امجد قریشیتازہ ترینکالم

حکومت عوام کو کیسے خوش کرتی ہے ؟

amjadیہ گیارہ مئی 2013 کی ایک گرم سی شام تھی جب مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور پھر اپنی حکومت بھی بنالی، سب لوگ خوش تھے بلکہ کچھ زیادہ ہی خوش اور پرامید تھے کیونکہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے میاں برادران نے عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے جس بنا پر عوام مطمئن تھی کہ اب ہمارے تمام مسائل کا حل نکل آئے گا ،تھانوں کا کلچر تبدیل ہوکر پولیس عوام کی حقیقی خدمت گار بن جائے گی،عدالتوں میں ہرانسان کو انصاف ملے گا کسی غریب و لاچار کو انصاف کے حصول کیلئے در بدر دھکے نہیں کھانے پڑیں گے ہسپتالوں میں مریضوں کو تمام سہولیات بروقت میسر ہونگی کوئی اب کوئی مریض سسک سسک کر نہیں مرے گا ،تعلیم کا نظام بہترین ہوجائے گا ملک کا بچہ بچہ سکول جانے لگے گا تعلیم کادوہرا معیار ختم ہوکر پورے ملک میں امیر و غریب سب کیلئے یکساں تعلیمی نظام رائج ہوجائے گا ،بجلی کا بحران ختم ہوجائے گاحکومت تھر کول جیسے انمول منصوبے کو کسی سیاست کی نظر نہیں ہونے دے گی حکومت ہنگامی بنیادوں پر بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ لگا کر جلد از جلد عوام کو اس اذیت سے نجات دلادے گی اور یوں ملکی معیشت کا پہیہ برق رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہوجائے گا ،اس کے ساتھ ہی حکومت گیس بحران پر قابو پانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات اُٹھائے گیگیس کے نئے ذخائر دریافت کرنے کے نت نئے منصوبے شروع کرے گی،ترقی کے نئے جال بچھیں گے ملک سے بے روزگاری ختم ہوگی وہ نوجوان جو اعلیٰ تعلیمیافتہ ہونے کے باوجود دربدر ہیں اُن کیلئے حکومت روزگار کے مواقع مہیا کریگی اور یوں نوجوان نسل بے راہ روی سے بچ کر ملکی ترقی میں شامل ہوجائے گی۔ملک میں امن و امان کیلئے حکومت راست اقدام کریگی جس سے ملک میں خوف کی فضاء ختم ہوکر ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا۔
میرے پیارے ملک کے کسان تو خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے کہ کسان دوست حکومت وجود میں آچکی ہے جو پاکستان میں زرعی خوشحالی کیلئے سبز انقلاب لیکر آئے گی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں حکومت کسانوں کی ہر ممکن معاونت کریگی جدید زراعت کیلئے حکومت بھرپورمالی تعاون کریگی اور یوں ملکی زراعت پروان چڑھنے لگے گی جس کا فائدہ براہ راست ہمارے ملک کو ہوگا اور حکومت کسانوں کو اُن کی محنت کا بھرپور صلہ اُن کی خون و پسینہ سے تیار کی ہوئی فصلوں کو مارکیٹ ریٹ پر خرید کر کسان کو خوشحال بنادے گی،قصہ مختصر جتنے وعدے ن لیگ نے عوام سے کئے تھے اسی بناء پر ملک کی اکثریت مسلم لیگ ن کی حکومت سنبھالنے پر خوشی سے پھولی نہ سمار ہی تھی۔
خیر سے اب مئی 2015 چل رہا ہے اور اس حکومت کو اقتدار میں آئے دو سال ہوچکے ہیں لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ ہوائی باتوں کے سوا کوئی کام ہوتا تو نظر نہیں آ رہا ،پولیس کا نظام جو ں کا توں پڑا ہے رشوت لینا مظلوم کو ذلیل کرنا پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر جاری ہے ،وہی عدالتوں کا فرسودہ نظام انصاف میں تاخیر،ہسپتالوں میں جاؤ تو ڈاکٹر ہی موجود نہیں ڈاکٹر ہے تو دوا نہیں دوا میسر ہے تو مریض کو داخل کرنے کیلئے بستر موجود نہیں ۔
چھ مہینے یا سال میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کی تو میرا نام شہباز شریف والی بات اب پرانی ہوچکی جناب یہاں تو دو سال گزر گئے بجلی ہی پیدا نہ ہوسکی بلکہ اس بار تو سردیوں میں بھی شہروں میں چھ سے آٹھ اوردیہاتوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہی، یہ تو اللہ کا کرم ہے ابھی گرمی نے شدت اختیار نہیں کی،شنید ہے کہ اگر گرمی نے ایکسلیٹر پر پاؤں رکھ دیا تو محکممہ برقیات بھی لوڈشیڈنگ کے ایکسیلیٹرپر پاؤں رکھ دیگا۔گیس کا بحران بھی دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن اس بحران کے حل کی طرف سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا جا رہا،تعلیمی اخراجات اس قدر بڑھتے جا رہے ہیں کہ تعلیم غرباء کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔اور تو اور ملکی تاریخ میں پہلی بار کسانوں نے اپنے حقوق کیلئے سب سے بڑا احتجاج کیا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ روا رکھی ہوئی زیادتیوں کا کھل کر بیان کیا جس کی پاداش میں اُن پر بھرپور لاٹھی چارج بھی کیا گیا ۔
قارئین کرام جو دودھ کی نہریں اس دور حکومت میں بہہ رہیں ہیں اگر اُن کی تفصیل لکھی جائے تو صفحات بھی کم پڑ جائیں گے ،یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ملکی حالات دن بدن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں اور حکومت نیرو کی طرح چین کی بانسری بجا رہی ہے ،حکومتی رویے سے نہ تو اقتدار جانے کا خوف نظر آ رہا ہے اور نہ ہی خوف خدا ،بس زبانی کلامی باتیں زور و شور سے جاری ہیں ،خدارا بس کردیں عوام حال سے بے حال ہوچکی ہیں اب بھی وقت ہے کچھ عملی کام کرکے دکھادیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے کیونکہ اب عوام بہت زیادہ باشعور ہوچکی ہے اور باشعور عوام کو زیادہ دیر تک باتوں کے لولی پاپ سے خوش نہیں کیا جاسکتا ،حکومت وقت کی باتوں میں خوش کرنے والی حرکتوں اکبر اویسی کی زبانی وہ کہانی یاد آگئی جو لگتا ہے انہوں نے ہمارے حکمرانوں کیلئے سنائی تھی کہ۔۔۔۔۔۔
ایک بادشاہ تھا بادشاہ کے دربار میں ایک گانا گانے والا آیا اور اُس نے بہت اچھا گانا گایا ابادشاہ نے اُس گانے والے کہ گانے کو سن کر کہا اتنا اچھا گاتے ہوں اس کو ہیرے دے دوں،گانے والا خوش ہوا اور اچھا گانے لگا بادشاہ نے کہا اس کو موتی دے دو ں،گانے والا ااُس سے بھی اچھا گانے لگا بادشا ہ نے کہا اس کو اشرفیاں دے دوں، اور اچھا گانے لگا بادشاہ نے کہا اس کاسونا دے دووں اور اچھا گانے لگا تو بادشاہ نے کہا اس کو جاگیر دے دو الغرض وہ اچھا سے اچھا گاتا گیا اور بادشاہ اُس کیلئے انعامات کے اعلان کرتا رہا۔
وہ گانے والا خوش ہوکر اپنے گھر کو واپس گیا اور بیوی سے کہنے لگا ہ میرے گانے کی صلاحیت و قابلیت پر آج بادشاہ نے مجھے ہیرے دے دئیے موتی دے دئیے اشرفیاں دے دئیے زمین و جاگیر دے دی اور بہت سے انعام و اکرام کا اعلان کیا ،گانے والے کی بیوی بچے یہ سن کر خوش ہوگئے ، سب ہی بہت خوش ہوئے ایسے ہی ایک دن گزرا دو دن، تین، چار کرتے کرتے اسی طرح کئی دن گزر گئے نہ کوئی ہیرا ملا نہ کوئی اشرفی ملی نہ سونا ملا نہ کوئی زمین اور نہ ہی جاگیر تو پھر وہ گانے والا بادشاہ کے دربار میں گیا اور کہا،سرکار میں نے اتنا اچھا گایااور آپ میرے گانے سے خوش ہوئے جس پر آپ نے میرے لئے ہیرے موتی سونا اشرفیاں جاگیراتنے انعام و اکرام کا اعلان کیا مگر عرصہ بیت گیا کچھ بھی نہ ملا ،تو بادشاہ مسکراتا ہے اور مسکراتے ہوئے کہتا ہے یہ لینے دینے کی بات کہا سے آئی بابا تو نے میرے کان کو خوش کیا میں نے تیرے کان کو خوش کیا۔
کچھایسا ہی سلوک حکومت نے بھی اپنی عوام کے ساتھ روا کھا ہوا ہے ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker