تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

یورپ کوچوہدری بنایا مسلمانوں نے!

آج مسلمانوں پر اپنی چودراہٹ جمانے والا والا یورپی ٹولہ اس بات کو بھول گیا کہ اس کی موجودہ ترقی میں سب سے زیادہ کردار کس کا ہے ؟اس کو چوہدری بنایا کس نے ؟آج کس کے بل بوتے پر یہ مسلمانوں کو آنکھیں دکھاتا ہے؟موجودہ یورپی ترقی میں سب سے زیادہ کردار مسلمانوں کا ہے ۔اور یہ ٹولہ ہی مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن بن بیٹھا ہے ۔اس کی مثال تو وہ ہی ہے ،، جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کر دیا ،،احسان فراموش بھی کہا جا سکتا ہے ۔گلہ گھونٹا تو آنکھیں نکالنے لگا ۔آج یہ اس قابل ہوا تو مسلمانوں کی بدولت اسلام کی بدولت ورنہ بقول غالب۔ بنا ہے شاہ کا مصائب کہ پھرے ہے اتراتا ۔۔۔ورنہ اس شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
مسلمان بیسویں صدی تک دنیا میں سپر پاور کی حیثیت سے زندہ رہے جبکہ یورپ کی ترقی اٹھارویں صدی میں سامنے آئی۔ کیا یہ یکدم ہو گیا ؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں کبھی خلا نہیں ہوتا ۔یونانی علوم کے وارث مسلمان تھے ۔اور اٹھارویں صدی تک دنیا کی سب سے مضبوط طاقت تھے ۔اپنی غلطیوں اور کچھ کوہتائیوں غلظ پالیسیوں کی وجہ سے زوال پذیر ہوئے لیکن اپنے دور عروج میں انہوں نے علم کی بہت خدمت کی ۔مو جو دہ یو رپ کی تر قی میں مسلمانوں نے جو کر دار ادا کیا وہ یہ ہیں۔ اند لس میں مسلما نوں نے 716ء سے 1496ء تک حکو مت کی یہا ں بہت علمی کا م ہو ا اس سے عیسا ئیوں نے بھی فا ئدہ ا ٹھا یا جیسے گر بر ٹ جو بعد میں پو پ سلو ستر ثا نی بنا قر طبہ سے فا ر غ التحصیل تھا یہ مسلما نو ں ہی کی ایک عظیم درسگا ہ تھی جس سے یہ فیض یا ب ہو ئے۔ مسلمانوں کی مختلف علوم میں کتابوں کا لا طینی زبا ن میں تر جمہ کیا گیا ۔جیسے ابن سینا کی کتا بیں ،القا نون، اور، الشفا، صد یو ں تک یور پ کی یو نیو ر سٹیوں میں پڑھا ئی جا تی رہیں۔ اسکے علا وہ ابو القا سم زہر اوی کی تصنیف ،کتا ب التصر یف ،کا بھی لا طینی زبا ن میں تر جمہ کیا گیا ۔اس کے علا وہ بہت سی کتا بیں تھیں جو تراجم کئے۔اور ان کتا بوں کے مصنف مسلما ن ہی تھے جن سے آج اہلِ یو رپ میڈیکل کے شعبے میں تر قی یا فتہ ہیں اور نت نئی ریسر چ جو آ رہی ہیں وہ بھی انہی کی بد دو لت ہیں۔ جز ا ئر صقلی کے عیسا ئی با دشا ہو ں نے مسلما نوں کو ملا زم رکھا ا ور اس سے بہت سے لو گو ں نے استفا دہ حا صل کیا اور خا ص کریو رپ وا لوں نے سب سے زیا دہ اہلِ یو رپ نے استفا دہ کیا ۔ بہت سی ایجا دات جو مسلما نوں نے کی تھیں عیسا ئیوں نے ان پر کا م کیا اور انہی ایجا دات کی بنیا د پر انہوں نے اپنی بنیا دیں استوار کیں اورآج دنیا میں تر قی یا فتہ بنے بیٹھے ہیں وہ بھی مسلما نوں کی بنیا وں پر ۔اس سے بھی انہیں علمی فا ئد ہ ہو ا۔ بعض عیسا ئی علما ء شام ، عر اق سے تعلیم پاکر یو رپ گئے اور انہوں نے و ہاں علم کی شمع کو رو شن کیا مگر شام اور عر اق کی جن درسگاہوں سے انہوں نے علوم سیکھئے وہ درسگا ہیں مسلما نوں کی تھی اوردرس دینے والے استا تذبھی مسلما ن تھے ۔ مسلما نو ں کی رو شن کی ہو ئی شمع کی روشنی وہ یو رپ لے کر گئے۔البر ٹس،را جر بیکن،رابرٹسگر و سٹسٹے جو تیر ھویں صدی میں سا ئنس کے اما م تھے یو نا نی زبان سے نا وا قف تھے لا محا لہ انہوں نے عر بی ما خذوں سے فا ئد ہ اٹھا یا۔
را بر ٹ بر یفا لٹ،ڈاکٹر گستا ولی بان اور جا رج سار ٹن نے یو رپ پر مسلما نو ں کے احسانا ت کو تسلیم کیا ہے مسلما نوں ک بے تعصبی نے مسلمان مما لک کے رہنے والے عیسا ئیوں کو حصولِ علم پر آ ما دہ کیا جس سے یو ر پ کو فائدہ پہنچا اوسلرکہتے ہیں اپنی کتا ب ہسٹری آف عر ب کے صحفہ 368 میں لکھتے ہیں ،،القا نو ن طو یل عر صے تک یو ر پ میں علمی کا موں کی نسبت میڈیکل با ئیبل بنی ر ہی۔
پنجابی میں ایک کہاوت ہے ،،ساڈیاں جتیاں ساڈا سر،، مسلمانوں سے ہی سب کچھ سیکھ کر ۔مسلمانوں سے کچھ لے کر ۔آج وہ سپر پاور بن بیٹھے ہیں اور مسلمانوں پر اپنی چودراہٹ جما رہا ہے ۔
مسلمانوں نے علمی طور پر جو کام کیے اگرچہ مغربی دنیا نے ان کی عظمت کو تسلیم کرنے میں تعصب سے کام لیا لیکن بہت سے ایسے انصاف پسند لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے کھلے دل سے مسلمانوں کی تعریف کی ہے۔رابرٹ بریفالٹ لکھتے ہیں ،یورپ کی ترقی کا کوئی شعبہ اور کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلامی تمدن کا دخل نہ ہو اور اس کی نمایاں یاد گاریں نہ ہوں جنہوں نے زندگی پر بڑا اثر ڈالا ہے ۔جارج سارٹن لکھتا ہے ،آٹھویں صدی کے نصف آخر سے گیارھویں صدی کے اختتام تک عربی ہی بنی نوع آدم کی سائنسی اور ترقی پسندانہ زبان عربی ہی تھی۔ولیم ڈریپیر لکھتا ہے ۔جب عیسائیوں کا عروج زوال پذیر ہوا تو اسلامی دنیا میں علوم کی نشوونما اپنے عروج پر تھی آٹھویں صدی کے آخری پچاس سالوں میں علمی میدان میں برتری یورپ کی بجائے یقیناًمشرق قریب کو حاصل ہو چکی تھی ۔
ڈاکٹر گستاولی بان مغرب پر مسلمانوں کے اثرات کے بارے میں رقمطراز ہے ،،اگر ہم یورپ کی نویں اور دسویں صدی کی حالت جس وقت مسلمانوں کا تمدن اندلس میں اعلیٰ درجہ کی ترقی پر تھا دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہمارے علمی مرکز وہ بڑے بڑے بے ڈھنگے قید خانے تھے۔جہاں امراء اپنی نیم وحشی حالت میں رہتے تھے اور اس بات پر فخر کرتے تھے کہانہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا سب سے زیادہ با علم اور بیچارے جاہل راہب تھے جو اپنے وقت کو خانقاہوں کے کتب خانوں سے یونان و روم کی پرانی تصانیف کو نکال کر ان کو ان کو چھیلنے میں اور چرمی ورقوں پر مہمل تصانیف لکھنے میں صرف کرتے تھے
لیکن کوئی عہد اس قدر نمایاں طور سے عیسائی دنیا پر مسلم اقوام کی بہت بڑی عکاسی نہیں کرتا جس قدر دسویں صدی کا زمانہ جس میں اسلام خوشحالی کے عروج پر تھا اور عیسائی یورپ بظاہر ایک مایوس کن جمود تک پہنچ گیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو: جماعت اسلامی ضلع قصور کی عید ملن پارٹی 2 نومبر کو ہوگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker