حکیم اشرف ثاقبکالم

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

فرخ پور قصبہ قادر آباد تحصیل پھالیہ سے جنوب کی جانب ایک چھوٹا سا گائوں ہے ۔قادر آباد میرے رشتہ دار رہتے ہیں ۔مجھے فرخ پور میں کسی آدمی سے ملنا تھا۔اپنے بھانجے کو حالات بتائے اور اپنے کام کی نوعیت سے آگاہ کیا۔ناصر بھانجے نے کہا کہ ماموں وہ تو ہمارے علاقہ کے بہت جانی پہچانی شخصیت ہیں،بہت اچھے آدمی ہیںناصر نے مجھے ایک ہی سانس میں اس شخصیت کے بارے میں کافی کچھ بتادیا۔میں سوچوں کے سمندر میں غرق ہو گیا۔اور سوچنے لگا کہ اتنا بڑا بیوروکریٹ ایسا نہیں ہوسکتا پاکستان میں یہ اس ملک کو ڈوبنے اور اس کی معشیت اور میرے پیارے ملک پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلاکرنے والے پاکستان سیاستدان اور بیوروکریٹ ہیں۔آج آپ پیارے وطن کے تمام اداروں میں نظر دوڑائیں آپ کو کسی بھی سوراخ سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آئے گا۔ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے ۔رشوت جیسی لعنت کو ایسا سمجھ لیا گیا ہے جیسے یہ ہمارا حق ہے۔وزیر اعظم سے لیکر چپڑاسی تک اس لعنت میں مبتلا ہے یعنی آپ جس ادارے میں بھی جائیں گے آپ کو رشوت اور سفارش کا سہارا لینے پڑے گاورنہ آپ کا جائز کام بھی نہیں ہو گا۔ہم لوگ بڑوں میں بیٹھ کر ایک کہاوت سنتے تھے کہ بڑے آدمی بڑی سوچ کے مالک ہوتے ہیں مگر مجھے اس کہاوت کی سمجھ نہیں آئی یا میرے ذہین کی اپروچ اتنی ہے کہ میں بات نہیں سمجھ سکا، بڑے لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو بڑی بات سوچتے ہیں۔بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں ،بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو آپ جاگتے ہیں اور دوسروں کو آرام پہنچاتے ہیں ،بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو قوم و ملک کی خیرو خواہی کے بارے میں سوچتے ہیں،بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو خود ساقی ہوتے ہیں اور آپ پیاسے رہتے ہیں ،مگر دوسروں کے لبوں کو تر رکھتے ہیں۔بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو خود تو دھوپ میں جلتے ہیں مگر دوسروں کو سایہ مہیا کرتے ہیں،بڑے تو وہ ہوتے ہیں جو دنیا میں دوسروں کیلئے جیتے اور مرتے ہیں مگر قارئین محترم میں جب اپنے اِدھر اُدھر دیکھتا ہوں ،عمیق نظروں سے جائزہ لیتا ہوں تو میں مایوسی اور طرب وکرب کی حالت میں ڈوب جاتا ہوں ،معاشرے کے اندر روزانہ اندوناک واقعات ظلم و ستم ،مہنگائی کی وجہ سے غریب لوگ اپنے لخت جگر سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔امیر سے امیر تر ہونے کی تگ ودو میں لگا ہواہے ہر طرف مایوسی و ناامیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں ،معاشرے میں اجتماعیت ختم ہو گئی ہے ہر آدمی انفرادیت کی گندی سوچ میں مبتلا ہو گیا ہے،خلوص کی جگہ منافقت نے لے لی ہے ،بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ،ماں بیٹی سے تنگ نظر آتی ،بیٹا باپ سے نالاں ہے مگر نہیں نہیں ۔۔۔۔اس معاشرے میںابھی کچھ ایسے انسان بھی رہتے ہیں جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں ان کی شب و روز ،شام وسحر ابھی دوسروں کیلئے وقف ہیں میں جب قادر آباد سے جنوب کی جانب زگ زا۔۔۔۔۔ بل کھاتی ہوئی پختہ سڑک سے موٹر سائیکل جو میرا بھانجا ناصر ڈرائیو کر رہا تھا ،قادر آباد سے9کلومیٹر فرخ پور کے درمیان دو اور چھوٹے چھوٹے گائوں آتے ہیں۔آخر آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ایک بڑے گجراتی زبان میں بیٹھک کو دارا بولتے ہیں ،وہاںلوگوں کا ایک جم غفیر تھا۔ناصر نے موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی سامنے صوفے پر گہرے ڈراک یلو رنگ میں ملبوس ایک وجہی شکل کی شخصیت لوگوں سے محو گفتگو تھی جب ہم آگے بڑے ناصر بھانجے کو دیکھا دور ہی سے بڑے پرتپاک پرخلوص اور ملسازی کے تمام آداب و احترام رکھتے ہوئے اٹھ کر ہمیں ملا اور کرسیوں پر بیٹھنے کیلئے کہا،میں نے تمام طرف نظر دوڑائی،وہاں پر بیٹھی شخصیات اور انکی چال ڈھال سے اندازہ لگایا کہ یہ سرمایہ دار،جاگیردار اور بیوروکریٹ بیٹھے تھے۔نوکر آیا اورپانی کا گلاس پیش کیا اور دوسرے لمحے میں مہمانوںکوچائے پیش کر رہا تھا۔وہ وجہی شکل اور خوبصورت مسکراہٹ کے مالک خلوص کے پیکر والی شخصیت جس کا نام معلوم ہونے پر ناصر بھانجے نے بتایا یہی محمد خان بھٹی صاحب ہیں ابھی وہ مجھے مزید محمد خان بھٹی کی شخصیت کے بارے میں کچھ اور بتاتا ،اچانک محمد خان بھٹی اپنی نشست سے اٹھا اور پیچھے کی طرف تیز قدموں سے بڑھا ،میری نظریں بھی محمد خان بھٹی کا پیچھا کرتی ہوئی اس کے پیچھے دوڑیں میں نے گردن گھومائی اور دیکھا کہ محمد خان بھٹی صاحب ایک عمررسیدہ آدمی جو وہیل چیئر پر بیٹھا تھا بڑے مودبانہ انداز میں اس کی بات سن رہا تھا ،ظاہرتو وہ معزز آدمی کسی غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا مگر محمد خان بھٹی صاحب نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی وہیل کرسی پر رکھے ہوئے تھے اور بڑے مودبانہ اندارز میں اس کی بات سن رہا تھا ،میں سوچوں کی وادی میں چلا گیا کہ وہ کون شخص ہے جس کی بات یہ اتنے بڑے لیول کا آدمی اپنی پوری توجہ اور انہما ک سے سن رہا ہے یہ کوئی اس سے بڑے آدمی ہے۔
مگر معلوم ہونے پر پتہ چلا کہ یہ وہیل چیئر پر بیٹھا معذور آدمی محمد خان بھٹی صاحب کا پرائمری سکول کے ٹیچر ہیں اب ٹانگوں کے عارضہ میں مبتلا ہیں چل پھر نہیں سکتے اسی وہیل جب کسی کام سے باہر جاتا ہو تو اس کا بیٹا اس کے ساتھ اس سہارا بنتا،میں یہ چیز دیکھ کر بہت حیران ہوا یہ باتیں وہی گریڈ کا آفیسر اپنے پرائمری کے استاد سے کیسے مل رہا ہے ،کتنے خلوص اور کسی ادب و احترام کے ساتھ یہ اپنے ٹیچر سے محو گفتگو تھا،ایسا لگتا تھا کہ محمد خان بھٹی کی کامیابی میں اس معذور ریٹائرڈ ٹیچر کا ہاتھ ہے۔قارئین محترم جو انسان اپنے محسنوں ،اپنے استاتذہ،اپنے احسان کرنے والوں اور اپنے والدین اور قوم کا درد رکھنے والوں کا درد رکھتا ہو احترام آدمیت کا جذبہ اس کے اندر موجزن ہو ،تو پھر وہ محمد خان بھٹی ایڈیشنل سیکرٹری پنجاب بنتے ہیں،قارئین اگر میرے ملک کے تمام سیکرٹیریز محمد خان بھٹی جسیے بن جائیںتو میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ میرا پاکستان جلد ہی کامیابی پر راہ گامزن ہوجائے گا،اگر تمام بیوروکریٹس اور سیاستدان محمد خان بھٹی جیسی سوچ پیدا کر لیں تو میرا ملک بہت جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔﴿پی ایل آئی

یہ بھی پڑھیں  پنجاب حکومت: بجلی کے بلوں کی مد میں ساڑھے تین ارب جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker