تازہ ترینکالم

ہلا گلا

rizwan khanخوب رونق لگی ہوئی ہے جب سے رپورٹ آئی ہے۔ کچھ لوگ دکھی ہیں کچھ خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ نیوٹرل عوام زِیر لب مسکرا رہی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں ہر ایک سوچ الگ ریمارکس الگ۔ پی ٹی آئی بھلے ہی ووٹوں کے اعتبار سے دوسری بڑی پارٹی ہے مگر اس میں شامل تمام لوگ پارٹی سربراہ سے لے کر ورکر تک خوش فہموں کا ٹولہ ہے۔ ہائپ ٹی وی چینل دیتے ہیں باقی کی عوام نئے پاکستان کی آرزو میں خوش فہمی کی ہر حد پار کرجاتے ہیں۔ اس چیخ و پکار میں سوشل میڈیا کا کردار بھی کسی بندر سے کم نہیں جو دو بلیوں کے درمیان روٹی کی منصفانہ تقسیم پر مامور ہے ۔ اس کی تقسیم بڑی دلچسپ ہے یہ ہر ایک کو میرٹ کیمطابق انصاف دیتا ہے ۔ ہم ذرا سا یاد کی ریل کو ریوائنڈ کرتے ہیں ۔ ریمنڈڈیوس کا واقعہ سب کو یاد ہوگا ۔ کیا ہم پاکستانی اور کیا تھا ہمار ا اسٹینڈ۔ واقعہ تو ہم سب کو یاد ہے کہ پوری عوام امریکہ کی زیادتیوں کا بدلہ فرد واحد سے لینے پر تلی ہوئی تھی ۔ ٹی وی چینل بھی چاہ رہے تھے کہ بس اب ہمیں اس فرد کے جرم کو بیس بنا کرامریکہ پر چڑھ دوڑنا چاہیے۔میرے یار دوست بھی چسکے لینے کے لئے میرے پاس آکر کہتے کہ یہ امریکی توہم پھانسی پہ چڑھاکر ہی چھوڑیں گے ۔ مجھے تمام صاحبان سوچ کے لحاظ سے قطعی معذور محسوس ہوتے ہیں ۔ میں انہیں امریکہ اور پاکستان کا فرق آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا کہ بھلا تھانیدار اور پنڈ کے جورے میراثی کا مقابلہ ہوسکتا ہے ۔ پورا پنڈ اگرجورے میراثی کو دن رات پمپ مار مار کر تھانیدار کے سامنے لا بھی کھڑا کرے تب بھی تباہی جورے کا ہی مقدر بنے گی۔ اس مثال سے مطمئن نہ ہوتے تو میں انہیں اس سے ملتی جلتی کوئی اور مثال دے کر زمینی حقائق سمجھانے کی کوشش کرتا۔ مجال ہے جذباتی لوگ کوئی بات سننے یا سمجھنے پر راضی ہوتے۔ قوم کرکٹ میچوں میں مست ہوگئی یہ خیال سوچ کر کہ ٹڈی جتنے کمزور امریکہ کی کیا حیثیت کہ اپنابندہ ہم سے چھڑالے جائے۔ عوام کرکٹ میں مست رہی اور کسی کو کچھ پتا نہ چلا کہ کب لواحقین بک گئے کس کس نے ضمیر کا کتنے میں سودا کرلیا ۔ جہاز جب اڑ گیا تو ہر طرف دو گھنٹے بعد نمائشی چیخ و پکار مچ گئی۔ ہر کوئی حیران و پریشان ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہاتھا ۔ جو مجرم کی رکھوالی پر مامور تھے وہ بھی بھولے بن کر معصومیت سجائے ادھر ادھر یہ کہتے بھاگ رہے تھے جو کرایا امریکہ نے کرایا۔ ویسے ہمارے ہاں تو کوئی بیوی سے مار بھی کھا کر آئے تو یہی کہتا ہوا پایا جاتا ہے کہ جو کرایا امریکا نے کرایا ۔ ہماری خوش فہمیوں کی دھول ایسے بیٹھ گئی ہے جسے کبھی اٹھی ہی نہیں تھی۔ ہماری اوقات ایک دفعہ پھر ہماری Createکی ہوئی ہائپ نے دنیا کے سامنے ایکسپوز کردی۔ خوش فہمیوں کے ہمالیہ ریت کے ٹیلوں کی طرح بکھرگئے۔ یہی کچھ ایان علی کیس اور دھاندلی کمیشن کے معاملے میں ہوا۔ کچھ لوگ ایان علی کو پی پی پی کے تابوت میں آخری کیل قرار دے رہے تھے کچھ کا خیال تھا کہ آصف علی زرداری کو ایان علی کیس کا بھنور نگل جائے گا۔ آئے روز کے ریمارکس بھی بھانبھڑ کو بکھا رہے تھے۔ رہی سہی کسر کو ایزپر روٹین میڈیا کور کر رہا تھا۔ میں تب بھی یار لوگوں کو روز اول سے سمجھا رہا تھا کہ یارو !مت ظلم کرو خود پر کیوں پھر سے اپنے ہی جلائے خواہشات کے الاؤ میں جلنے کی تیاری کر رہے ہو۔ مگر کہاں جی آگے سے جواب دیتے کہ میاں اس ملک میں اب عوام سے لے کرعدلیہ تک ہر کوئی آزاد ہے اب وہ دور گیا جب گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ ہر کوئی اپنی خواہشات کی ٹوکری کو نت نئی آرزؤں سے سجاتا رہا۔یہاں تک کہ خواب ٹوٹ گیا ۔ انڈوں کی ٹوکری گر گئی۔ تمام انڈے ٹوٹ گئے۔ ماڈل کی رہائی کے بعد اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تصویر ہم سب کو بتا رہی ہے کہ تم خوش فہم لوگوں کے ملک میں رہتے ہوئے سسٹم کو سمجھ نہیں سکے تم۔ھاری یہی نہ سمجھی لوگوں کے لئے نعمت بنی ہوئی ہے۔انصاف کی آدھی ناک تو محترمہ نے ہر پیشی پر ماڈلنگ کرکے کاٹ دی رہی سہی کسر محترمہ نے آزادی کی خوشی کے موقع پر بمعہ بوائے فرینڈ سیلفی اپ لوڈکرکے کردی ابھی محترمہ کی رہائی کے بعد خواہشات کے قبرستان سے چیخ و پکار آہی رہی تھی کہ جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ جاری کردی ۔نوجوان اس کیس کے بارے میں بھی حد سے زیادہ خوش فہمی کا شکار تھے آئے روز کے ریمارکس ان کے جذبہ شوق کو بڑھاتے رہے بد انتظامی کا لفظ جب ٹی وی سکرین کی زینت بنا تب سے بھولے بھالے پی ٹی آئی والے یہ قیاس کرکے لمبی تانے سو رہے تھے کہ اب تو حکومت کا جانا چند دن اور فیصلہ آنے تک کی بات رہ گئی ہے ۔میں پہلے دن سے ہی کہہ رہا تھا کہ جن کے زیر انتظام یہ بد انتظامی ہوئی ہے وہ اس کاہار بھلا کب اور کیسے اپنے آپ کوپہنائیں گے۔ موجودہ حکومت کے سربراہان کے عدلیہ پر احسانات کا ٹوکرا بھی کافی بھاری ہے ۔ خواب دیکھنا جرم نہیں خواب دیکھتے وقت یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ جو خواب دیکھتے ہیں انہیں خوابوں کے عذاب بھی دیکھنے پڑتے ہیں ۔یہ بھی احسان عظیم ہے کہ بد انتظامی کا لفظ استعمال کرنے کی توفیق عطا ہوگئی وگرنہ تو غیر جانبدارانہ منصفانہ اور شفاف جیسے الفاظ ہر رپورٹ کے لئے بڑے موزوں اور پاپولر ہوتے ہیں۔ ان لفظوں کو ٹانکے بغیر رپورٹوں کی تکمیل نہیں ہوتی ۔خوش فہمیاں فرسٹریشن کو جنم دیتی ہیں اور جب فرسٹریشن حد سے بڑھ جائے تو یہ سوشل میڈیا پہ بد مست ہاتھی کی طرح سب کی عزت روند ڈالتی ہے ۔ٹوئیٹس مزاحیہ خاکے اور ریمارکس ہیں کہ ہر روز ایک سے بڑھ کر ایک منظر عام پر آ رہا ہے۔کسی پرانگلیاں تب ہی اٹھتی ہیں جب کوئی نیا چن چڑھا دے ۔سسٹم دو واضح حصوں میں بٹ چکا ہے۔ایک وہ جوان اور خواتین ہیں وہ پڑھا لکھا طبقہ ہے جو ہر شے میرٹ کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے ۔یہ سب عمران خان کو امید کے طور پر کیش کروا رہے ہیں ۔اگر یہ امید دم توڑ گئی تو یہ نئی امید تراش لیں گے۔دوسرا وہ اولڈ لاٹ اور طبقہ ہے جومصلحتوں کے تاروں میں الجھا ہوا ہے۔جو تبدیلی کو محض عمران خان کا نعرہ سمجھ رہے ہیں ۔تبدیلی کا اگر درست جائزہ لینا ہو تو کسی پڑھے لکھے نوجوان سے دھاندلی کیس پر ریمارکس لے لیں ۔اس کا ایک ہی جواب ہو گا کہ ہم اس فرسودہ سسٹم کو ختم کر کے ہی دم لیں گے۔ایک نوجوان تو یہاں تک کہہ رہا تھا کہ تھانے اور عدالتیں بند کر دینی چاہےءں ۔پوچھنے پر وجہ بتائی کہ جو پولیس عوام کو پروٹیکشن دینے کی بجائے بھنبھوڑنے پر مامور ہو جن عدالتوں سے انصاف نہ ملتا ہو ایسے محکمے عوامی ٹیکس منی پر بوجھ ہیں ۔اس آف لوڈ ہی کر دینا ہی بہتر ہے ۔جنگل میں بھی ایک قانون ہوتا ہے طاقت کا قانون Might is right law قانون جیسا بھی ہو کم از کم ڈکلےئرڈ ہو۔ہماری عدالتیں اسلام کے اصول انصاف سے کوسوں دور ہیں۔دنیا ہر دن ہر منٹ بدلتی جا رہی ہے چیزیں بدلے بغیر چارہ نہیں ۔تبدیلی ایسی بلا ہے جو اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو ایسے نگل جاتی ہے جیسے ہمارے دریا آجکل ہمارے دیہاتوں کو ۔ہم نے موسمیاتی تبدیلی کو آنر نہیں کیا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔سوشل میڈیا پر عوام کے تھوڑے لکھے کو زیادہ جان کر چیزوں کو بدل لینے میں ہی عافیت ہے

یہ بھی پڑھیں  ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا‘‘

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker