انور عباس انورتازہ ترینکالم

حکیم اللہ مسعود سے اتنی ہمدردی کیوں ؟

anwar abasمجھے سید منور حسن سے کوئی گلہ نہیں بیشک ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل کو شہید کہتے رہیں۔۔۔ اور نہ ہی مجھے مولانا فضل الر رحمان سے شکایت ہے۔کہ انہوں نے حکیم اللہ مسعود کو شہید کیوں کہا ہے۔کیونکہ جو شخص اچند روزہ دنیا کے حصول کے لیے کوڑیوں کے بھاو بکتا رہے ۔ایسے ضمیر فروش سے کسی اچھائی کی امید رکھنا ہی بے سود ہے ۔ مجھے تو کم ازکم مولانا صاحب ۔۔۔وہ بھی ایسے مولانا جن کو عوام الناس مولانا ڈیزل کے نام سے یاد کرتی ہے۔۔۔مولانا ڈیزل کہتا رہے کہ وہ امریکی حملے میں مارنے والے ’’ کتے ‘‘ کو بھی شہید کہوں گا کیونکہ اسکے کہنے سے کسی کو شہید کا درجہ ملے گا نہیں
معروف کالم نگار اور سابق ایم این اے ایاز امیر حیران ہے کہ ’’ حکومت نے حکیم اللہ مسعود کی ہلاکت پر دس روزہ سوگ منانے کا اعلان کیوں نہیں ‘‘ انکی حیرانی کا سبب وزیر داخلہ اور دیگر حکومتی زعما ء اور مذہبی سیاستدانوں کے کے وہ بیانات بنے ہیں ،جن میں انہوں نے ہزاروں بے گناہ اور معصوم افراد کے قتل میں ملوث دہشت گرد حکیم اللہ مسعود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کو شہید قرار دیا جا رہا ہے۔ایاز امیر کو دکھ اس بات کا ہے کہ ہزاروں بے گناہ افراد کے قاتل کو ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے ’’ حکیم اللہ مسعود کوئی فرشتہ ‘‘تھا
ہمارا یہ دہرا معیار کہ ظالم اور مظلوم کو ایکساتھ لیکر چلنا ،ہمارے ہاں یہی المیہ یہاں امن و امان قائم ہونے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔پاکستان میں ہم امن بھی چاہتے ہیں اور آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والوں ۔۔۔پاکستان کے عوام اور محافظوں(افواج پاکستان کے جنرلوں )کو ایسے قتل کرنے پر فخر کرنے والوں سے گھٹنوں کے بل چل کر مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں۔ایک ایسے شخض کی ہلاکت پر جس کے ہاتھ ہزاروں افراد کے نا حق خون سے رنگین ہو ں اسے ہم شہید کے منصب پر فائز کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔۔ میرا ایسے تمام افراد سے سوال ہے ۔جو حکیم اللہ مسعود کو شہید قرار دے رہے ہیں۔ان میں فضل الر رحمان ہو یا سید منور حسن ہو یا پھر کوئی سابقہ جہادی جنرل ۔۔۔مجھے اور پاکستان کے عوام کو بتائیں کہ اگر بیت اللہ مسعود ،ولی الر رحمان اور حکیم اللہ مسعود شہید ہیں ۔تو پھر جو جرنیل،سپاہی،پولیس اہلکار اور عوام طالبان کی دہشت گردی کی وارداتوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،انہیں کیا کہیں گے شہید یا کافر؟
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے میری بات سے اتفاق کیا ہے ۔اس لیے میں انکا ممنون اور مشکور ہوں۔آج سے کچھ عرصہ قبل جب افواج پاکستان نے اپریشن نجات کا آغاز کیا تھا ،تو میں نے لکھا تھا کہ پاک افواج کا یہ اپریشن نجات یا راہ راست اس اپریشن کا تسلسل ہے ۔جو آج سے چودہ سو سال قبل امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب نے مدینہ اور شام کے باغیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے شروع کیا تھا۔میرے نکتہ نظر کے مطابق طالبان انہیں کی روحانی اولاد ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے جو بھی سامنے آیا اسے حرف غلط کی طرح مٹانے کی کوشش کی ۔۔۔اور اپنے اس مقصد کے لیے انہیں جو بھی حربہ استعما ل کرنا پڑا وہ کیا۔
ہم اس بات پر طالبان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر امن کی بات کریں گے اور مان جائیں گے؟ بالکل ایسا نہیں ہوگا اسکی وجہ یہ ہے کہ طالبان کے ہیروز نے تو خانہ کعبہ پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کیا تھا۔اور نہ ہی مسجد نبوی میں گھوڑے اور خچر باندھنے کے وقت مسجد اور وہ بھی مسجد نبوی کی حرمت انہیں ان کے ناپاک ارادوں سے باز رکھ سکی، معلوم نہیں میاں نواز شریف اور انکی حکومت نے دہشت گردوں کو شہید تسلیم کرکے کیا حاصل کرنا ہے ؟
مسلم لیگ نواز کی قیادت اپنے اتحادی محمود خان اچکزئی کی بات پر دھیان دیں اور اس کو غور سے دماغ میں بٹھائیں کہ وہ کیا کہ رہے ہیں؟ انکا کہنا ہے کہ ’’ اتنے افراد ڈرون حملوں میں نہیں مرے جتنے پاک فوج کی گولیوں سے مرے ہیں۔‘‘ میاں نواز شریف کو اپنے اتحادی کی پیش کش فورا مان لینی چاہئے اور اقتدار ان کے حوالے کر دیا جائے۔اور انہیں انکی مطلوبہ ٹیم بھی فراہم کردی جائے جس میں سیاستدان اور اسٹبلشمنٹ کے لوگ شامل ہیں۔ اہمیں اور کیا چاہئے کہ محمود اچکزئی محض پندرہ رکنی ٹیم کے ساتھ 23مارچ تک ملک مین امن و امان قائم کر کے دے دیں گے۔
ٰٓٓایازچودہری کہتا ہے کہ ’’ اگر جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کا اپنا بیٹا دہماکے میں جاں بحق ہوا ہوتا ۔۔۔۔اگر انکا بیٹا مجاہدین کے ہاتھوں ذبح ہوا ہوتا ۔۔۔یا اسکا کوئی عزیز کروڑوں روپے تاوان کے لیے اغوا ہوا ہوتا ۔۔۔تو کیا تب بھی سید منور حسن حکیم اللہ محسود کو شہید کہتے؟
اگر ہم پاکستان سے مخلص ہیں اور اسے دل و جان سے قائم دیکھنا ا چاہتے ہیں ۔اور اسے دنیا کے نقشہ پر یوں کا توں دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔تو ہمیں گومگوں کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔اور دوٹوک فیصلہ لینا ہوگا۔
ہمیں پاکستان اور اسکے دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز کرنا ہوگا۔پاکستان کے لیے جانیں دینے والوں کو شہید کہنا ہوگا ۔ اور انکی جانیں لینے والوں کو ’’کتے کی موت مر گے مردود‘‘ لکھنا اور کہنا ہوگا۔پاک فوج کو اپریشن راہ راست اور اپریشن نجات ایکبار پھر پوری قوت سے شروع کرنا چاہئے۔اور منتخب حکومت ،اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر وطن دشمنوں کے ساتھ لڑنا ہوگا۔اور باقی ان وطن دشمنوں کے حامی مٹھی بھر شرپسندوں کی گردن قابو کرنی ہوگی۔
امریکہ کو گڈ بائی کہنا ہوگا کیونکہ امریکہ کے ہوتے ہوئے ہم پاکستان کو نہیں بچا پائیں گے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک امریکہ کی دوستی سے ہمیں کیا حاصل ہوا ہے۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا تحفہ ؟ کشمیر پر ہمورے موقف کی مخالفت اور بھارت کی مداح سرائی ؟ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ پچھلی حکومت نے امریکی سفارت خانے میں توسیع کی جو اجازت دی تھی اسے واپس لیا جائے اور تمام ہزاروں جاسوسوں کو بھی ملک بدر کیا جائے۔اس سے قبل امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا جائے اور اسے بیٹھنے کے لیے کرسی نہ پیش کی جائے بلکہ اسے کھڑے کھڑے ملک بدری کے احکامات اس کے ہاتھ میں تھما دئیے جائیں کیونکہ یہ پاکستان کی سالمیت کے لیے بہت ضروری ہے
اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہمیں یہ خیال دل سے نکال دینا ہوگا کہ ہم پاکستان کو دنیا کے نقشہ پر قائم رکھ سکیں گے اور اندرونی دشمنوں،مذہب کے ٹھیکیداروں کو لگام نہ ڈال سکیں گے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button