تازہ ترینصابرمغلکالم

حکومت کا صنعتی شعبے کے لئے تاریخی پیکیج کا علان

پاکستان کو غلط،ذاتی مفادات پر مبنی اور کمیشن زدہ لوٹ مار پالیسیوں نے چاٹ لیا،وہ وہ فیصلے عوام پر تھوپے گئے عوام دشمن پالیسیوں کو اہمیت دی گئی یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم قدرتی وسائل کی بہتات اور دنیا کی سب سے بہترین افرادی صلاحیت سے مالا مال ہونے کے باوجودنہ تو معاشی مدیان میں ترقی کر پائے اور نہ ہی عوام کی حالت کوسکون زدہ کرسکے،جہاں ذاتی مفادات ہی ترجیحات ہوں وہاں قوم کا کہاں سوچا جائے گا۔موجودہ حکومت بر سر اقتدار آئی تومعاشی صورتحال آخری سانسوں پر تھی ملک ماضی کی طرح ان سانسوں کو بحال کرنے کے لئے بھی عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا گیا،فی زمانہ ہربنیادی چیز عوام کی رسائی سے باہر ہو چکی ہے، اب حکومت نے معاشی ڈھانچے کی بہتری کے لئے تاریخی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے جس سے امید بر آئی ہے کہ اس کے ثمرات عوام تک ضرور پہنچیں گے،وزیر اعظم عمران خان اور اس کی ٹیم نے صنعتوں کی بحالی پر ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل ترتیب دینے کے بعدوفاقی کابینہ سے منظور کرایا جسے عمران خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اناؤنس کیا،عمران خان نے اس پیکچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں صنعتکاری کے فروغ اور برآمدات جیسے اہم ترین شعبے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں ترین کمی، پیک آور کے اختتام اور25 اضافی بجلی استعمال کرنے پرقیمت میں کمی کا اعلان کیا اور کہا کہ برصغیر میں پاکستان میں پیدا ہونے والی بجلی بھارت اور بگلہ دیش کی نسبت کہیں زیادہ مہنگی ہے جس کی بنا پر ہماری صنعتوں کو کئی طرح کے چیلنج درپیش ہیں اسی وجہ سے ہم اس مسابقت میں پیچھے رہ جاتے ہیں،صرف 2013سے2015دو سالوں میں ہماری برآمدات اربوں ڈالر نیچے پہنچ گئیں،ہم نے اقتدر میں آتے ہی برآمدات کو بڑھانے کی بھرپور کوشش کی کیونکہ ملک معیشت اسی وقت بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے جب اس کی برآمدات کا حجم بہتر ہو،برآمدات ملکی محصول میں اضافے کی بنیادی اکائی ہیں اسی بنا پر ہم نے برآمد کنندگان کو بہت سی مراعات دیں اور بر صغیر میں پاکستان واحد ملک ہے جس کی برآمدات کورونا وبا ء کے اثرات سے تیزی سے باہر آئیں ویسے بھی ہم نے کورونا وبا سے بہتر حکمت عملی کے تحت اس وبا سے نبٹا جس کی ساری دنیا معترف ہے،عمران خان نے اس اہم اور تاریخی پیکیچ کے اعلان کے بعد امید طاہر کی کہ اب ہم ہماری برآمدات اور ہماری صنعتوں کو فروغ حاصل ہوگا،اس فیصلہ کے مطابق یکم نومبر سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی معمول سے زیادہ بجلی استعمال کرنااور آئندہ برس جون تک 50 فیصد رعائت دی جائے گی،تین سالوں تک ہرقسم کی صنعتوں کو25فیصد کم نرخوں پر بجلی کی فراہمی ہو گی،صنعتوں کے لئے پیک آور اور آف پیک کا تصور ختم کر دیا ہے،مصنواعت کے بڑھنے سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو گئی اور ہم اپنے عالمی قرضوں کی ادائیگی اور عوام کی حالت کو بہتر طور پر یقینی بنا سکیں گے،کورونا کی موجودہ دوسری لہر کی آمد کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہم اس وجہ سے کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے یہ ملک مجموعی طور ہر لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا،وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہاہم نے وزیر اعظم کی ہدایر پت یہ سخت فیصلہ کیابجلی کی قیمتوں میں کمی دے کر صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی لانے پر پالیسی تیار کی تاکہ معیشت بہتر اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں،اب صنعتی صارفین کو 24گھنٹے آف پیک آور کی قیمت پر بجلی فراہم کی جائے گی گذشتہ کئی دہائیوں ست کسی حکومت نے ایسا اقدام نہیں کیااور یہ ہو تا رہا کہ شام 7 بجے سے رات11بجے کے درمیان بجلی کی قیمت زیادہ کر دی جاتی،اب جس کسی کا بھی کنکشن 1۔بی2 اوربی3ہو گااسے آئندہ تین برس تک رعایت حاصل ہو گی، اس وقت پوری دنیا میں معیشت کی شرح نمو4فیصد ہے اس حوالے سے ہم مثبت سمت جا رہے ہیں ہمارے سیمنٹ کی فروخت،گاڑیوں،موٹر سائیکلوں،ٹریکٹر،کھاد،ٹیکسٹائل اوت تعمیراتی شعبہ سے وابستہ اور دیگر بڑے پیمانے کی صنعتوں میں تیزی آئی مگر لاگت زیادہ ہونے کی بنا پر ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے تھے اس لئے ضروری سمجھا کہ ان کی پیداوار کو بہتر پوزیشن پر لانے کے حوالے سے بجلی لاگت کم کی جائے کیونکہ زیادہ تر صنعتیں پیک آور ز کے دوران بند کر دی جاتی تھیں اب تمام شفٹیں باقاعدگی سے چلا کریں گی،روز گار کے مواقع مزید بڑھیں گے اور بین الاقوامی منڈی میں ہماری برآمدات بہتر طور پر اپنا راہ بنا سکیں گی،مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بتایا ہم نے ملک میں معاشی استحکام لانے اور اس میں مزید بہتری کی خاطرانتہائی سخت فیصلے کئے ہم نے قابل ذکر امراء سے ٹیکس وصول کئے کورونا وبا سے قبل ٹیکس کولیکشن میں 17فیصد ریکارڈ اضافہ ہو چکا تھا،ہم نے گذشتہ4ماہ کے دوران ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا،سول حکومت اور فوج کے اس اخراجات منجمد کئے گئے سابق حکومت کے دور میں ایکسپورٹ کی شرح صفر سے بھی کم رہی،اب بہتری کے فاصلے سامنے لائے ہیں پہلے بھی ہم نے ایکسپوٹرز کوبجلی،گیس اور قرضوں میں بہتری اور ٹیکسوں میں چھوٹ دی نہ ہی ماضی کی طرح کوئی سپلیمنٹری بجٹ ان پر لاگو کیا،اس وقت پاکستان 10بڑے ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں بہترین معاشی اصلاحات لائی گئیں اسی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہوا،ترسیلات زر سے متعلق پالیسیاں لائے،ہمارے ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ20روپے تھا جو تقریبا ختم ہو چکا ہے،وفاقی وزیر عمر ایوب اس موقع پر بتایا کہ سابق حکومت نے زیر زمین جو بم لگائے جن کی وجہ سے ہمیں مشکل ترین وقت ملا،راستہ کھٹن ہے مگر اب ہم اس سے نمایاں طور پر بہتری کی جانب گامزن ہیں پاور سکیٹر میں پاور اور پٹرولیم سیکٹر میں غلط اور عوام دشمن معاہدوں سے پاکستان کا معاشی طور پر بیڑہ غرق ہوا،ہماری 70فیصد بجلی برآمدی ایندھن جبکہ ہمارے پاس وہ وافرذخا ئر تھے جن سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی تھی، تاہم سابق حکومتوں اپنے لالچ اور لوٹ مار کی بدولت وہ معاہدے کئے جس سے ہمیں فی یونٹ24روپے میں خریدنا پڑتا اب ہم اسی طرح کے نئے معاہدے کئے ہیں جو صرف6روپے فی یونٹ ہے،ہم نے دو برسوں کے درمیاں ٹھیک طریقے وضع کئے اب متبادل منصوبہ بندی کے تحت 2025تک ہماری سستی بجلی پیداوار میں 25اور2030تک یہ پیداوار30فیصد تک پہنچ جائے گیاور ہم 18ہزار میگا واٹ پروڈکشن تک پہنچ جائیں گے اس کے علاوہ پن بجلی،تھرکول سے بھی 8سے10فیصد تک بجلی پیدا کی جائے گی جس کا مطلب ہے کہ س70سے80 فیصد ہماری توانائی کا حصول ہمارے وسائل سے ممکن ہو جائے گا،اسد عمر نے کہا کہ آج تاریخٰ دن ہے جس روز بجلی کو اس نوعیت سے صنعتوں کو فراہم کی جائے گی،کورونا وباء کی دوسری لہر آ چکی ہے جسے ہمیں بطور قوم روکنا اور پہلے کی طرح شکست دینا ہو گی تا کہ لوگوں کی روزگار پر اثر نہ پڑے،ہم اس حوالے سے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائیں اور ہماری کوشش ہو گی کہ عوام کو ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرا سکیں،امید ہے اب ان نئے اقدامات سے ہماری معیشت کا پہہ 24گھنٹے چلے گا،حکومت کا یہ فیصلہ بلاشبہ تاریخی اور انتہائی بہترین ہے جس پر اگر ٹھیک طرح عمل درآمد ہوا تو اس کے ہماری معیشت پر انتہائی دور رس نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ ماضی میں نجی پاور پلانٹس کے ساتھ شرمناک مہنگے ترین معاہدے کر کے روزانہ کی بنیاد پر اربوں روہے عوام کی جیبوں سے نکال کر انہیں کنگال کر دیا گیا اندازہ کریں روزانہ کتنے یونٹس بجلی پاکستان میں استعمال ہوتی ہے پن بجلی کے علاوہ باقی بجلی کی خریداری کے معاہدے18سے24روپے فی یونٹ ہیں حکومت ہمیں اوسطا14دے کر باقی رقم قومی خزانے سے ادا کرتی ہے اب قومی خزانے سے جانے والی رقم اور براہ راست بجلی بلوں کے ذریعے ادائیگی کن کی جیبوں سے نکلتی ہیں وہ ہیں عوام بیچارے عوام،اب ہماری یہی ٹیم اس بات کو بھی ہنگامی بنیادوں نہ صرف زیر غور لائے بلکہ اس پر سختی سے عمل بھی کروائے کہ مہنگائی کی تشویشناک لہر پر قابو پایا جا سکے،

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا افتتاح کر دیا

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker