شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بشرط زندگی ، بشرطِ بجلی

بشرط زندگی ، بشرطِ بجلی

جب کسی آدمی سے کوئی کسی قسم کا واعدہ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے ،،،انشائ اللہ،،، بشرط زندگی۔اب پاکستان کی عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ،،بشرط بجلی،، کہنے پر مجبور ہے ۔پاکستان وہ ملک ہے جس میں وسائل کی کمی نہیں ہے ۔صرف حکمرانوں میں عقل و شعور کی کمی ہے اور خود غرضی کی انتہا ہے ۔ہمارا یہ ملک معدنیات اور دیگر وسائل سے مالا مال ہے ۔ملک کو چلانے والے بجلی کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے ۔جب کوئی دوست نیٹ یا کمپیوٹر سے کوئی پرنٹ وغیرہ لینے کے لیے کہ دے تو بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے ،،بشرط بجلی،،حتیٰ کہ ہر کام کے لیے ایک دوسرے کو کہنا پڑتا ہے ۔بشرط بجلی،کتنے افسوس کی بات ہے ۔ہر ماہ ایک نیا عندیہ دیا جاتا ہے کہ اس ماہ یا اگلے سال لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا ۔لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تو نہیں ہوتا موصوف وزیر کی وزارت کا خاتمہ ضرور ہو جاتا ہے ۔پھر ایک نیا وزیر بھڑکیں مارتا ہوا آتا ہے ۔میں ملک میں بجلی پوری کروں گا ۔میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کروں گا ۔اس کی بھی وزارت کا خاتمہ ہو جاتا ہے لوڈشیڈنگ جوں کی توں رہتی ہے ۔ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کیوں کہ یہ وزیر حضرات یہ الفاظ ساتھ نہیں بولتے ،،بشرطِ بجلی،،اگر یہ الفاظ ادا کر دیں زبانِ وزارت سے تو ہو سکتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے ۔ایک دن ایک کریانہ سٹور کا مالک ایک آدمی سے دوکان کے سوداسلف کے پیسوں جس کو ہم ،کھاتا، بولتے ہیں کا تقاضا کر رہا تھا اور وہ آدمی اس سے کہ رہا تھا کہ بھائی فیکٹری بند ہے جیسے ہی مجھے تنخواہ ملے گی آپ کا کھاتا صاف کر دوں گا بشرطِ بجلی ،،اس کا کیا مطلب ہے کہ فیکٹریاں بند ہیں مزدور غریب پریشان ہیں ان کے چولہے بند بڑے ہوئے ہیں ۔صرف بجلی کی وجہ سے پاکستان کی انڈسٹریز بند ہونے پر جہاں کئی ہزار مزدوروں کے چولہے بند ہو گے وہاں ملکی معشیت بھی خاصی متاثر ہوتی ہے ۔ملکی معشیت کافی انخصار انڈسٹریز پر ہوتا ہے ۔ہم کتنا بڑا خسارہ برداشت کر رہے ہیں ایک بجلی کی وجہ سے مگر اس کا کوئی سدباب آج تک نہ ہو سکا ۔یہ اتنی نایاب چیز تو نہیں ہے کہ ہم اس کا کوئی سدباب نہ کر سکیں ۔ہمسایہ ممالک نے آفر کی ہم نے ٹھکرا دی ۔موجودہ دور میں اس کے بغیر زندگی گزارنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے ۔گھر سے لیکر دوکان یا کوئی بھی چھوٹا بڑا کاروبار بجلی کے بغیر نہیں چل سکتا ہے ۔ہر لحاظ سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے ۔حکومتِ پاکستان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ رمضان المبارک میں بجلی بند نہیں ہو گی خاص کرسحری اور افطاری کے اوقات میں ۔مگر دیکھا کہ یہ قول بھی خالی گیا ۔گرمی کے اس موسم میں عوام کا کیا حال ہے یہ عوام ہی جانتی ہے پرائی درد نوں اوہ ای جاندا اے جیندی اپنی جان تے بنی ہووے جن کی کبھی بند نہیں ہوتی وہ کیا جانے کہ لودشیڈیگ کا عذاب کیا ہے ۔یہ تو ان روازہ داروں یا بچوں کو پتہ ہے جو اس عذاب سے گزر رہے ہیں ۔انڈسٹریز کے علاوہ بجلی کے بغیر زرعی کاروبار بھی بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔ٹیوب ویل اور موٹریں جو بجلی پر چلتی ہیں بند پڑے ہیں فصلیں پانی نہ ملنے کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہیں ۔جانور گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔یہ لوڈ شیڈنگ ہر شعبہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے ۔مقامِ افسوس ہے کہ ہسپتالوں میں کئی بار اخبارات میں پڑھا کہ دورانِ اپریشن بجلی چلی گی ۔جنریٹر نہ ہونے کے باعث موبائل کی روشنی سے اپریشن کیا گیا ۔
گیس پانی بجلی کا نعرہ بھی پورا نہ ہو سکا روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بھی پورا نہ ہو سکا ۔نہ ہی ہماری حکومت یہ ضروریاتِ زندگی عوام کو مہیا کر سکی ۔ایک چیز بڑی جلدی پوری ہو کر لیتے ہیں ،،نئی وزارت،،جو کوئی ملک نہیں کر سکتا وہ ہم کر لیتے ہیں ۔آئے دن ہم وزیر تبدیل کر تے رہتے ہیں اور ساتھ ہی تعداد میں بھی اضافہ ۔ دوسر الفاظ میں وزرائ کا عوام کو تحفہ ملتا ہے اس پیغام کے ساتھ کہ اب عوام نے اس وزیر کو بھی پالنا ہے ۔اس

یہ بھی پڑھیں  ڈنگہ :آندھی اور زبردست طوفان بادباں کے ساتھ موسلا دھار بارش،موسم خوشگوار ہو گیا