حکیم کرامت علیکالم

امریکی بوکھلاہٹ

آج کے کفر کے اماموں نے حافظ سعید کے سر کی قیمت 10لاکھ ڈالر مقرر کی جو ان کے لیے ایک پر کشش رقم ہے ۔مگر اہل ایمان کے لیے ایسی رقم کی کوئی قیمت نہیں ۔ اب امریکہ نے پینترا بدل لیا ہے ۔ اور اعلان کیا کہ ہم نے یہ رقم حافظ سعید کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کے لیے مقر ر کی ہے۔ امریکہ کایہ انداز مجنونانہ ثابت کرتا ہے
کہ وہ اہل ایمان کی اتحادی کاوشوں سے بھی بوکھلا گیا ہے۔ حافظ سعید کی پہنچ کے مطعلق پورا پاکستان جانتا ہے وہ کسی غار میں نہیں چھپے ہوئے بلکہ دن رات فلاحی کاموں  میں مگن نظر آتے ہیں ۔ کسی بھی ملک یا حکومت کے لیے فلاحی و رفاعی اداروں کی حثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے ۔ امریکہ کو حافظ سعید کے خلاف کیسے ثبوت چاہیں  پاکستان میں پرائمری سکول سے لیکر ٹیکانالوجی تک کے ادارے مفت تعلیم مہیا کر رہے ہیں کیا اس کے خلاف ثبوت چاہیے۔ دکھی ،پریشان ،مصیبت زدہ انسانوں کی خدمت فلاح انسانیت تنظیم کر رہی ہے اس کے خلاف ثبوت چاہیے۔ پاکستان میں بے شمار لیب چھوٹے بڑے ہسپتال جو ایف ۔آئی ایف کے زیر تحت لوگوں کی خدمت پر معمور ہیں ان کے خلاف ثبوت چاہیے پیاسے لوگوں کے لیے صحرائی علاقوں میں کنویں بنوا کر انسانیت کی خدمت کی کیا ان کے خلاف ثبوت چاہیے ۔ ۵۰۰۲÷میں آنے کے قیامت خیز زلزلے میں جو خدمات انجام دی گئی ان کا اعتراف خود امریکہ نے کیا تھا کیا ان کے خلاف ثبوت چاہیے۔ عقل کے اندھو اس آدمی کے خلاف ثبوت تلاش کر رہے ہو جو دن رات سیٹلائٹ پر تم کو نظر آ رہا ہے ۔جو دن رات اصلاح معاشرہ کے لیے تگ و دو کر رہا ہے دفاعی کانفرنسیں جو مسالک پرستی سے مبرا ہو تیں ہیں  پہلے سر کی قیمت مقرر کی اب ثبوت کے بہانہ کر کے پینترا بدلا جارہا ہے مگر اہل ایمان یہ ہونے نہیں دیں گے ان کے خدمات صرف کسی مسلک کے لیے مخصوص نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ہوتیں ہیں اور اس میں شریک صرف ایک حافظ سعید نہیں ہزاروں لوگ شامل ہیں ۔
امریکہ جو بڑئے بڑئے دعوئے کرتا ہے محافظ انسانیت کے کتنی مضحکہ خیز بات ہے ان کے اپنے بچے پیدا ہوتے ہی ہیلتھ کیئر سنٹروں کی نظر کر دیے جاتے ہیں ۔جب ان کے بڑے بوڑھے ہو جاتے ہیں تو وہ بھی
ایسے اداروں میں دھکیل دیے جاتے ہیں ۔اور کتوں کو گھر میں پالا جاتا ہے ۔ کتوں کو گود میں کھلایا جاتا ہے ۔
ریمڈڈیوس پاکستان میں کھلی دہشت گردی کی وار دات کر گیا ۔مگر کسی نے نوٹس نہیں لیا بر سرِ بازار بے گناہوں کی جان لے لی ۔ایمل کانسی کو تحتہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔کیا یہ کھلی دہشت گردی نہیں۔افغانستان میں ہزاروں گھر اجاڑ دیے۔لاکھوں بچوں کو یتیم کر دیا ۔ماوں کی گودیں خالی کر دیں ۔کسی نے نہیں پو چھا ۔یہ ہمارے حکمرانوں ایوانِ اقتدار میں بیٹھے وڈیروں کی بے ہسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان کی پاک آرمی کے جانبازوں کی شہادت ان کے بہتے خون کی دھاریں ابھی ہمیں بھولیں نہیں ۔شاید ہم بھلا بھی نہیں سکتے کہ پھر ایک اور دھمکی ۔یہ درندے پوری دنیاکو اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر بھی مہذب ہیں ۔ایسے وقت میں اگر کسی مرد مجاہد نے یہ اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھایا تو ان کو مرچیں لگ گئی ۔کیا ہم کو حق حاصل نہیں کہ ہم بھی اپنے دفاع کے لیے اپنی عوام میں جلسوں سیمنار کا انعقاد کر کے شعور پیدا کریں ؟حیرت کی بات ہے کہ اس بات پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔کیا امریکہ کے پاس انسانی جانوں سے کھیلنے کا کوئی سرٹیفکیٹ ہے ۔ پابندی تو ان کی درندگی پر لگنی چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈرون جنگ کی کہانی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker