تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

اسلامی انقلاب کے اثرات

نعروں سے کبھی انقلاب نہیں آیا کرتے ایک دوسرے پر تہمتیں لگانے سے انقلاب نہیں آیا کرتے ۔کتنا عظیم الشان تھا وہ انقلاب جو فتح مکہ کے بعد پندرہ بر س کے اندر اندر تما جزیرۃ العر ب میں بر پا ہو گیا۔ اس کی عظمت کو دیکھتے ہو ئے اگر آپ یہ کہیں کہ اسے انقلاب سے بڑھ کے کو ئی نا م دینا چا ہیے۔ تو مبا لغہ نہ ہو گا ۔ یہ ایک نئی تہذیب تھی جس کی نظیر دنیا کی تا ریخ میں نہیں ملتی ۔ اس مختصر زما نے میں عر ب بت پر ستی سے نکل کر اسلام کی طر ف آئے اور ان کی قبا ئلی نا انصا فی اور قو می نفر ت ایک ایسی و حد ت میں بد ل گئی جو ہمہ گیر سیا ست اور مشتر ک غر ض کے بل پر قا ئم تھی۔ اس سے پہلے وہ جزیرہ نما ئے عر ب کی حد ود میں سمٹے ہو ئے تھے اور اس کے بعد یہ ایک ایسی وسیع سلطنت کے ما لک بن گئے جس میں رو می اور ایر ا نی دو نوں سلطنتیں تحلیل ہو گئی تھیں۔ پہلے ان کی اکثر آبا دیوں پر بد و یت کی سختی و تنگ و ستی چھا ئی ہو ئی تھی اور اب وہ ایک ایسی آ سو دگی و خو ش حا لی کی زندگی بسر کر لگے جو اس سے پہلے ان کے لیے اجنبی تھی ۔ ان حا لات میں کو ئی تعجب نہیں۔ اگر ان کی اجتما عی زندگی ان بر ق رفتا ر یو ں سے متا ثر ہو جا تی اور زند گی اور مطالب زند گی کے متعلق ان کا نقطہ نظر بدل جا تا۔
اور ہو ا بھی یہی وہ تما م محر کا ت جنھو ں نے عر بو ں میں اس نئی تہذیب کو جنم دیا ۔ ان کی انفرا دی اور جما عتی دو نوں زندگیوں پر اپنا اپنا اثر پہلے سے کسی حد تک رکھتے تھے۔ مذہبی محر ک کا اپنا اثر سیا سی محر ک کا اپنا اثر اور اقتصا دی محر ک کا اپنا اثر یہ اثرا ت او قا ت متنا قض ہو تے تھے۔ لیکن وہ ایک دو سرے پر اثر اندا ز ہو کر آپس میں گھل مل گئے اورانہوں نے اجتما عی زند گی میں کچھ ایسی تبد یلی پیدا کر دی کہ اس کا جو اثر بعد کو اسلام اور مسلما نو ں کی زند گی پر مر تب ہو ا وہ نگاہو ں کو اپنی طر ف کھینچتا اور دما غ کو اپنے متعلق سو چنے کی دعو ت دیتا ہے۔ اس انقلا ب کی وسعت کا اندازہ کر نے کے لیے منا سب یہ ہے کہ ہم عر بوں کی اسلام سے پہلے کی اجتما عی زند گی پر نظر ڈالیں ۔ عر بوں کی اکثر یت صحر ا میں زند گی بسر کر تی تھی ۔ شہر ی آ با دی بہت کم تھی ۔ جس کا سبب یہ تھا کہ جز یرہ تما ئے عر ب میں با قا عدہ بہنے وا لی نہر یں نہ تھیں اور نہ و ہا ں سا ل بہ سال وہ مو سمی پا شیں ہو تی تھیں۔ جو زمین کو سر سبز و زر خیز بنا تی ہیں۔ چند علا قو ں کو چھو ڑ کے پو رے جز یر ۃ العر ب میں کھیتی با ڑی کا کو ئی نظا م نہ تھا ۔ پھر شہر اور بستیاںان مقا ما ت پر آبا د تھیں۔ جہا ں چشموں کی بہتا ت ہو تی تھی ۔ با قی جو کچھ تھا ریگستان ہی ریگستان تھا۔ جہا ں با ر شیں ہو تیں سبزہ اگ آ تا ور نہ زمین بے آب و گیا ہ رہتی۔ اس لیے یمن کے ریگزار بھی دو سرے ریگزاروں کی طر ح اہل یمن کے ایک بڑے حصے کو شا مل تھے۔ البتہ نجد، حجا زاور عر ب کے دو سر ے تما م علا قوں میں شہر ی اور صحر ا ئی آ با دی کا جو تنا سب تھا اسی کے لحا ظ سے یمن کی شہر ی آبا دی اس صحر ائی آبا دی سے زیا دہ تھی ۔
ریگستا ن میں اجتما عی ز ند گی کی اسا س قبیلہ تھا ۔ قبیلہ خا ندا نوںسے تر کیب پا تا تھا ۔ اور خا ندا ن افرا د کے نسبی اور قر ا بتی تعلقا ت سے و جو د میں آتے تھے۔خا ندا ن کا ہر گھر نمدے کے خیمے میں رہتا تھا تا کہ جب کو ئی قبیلہ اپنے او نٹو ں کے لیے چرا گا ہ اور اپنے با ل بچو ں کے لیے رزق کی تلا س میں کو چ کر نا چا ہے تو اسے اٹھا کر لے جا نے میں سہو لت رہے قبیلے اکثر گر می اور بہا ر کے مو سم میں ایک جگہ سے دو سر ی جگہ جا تا کر تے تھے۔ جب ر یگستا ن کے چھو ٹے چھوٹے چشموں کے گر د گھا س کثر ت سے اگ آتی تھی لیکن مو سم سر ما کی آمد پر چراگا ہیں خشک ہو جا تی تھیں۔ تو یہ لو گ شہر وں کا رخ کر تے تھے اور ان کے قر یب ڈیر ے ڈال دیتے تھے ۔ پیٹ بھر رو ٹی حا صل کر نے کے لیے وہ اہل شہر کے سا تھ مل کر کا م کر تے تھے۔ یا ان پر چھا پے ما رتے تھے اس لیے کہ ان کی کفیل وہ آزادی تھی جو انہیں اچھے سے اچھے کھا نے اور بہتر سے بہتر کپڑے سے زیا دہ عز یز تھی۔
یہ ہے بد و ی زندگی کے خا ند انی اور گھر یلونظام کا مختصر سا خا کہ جس میں بحیثیت مجمو ی عر ب کی شہر ی زند گی کے خا ند انی اور گھر یلو نظام کی تصو یر بھی شا مل ہے اس لیے کہ شہروں کے رہنے والے بھی بد و یوں کی طر ح قبیلوں ہی میں منقسم تھے اور ان میں سے اکثر بد و ی الا صل تھے جن کے دلوں میں شہر ی زند گی کا شو ق پید ا ہوا اور وہ شہر وں میں آکے رہ بس گئے۔ یہ معلوم ہو جا نے کے بعد شا ہد آ پ آ ج بھی ان بد و یوں میں جنہیں ہنو ز تہذیب و تمد ن کی ہو ا نہیں لگی۔ اس نظام کے بچے کھچے آ ثا ر کا مشا ہدہ کر سکتے ہیں ۔ اگر چہ اسلا م نے بہت کچھ اسے مٹا دیا تھا۔
عر ب کے بد و یوں اور شہر یوں کا خا ندا نی اور گھر یلونظا م آپس میں ملتا جلتا تھا لیکن زند گی کے سر و سا ما ن اور اس چیز میں جسے آج ہم اقتصا دی نظام سے مو سو م کر تے ہیں ۔ وہ ایک دو سر ے سے بہت مختلف تھے۔ اہل شہر اپنی زند گی تجا رت اور اپنے ان با غوں تا کستا نوں اور کھیتوں کی پیدا وار کے سہا رے بسر کر تے تھے جن میں بو نے جو تنے اور دیکھ با ل کے کا م وہ کر ا یہ کے آد میو ں سے لیتے تھے اور اپنی اس تجا رت و زراعت سے انھیں بہت زیا دہ آمد نی ہو تی تھی۔ ان میں اکثر اپنا رو پیہ سو د پر چلا تے تھے اور جو لو گ کا رو با ر وغیر ہ کر نا چا ہتے تھے انہیں بھا ری منا فع پر قر ض دے کر اپنی رقم تھوڑی سی مد ت میں دگنی کر لیتے تھے یہ سب لو گ زندگی کی ان راحتوں اور آ سا ئشوںمیں کھیلتے تھے جن سے اہل با دیہ وا قف بھی نہ تھے ۔ شر ا ب مو سیقی اور جوا ان کے لیے دن رات کا مشغلہ تھا اور خوا ہشوں کی شکم سیر ی نے زندگی کو ان کی نظر میں محبو ب اور اطمینا ن افزا بنا دیا تھا ۔ تجا ر ت اور سو د سے جو بے شما ر نفع انھیں ہو تا تھا اس کی وجہ سے وہ لذتوں میں ڈو ب گیے تھے اور بلند اخلا قی کی بہت سی خو بیاں ان کی کتا ب زیست سے محو ہو گی تھی ۔لیکن خانہ بدوشی کی زندگی چراگاہوں کی تلاش اور اونٹ گوشت اور دودھ سے ترکیب پاتی تھی ۔ایک بدوی کی ملکیت نمد ے کا ایک خیمہ ہو تا تھا ۔ جس میں وہ اپنی زند گی بسر کر تا تھا یا وہ غلہ اور پھل جو اپنے گر دو پیش کی زمین میں وہ بو تا تھا۔ کیو نکہ قا عدہ یہ تھا کہ کھیت اس کا ہے جو اس کو بو ئے ۔ لیکن یہ ملکیت برائے نا م ہو تی ہے۔ اس لیے کہ بدوی زراعت کو پسند نہ کر تے تھے اور کھیتی با ڑی کو اپنے مر تبے سے کم تر سمجھتے تھے۔ لیکن قبیلے کی آ(رض)با دی کے ارد گر د جو چرا گا ہ ہو تی تھی ۔ قبیلے کی مشتر کہ ملکیت سمجھی جا تی تھی۔ یہی حال اس گھا س کا تھا جو ریگستانی آبا دی کی ان محفو ظ چرا گا ہوں میں پیدا ہو تی تھی۔ اور ہمسا یہ قبا ئل کو یہ حق حا صل تھا کہ با ہمی مفا د کے پیش نظر ایک قبیلہ اپنی زمین کا تبا دلہ دوسر ے قبیلے کی زمین سے کر لے۔
قبا ئلی بستیوں کی حد بندی آپس کے اتفا ق اور رواجی یکسا نی سے تھی اور جب کو ئی قبیلہ چرا گاہ تلا ش میں نکلتا تھا ۔ تو کسی دوسرے قبیلے دوسرے قبیلے کے لیے جا ئز نہ تھا کہ اس کی جگہ آبا د ہو جا ئے یا اس کے رشتہ داروں اور سا تھیوں سے خو ن خرا بہ کر ے۔لیکن اس قسم کی درازدستیاں عام تھیں اور ان کے قبائل کی باہمی پیکار کوئی انوکھی بات نہ تھی ۔اس لیے ایک بدوی پیدائشی طور پر شمشیر آزما اور قبائل کی زندگی اکثر اوقات مار دھاڑ اور چھینا جھپٹی کی زندگی ہوتی تھی ۔
مگر اسلام کے آجانے کے بعدجب اسلامی انقلاب آیا تو دنیا میں ایک امن و امان کی ایسی صورت پیدا ہوئی کہ ہر طرف پیار و محبت کی فضائ قائم ہو گی ۔ایک دوسرے کے دل میں قربانی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہو گیا ۔جودشمن تھے دوست بن گے ایک دوسرے کی جان کے دشمن ایک دوسرے کی جان کے محافظ بن گے ۔یہ اسلامی انقلاب کے اثرات تھے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker