ تھما دیا اور ساتھ ہی لیبارٹری کا پتہ بھی بتلا دیا ۔اب تکلیف سے بے حال اور پریشان حضرت لیبارٹری کا رخ کرتا ہے ۔جب وہاں پہنچتا ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ لوگوں کی لائن لگی ہوئی ہے ۔باری آنے پر ٹیکنیشین ہاتھ میں ایک سرنج پکڑے آتا ہے اور اس کی رگ سے خون نکال کر اس پر اس کا نام لکھ لیتا ہے ۔فیس وصول کر لیتا ہے اور ساتھ ہی الفاظ کا نشتر چلاتا ہے یعنی کہتا ہے کہ بابا جی آپ دو ماہ بعد آکر اپنی رپورٹ لے جانا افسوس صد افسوس کہ اس بیچارے کو تکلیف آج ہے اس کے مرض کا تعین دو ماہ بعد ہوگا اور پھر علاج شروع ہوگا ۔مریض چارو ناچار واپس ڈاکٹر کے پاس یہ مژدہ سنانے حاضر ہوتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب پھر ایک پرچی پر کچھ ادویات لکھ کر اپنی فیس کھری کرتا ہے ۔اور دوائی کھانے کی ہدایت و طریقہ استعمال بتاتا ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مرض کیا ہے ۔ اس کا پتہ رپورٹ آنے پر چلنا ہے ۔تویہ دوائی کس مرض کی ہاں شاید فیس حلالی کی ۔اب کیا ہے گھر سے غریب جو پیسے لایا تھا اب وہ دے کر خالی ہاتھ واپس جا رہا ہے ۔جسمانی تکلیف کے ازالہ کے لیے آیا تھا اب ذہنی اذیت بھی ساتھ لے کر جا رہا ہے ۔ذہنی اذیت بھی دو طرح کی ایک تو زر لٹانے کی دوسر ی رپورٹ آنے کی ۔کہ پتہ نہیں اب رپورٹ میں کیا آتا ہے ۔
کئی بار یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ ہسپتالوں میں کئی بیمار بے سہارہ عمر رسیدہ لوگ صبح سے فرش پر ایڑیاں رگڑ رہے ہیں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں مگرباری ہے کہ آتی ہی نہیں اتنے میں چھٹی وقت ہو گیا اور وہ بیچارہ ناکام واپس لوٹ جاتا ہے ۔دوسرے دن پھر زندگی بچنے کی موہوم سی امید لیے پھر ڈاکٹر کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے آ حاضر ی دیتا ہے ۔اگر کسی کی منت سماجت کر کے وقت مل ہی گیا تو پھر ہی معاملہ لیب والا یا مہنگا ترین نسخہ جو مریض کی پہنچ سے ہی دور ہو ۔
اگر ایک ڈاکٹر کا ایک ٹیچر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ایک ٹیچر اگر ایک دو دن سکول نہ جائے تو کوئی ایسی بات نہیں کام چل جاتا ہے ۔جبکہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے کے ساتھ تو ایک ایمرجنسی روم ہوتا ہے ۔جس میں آنے والا مریض موت و حیات کی کشمکش میں ہوتا ہے پھر ڈاکٹر کی ہڑتال کا کوئی تُک ؟
خدا رہ اپنے فرائض کو پہچانیے۔ کہ ایک ڈاکٹر کے فرائض کیا ہیں ؟اس کا حق نہیں بنتا کہ وہ اپنا کمرہ چھوڑ کر سڑکواں پر رہے۔پچھلے دنوں لاہور میں ہونے والی ہلاکتوں میں کئی بچے یتیم ہو گئے ۔ڈاکٹروں کے مطالبات تو پورے ہو گئے ۔مگر ان یتیموں کا کیا بنے گا جن کے سر سے سایہ اُٹھ گیا ۔جن کے والدین زندگی کی امید پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ان والدین کے دلوں کی کیا حالت ہوگئی جنہوں نے اپنے اولاد کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جاتے دیکھا
عجیب ہے ہمارا یہ سسٹم کہیں ہڑتال کہیں ناقص ادویات ۔کیا ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔کیا ہمارے ملک کی لیب کی تعداد نہیں بڑھائی جا سکتی ؟بین الاقوامی سطح پر ہونے والی رسوائی الگ لوگوں کی جان گیئں وہ الگ۔اگر ہماری ادویات ناقص ہیں تو وہ کہاں بنتی ہیں اور ناقص کیوں ۔بنانے والی کمپنیز بھی ہماری بنانے والے بھی ہم خود پھر ناقص کیوں ؟حکومت نے مطالبات منوانے والوں سے یہ سوال کیا ہے کہ ان ہڑتالوں میں جو جانی نقصان ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ۔
طب کا یہ شعبہ بڑا مقدس شعبہ ہے اور اس کو اپنانے والوں کو اپنے فرائض سے کبھی بھی اور زرا سی بھی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔بلکہ خوف خدا دل میں رکھتے ہوئے غریب اور دکھی عوام کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہونا چاہیے۔اپنے جائز مطالبات منوانا ہر ایک کا حق ہے میں اس بات کے خلاف نہیں ہوں مگر اپنا کام روک کر اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں بلکہ کسی احسن طریقہ سے اپنے مطالبات احکامِ بالا کے سامنے رکھیں ۔آنے والے لوگوں کو بھی کسی قسم کی پریشانی کا سامنہ نہ کرنا پڑھے۔طب سے وابسطہ افراد کو چاہئیے کہ وہ عبادت سمجھ کر اس فرائض کی ادایئگی کریں ۔میری باتوں سے جن حضرات کو بری لگیں میں ان سے معذرت کرتا ہوں ۔ایسی حالت دیکھ کر دل دکھا تو یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنا مدعا لکھ دیا

یہ بھی پڑھیں  افغا ن با قی ، کہسا ر با قی الحکم للہ! الملک للہ !

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. ماشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرامت بھائی بھت عمدہ مضمون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker