تازہ ترینحکیم اشرف ثاقبکالم

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

چندے آج تجھے کیا ہو گیا ہے ، آج تمہارے چہرے پر یہ اداسیاں کیوں ہیں اور تمہارا چہرہ پیلا زرد کیوں ہو گیا ہے تمہاری آنکھیں اندر کیوں چلی گئیں تمہارا سفید چہرہ کالا کیوں ہو گیا ، چندے بابو تمہارے سنہری بالوں میں یہ گرد کیوں ہے آج تم مجھے دو ماہ کے بعد مل رہے ہو میرے یار تم کہاں چلے گئے تھے میں روزانہ تمہیں اسی چوک میں ملا کرتا تھا مگر دو ماہ سے تم کہاں غائب ہو گئے تھے تیری جدائی نے ہم کو بہت غمگین اور افسردہ کر دیا تھا ۔
چندے تم رو کویں رہے ہو ، تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیوں اُمڈ آئے ہیں تمہیں کس چیز کا غم ہے تم اتنے اداس کیوں ہو تمہارا رونا میرے کلیجے کو چیرتا ہوا دل کو غم زدہ کر رہا ہے نہ رو میرے چندے ۔۔۔۔۔نہ رو میرے بھائی کیا وجہ کیوں اداس ہو؟
بس شادو مجھ کو وہ غم لگا ہے جو میں بیان کرنے سے قاصر ہوں شادو دنیا میں میرے دو سہارے ایک ’’ماں ‘‘اور ایک تم شادو ۔ میری ماں مر گئی ہے وہ مجھے جدائی کا غم دے گئی اور اتنی دور چلی گئی ہے جہاں سے واپسی نہیں ہوتی ..ماں تم کہاں ہو تمہارا پاگل چندا تمہیں ملنے کیلئے بہت اداس ہے.تیری رفاقت نے مجھے دنیا میں تنہا کر دیا ہے ماں .اب میں کس کے سہارے جیوئوں گا .کبھی محلے کے بچے مجھے تنگ کرتے تھے چندا پاگل .چندا پاگل کہتے تھے اور پیاری ماں مجے وہ رات بھی یاد ہے جب محلے کے بچوں نے مجھے اتنا تنگ کیا کہ میری برداشت سے باہر ہو گیا۔ اور میں نے غصے میں آکر ایک پتھر پھینکا جو ایک بچے کے سر میں لگا اس کا خون بہنے لگا .چندے تو نے اس کو پتھر کیوں مارا. بھائی اللہ نے مجھے پاگل بنایا یہ لوگ مجھے تنگ کیوں کرتے ہیں جبکہ میں کسی کو کچھ نہیں کہتا ، بھائی شادو جب میں نے اس بچے کو پتھر مارا تو اس کے والدین نے مجھے اتنا پیٹا کہ میرا جسم سوج ہو گیا میں روتا ہوا گھر آیا .میری پیاری ماں دوڑ کر میرے پاس آئی اور میری بلائیں لینی لگی اور روتی ہوئی کہہ رہی تھی کہ میرے لال تجھے کس نے مارا ہے میرے جگر یہ ظلم تجھ پر کس نے کیا تو پاگل ہے تو تو درویش ہے پھر یہ ظلم کس نے کیا ، شادو بھائی میری ماں ساری رات مجھے گرم ریت کی ٹکور کرتی رہی .شادو بھائی اللہ نے مجھے پاگل پیدا کیا اس میں میرا کیا قصور ہے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں .اب دنیا میں اللہ کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں .اے ماں تو اپنے پاگل لال کو کس کے سہارے چھوڑ گئی ہے میریگرد آلود بالوں کو تیل کون لگائے گا ۔ میرے سر میں کنگھی کون کرے گا ، میری آنکھوں میں سرمہ کون ڈالے گا ، میرے گندے کپڑے کون دھوئے گا .اے پیاری ماں میں تجھے کہاں تلاش کروں تیری جدائی میں تیرا پاگل بیٹا گھائل ہوتا جا رہا ہے باپ بھی مر گیا ماں بھی چلی گئی اب دنیا میں میرا کوئی سہارا نہیں ۔
کس کس نوں میں دکھ سناواں
کنوں لبھاں کتھے جاواں
ٹرُ جاون جے یارو ماواں
رُٹھیا لگے فیر پر چھاواں
میں پاگل کس پیار پگاواں
اتھرو پوجے درد لکویا
کہہ دساں میں کی کی ہویا
میں تاں جیندے جی مویا
میں جھلا کس بہار پگاواں
تیرے نال سی چانن میرا
ہن اے چار چفیرے اندھیرا
کیوں لااں گھرنوں پھیرا
ماواں والے لہن دعا واں
ماں دے باجھوں میں کرُلاواں
ماواں سجنو ٹھنڈیاں چھاواں
جگ جگ جیون سب دیاں ماواں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker