حکیم کرامت علیکالم

1947 اور تہذیب نو

میاں بشیر جس کی عمر ۵۷ کے لگ بھگ ہے ۔بالوں میں مکمل سفیدی آ چکی ہے ۔چہرے پر جھریوں نے بسیرا کر لیا ہے۔جسم نخیف و کمزور ہو چکا ہے دیکھنے سے لگتا ہے کہ ۔بابا اب چند دن کا مہمان ہے ۔چراغ زندگی گل ہونے ہی والا ہے۔مگر اہل بصارت اس کی آنکھوں میں ایک امید کی کرن صاف دیکھ سکتا ہے۔اس کے اندر کسی چھپے جذبے کی عکاسی اس کے چہرے کی جھریاں کر رہی ہیں۔یہ کیسی آنکھوں میں کیسی امید اور کیسا جذبہ ہے۔اچانک میاں جی اٹھتے ہیں ۔اور با آواز بلند ایک نعرہ بلند کرتے ہیں ،پاکستان بن گیا ہے، میرے جوان بیٹے کا خون بیکار نہیں گیا ۔ایسی ہزاروں داستانیں اس ارض ِ پاک کی تاریخ میں چھپی ہیں ۔ماوں نے اپنے جگر گوشے حصولِ ارض پاک کے کیے قربان کر دیے۔بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں ۔لوگوں نے گھر بار چھوڑ دیے۔کیوں ؟ کیوں کہ انہوں نے 1930 ÷ کے خطبہ الہ آباد کو اپنے دل و دماغ میں بٹھا لیا تھا ۔اقبال کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا مکمل ارادہ کر لیا ۔آخر کار وہ خوب 14 اگست 1947 کو پورا ہو گیا ۔یہ سب کچھ کیا کیوں گیا ؟ اتنی قربانیاں کس لیے دی گئیں؟پاکستان بنانے کا مقصد بھی اسی وقت بتلا دیا گیا تھا۔اور وہ مقصد تھا ایک الگ اسلامی ریاست کا قیام جس میں ہم اپنی اسلامی تہذیب کا بھر پور پرچار کر سکیں ۔اور اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔
کیا آج کی نسل ان قربانیوں کی کتنی قدر کر رہے ہیں ؟کیا انکو یاد رکھا ہوا ہے ؟قربانیاں اور لہو تو رہا ایک طرف ہم تو اپنا مقصد و مفہوم ہی بھول گے۔کہ اس ملک ِپاک کو ہم نے حاصل کیا تھا ۔اسلام کے نام پراسلام کے پرچار کے لیے ۔اسلامی قوانین و تہذیب اپنانے کے لیے۔مگر افسوس کہ آج کی اس نوجوان نسل کو خاص کر شاید اپنی تہذیب و تمدن پسند نہیں آئی ۔اس لیے مغربی تہذیب کے دلدادہ ہو گئے۔سر سے پاوں تک مکمل مغربی لبادہ اوڑھ لیا ۔آج ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا چلنا پھرنا کسی سے ملنے کے لیے بھی سلام کی بجائے مغربی انداز اپنایا جاتا ہے۔اگر ایسا ہی کرنا تھا تو کیوں آخر کیوں اتنی قربانیاں دی کیوں اپنوں کا لہو بہایا۔کیا آج ان روحیں تڑپتی نہ ہوں ہوں گی۔14 اگست کا وہ دن جس دن وطنِ پاک بنا ہر کسی کسی نے اپنا دکھ بھلا دیا اس خوشی میں کہ جس مقصد کے حصول کے لیے ہم نے جد و جہد کی تھی اس کا ثمر آج اس اسلامی ریاست کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ۔آج ہم نے اپنی منزل پا لی ۔اب ہماری آنے والی نسلیں اس کو مزید مذہبی معاشرتی معاشی ترقی دیں گئی مگر افسوس کہ آج کی نسلِ نو نے کیا کیا ۔سب کچھ بھلا دیا ہم نے اپنی سرحدوں پر پہریدار مقرر کیے ایٹم بم بنائے شاہین اور غوری میزائل بنائے ملکی دفاع کے لیے مگر ۔اپنی دماغ کی سرحدوں پر کسی قسم کا قفل نہ لگا سکے اور بلا جھجک مغربی تقلید میں ڈوبتے چلے گئے۔شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ ۔اللہ پاک کی طرف سے کبھی زلزلے کبھی برف کے تودے گر رہے ہیں کبھی فضائ میں جہاز گرنے کی صورت میں عذاب الہیٰ نازل ہو رہا ہے ۔اللہ ان آفات سے محفوظ فرمائے آمین
مسلم لیگ کے جتنے بھی جلسے ہوئے ان میں ہمارے اکابرین نے کیا نصیحتیں کیں ۔کچھ یاد نہیں ہمارئے قائد نے کبھی طلبائ سے خطاب کیا کبھی مسلم لیگی عہدیدران کبھی خواتین سے ہر خطاب میں انہوں نے علم تنظیم عمل اعلیٰ کردار اور اپنے اصل مقصد و نہج کے بارے میں ہی تاکید کی ۔مگر آج ہم دیکھتے ہیں 14 اگست والے دن پاکستان کے نو جوانوں نے گھر بازار پاکستانی جھنڈوں سے سجائی ہوئی ہیں حتیٰ کی اب تو اپنے چہرے پر بھی پاکستان کا پرچم بنانے لگے ہیں ۔یہ اپنے وطن سے محبت کا اظہار ہے جو کہ ہونا بھی چاہیے۔مگر حیرت اس وقت ہوتی ہے جب دن تو منایا جا رہا ہے آزادی پاکستان کا مگر گیت سنے جا رہے ہیں انڈیا کے جس لباس پر بیج لگا ہے پاکستان کا وہ لباس عکاس ہے مغربی تہذیب کا محب وطن نوجوان کے مکمل حلیے پر نگاہ دوڑائی تو ہر اعضائ کی بناوٹ مغربی ۔کیا صرف پاکستان کے جھنڈے لگا لینا کافی ہے ؟
قائداعظم نئی نسل کی افادیت سے آگاہ تھے ۔وہ انہیں پاکستان کے مستقبل کا معمار قرار دیتے رہے۔نوجوان مسلم طلبائ نے اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہا اور گائوں شہر شہر اور قریہ قریہ پھیل گئے ۔ جب پاکستان بن گیا تو طلبائ تعلیم کو نصیحت کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا کہ اب طلبائ تعلیم پر اپنی ساری توجہ مر کوز کر دیں ۔ 27 نومبر 1947ئ کو آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اگر ہم فوری اور نتیجہ خیز ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیمی شعبے پر پوری توجہ مرکوز کرنا ہو گی ۔
قائد اعظم نے طلبائ پر اپنے گہرے اعتماد کا اظہار کیا اور ہمیشہ انہیں قوم کا قیمتی ترین سرمایہ کہتے رہے۔ایک دفعہ طلبائ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔پاکستان کو اپنے طلبائ پر فخر ہے جو ہمیشہ اگلی صفوں میں رہے اور قوم کی توقعات پر پورے اترے ۔طلبائ ہمارا مستقبل ہیں ۔ وہ مستقبل کے معمار ہیں ۔ ان سے قوم نظم و ضبط چاہتی ہے تاکہ وہ وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔اگر کوئی قوم دیگر اقوام کی برادری میں با وقار انداز میں رہنا چاہتی ہے تو اسے اتحاد یقین اور نظم و ضبط سے کام لینا ہو گا ۔ قومی آزادی اقتدار اعلیٰ اور وقار کا انحصار بڑی حد تک عوام کے رویوں پر ہوتا ہے ۔ بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک مضبوط اور پر اعتماد قوم بنانے کے لیے قائد اعظم نے اتحاد یقین اور نظم و ضبط کا نعرہ دیا۔ اس نعرے نے غیر منظم مایوس اور کمزور قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ۔وہ مسلم لیگ کے سبز جھنڈے تلے متحد ہوئے اور انہوں نے اپنی آزادی کی جدوجہد میں زبردست اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔جنوبی ایشیا کے مسلمانوںمیں اتحاد اور یکجہتی پیدا ہوئی تو اس کا بنیادی سبب قائد اعظم کا تاریخی نعرہ تھا ۔ وہ سیاسی تعلیمی معاشرتی اور دیگر شعبوں میں منظم ہوئے اور اپنی منزل کو پانے میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔
یہ خطابات ہیں جو قائد نے اپنی قوم کو دیے ۔مگر افسوس کہ ہم نے ان فرمودات کو بھلا دیا ۔جن لوگوں نے اور جب تک یاد رکھا اور ان پر عمل پیرا رہے ۔تو کامیاب رہے ۔کاش آج کے طلبائ بھی ان جیسے جذبات اپنے اندر پیدا کر لیں ۔تو یہ ملک واقع حقیقی معماروں کے ہاتھوں ۔دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے ۔اور یہ تعمیر بھی نئی جدت کے مطابق ہو گئی ۔اپنے نہج کو یاد کر لیں اور اس کو اپنا لیں ۔ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اپنی ایک پہچان ہو ۔جس سے دوسرے متاثر ہوں ۔
آج کی نسلِ نو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اسلامی تہذیب و تمدن کا پرچار کریں سب سے پہلے اس کو خود اپنائے ۔دوسروں کے لیے ایک نمونہ بنے ۔
عوام الناس تو رہی ایک طرف ہمارے موجودہ حکمرانوں کے ہر قول و فعل میں ہمارے اکابرین کے فرومودات میں بہت زیادہ تضاد ہے ۔اور ان کو صراط مستقیم پر لانے کے لیے بھی ہماری نسلِ نو کو مثبت سوچ و فکر کی اشد ضرورت ہے ۔اور مثبت انداز فکر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے نہج کو نہ اپنا لے اپنی تہذیب و تمدن کو مکمل اپنے اوپر حاوی نہ کر لیں ۔اور جب یہ چیزیں پیدا ہو جایں گئی تو مثبت انقلاب بھی آ جائے گایہ خطابات ہیں جو قائد نے اپنی قوم کو دیے ۔مگر افسوس کہ ہم نے ان فرمودات کو بھلا دیا ۔جن لوگوں نے اور جب تک یاد رکھا اور ان پر عمل پیرا رہے ۔تو کامیاب رہے ۔کاش آج کے طلبائ بھی ان جیسے جذبات اپنے اندر پیدا کر لیں ۔تو یہ ملک واقع حقیقی معماروں کے ہاتھوں ۔دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے ۔اور یہ تعمیر بھی نئی جدت کے مطابق ہو گئی ۔اپنے نہج کو یاد کر لیں اور اس کو اپنا لیں ۔ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اپنی ایک پہچان ہو ۔جس سے دوسرے متاثر ہوں ۔
آج کی نسلِ نو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اسلامی تہذیب و تمدن کا پرچار کریں سب سے پہلے اس کو خود اپنائے ۔دوسروں کے لیے ایک نمونہ بنے ۔
عوام الناس تو رہی ایک طرف ہمارے موجودہ حکمرانوں کے ہر قول و فعل میں ہمارے اکابرین کے فرومودات میں بہت زیادہ تضاد ہے ۔اور ان کو صراط مستقیم پر لانے کے لیے بھی ہماری نسلِ نو کو مثبت سوچ و فکر کی اشد ضرورت ہے ۔اور مثبت انداز فکر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے نہج کو نہ اپنا لے اپنی تہذیب و تمدن کو مکمل اپنے اوپر حاوی نہ کر لیں ۔اور جب یہ چیزیں پیدا ہو جایں گئی تو مثبت انقلاب بھی آ جائے گا
ایک موقع پر قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ وہ قوم کبھی اپنے آپ کو آزاد نہ سمجھے جو دوسری قوموں کی مقلد ہو جو اپنی ثقافت کو چھوڑ کر دوسروں کی ثقافت اپنا لے وہ تو حقیقت میں غلام ہے ۔کسی کے طریقہ تہذیب و تمدن کو نہیں اپناتا بلکہ اس نے غلامی کی زنجیر اپنے گلے میں ڈال لی ۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم کو ہمارا وہ ،ماضی یاد دلا دے جب ہم نے اس ملک کے حصول کے لیے کوششیں شروع کرتے وقت ایک اسلامی ریاست اور اس میں مکمل اسلامی زندگی گزارنے کا عہد کیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں  نکیل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker